Saturday , August 19 2017
Home / Top Stories / پیرس حملوں کا اہم ملزم صالح عبدالسلام گرفتار

پیرس حملوں کا اہم ملزم صالح عبدالسلام گرفتار

بلجیم میں تین اہم گرفتاریوں سے تحقیقات میں پیشرفت ، اولاند اور اوباما کا خیرمقدم
برسلز ۔ 19 مارچ ۔(سیاست ڈاٹ کام) بلجیم پولیس نے پیرس حملوں کے ماسٹر مائنڈ اور اہم معاون صالح عبدالسلام سمیت 3 ملزمین کو گرفتار کرلیا۔ واضح رہے کہ گزشتہ 13 نومبر کو پیرس میں 6 مقامات پر حملے کئے گئے تھے، حملہ آوروں اور سکیورٹی فورسز میں 4 سے 5 گھنٹے تک مقابلہ جاری رہا اور 14 نومبر کو رات 1:00 بجے تمام حملہ آوروں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا گیا، ان حملوں میں 130 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ بلجیم پولیس نے مولن بیک کے علاقے میں ایک فلیٹ پر اُس وقت چھاپہ مارا جب تحقیقات کاروں کو فنگر پرنٹس کی مدد سے عبد السلام کی موجودگی کی پتہ چلا۔چھاپے کے دوران پولیس اور فلیٹ میں موجود افراد میں فائرنگ کا تبادلہ ہوا جبکہ 2 دھماکے بھی سنائی دیئے۔ فائرنگ کے دوران پیرس حملوں کے ماسٹر مائنڈ عبدالسلام کے زخمی ہونے کی بھی اطلاعات سامنے آئیں۔ پولیس نے صالح کو گھٹنے پر گولی ماری، بعد ازاں اس کو حراست میں لے لیا گیا۔26 سالہ صالح عبدالسلام کے ہمراہ گرفتار ہونے والوں میں منیر احمد ایلاج بھی شامل ہے جو بلجیم حکام کو مطلوب تھا۔

صالح عبدالسلام پر حملوں کا سہولت کار ہونے کا الزام ہے اور رپورٹس کے مطابق اُس نے ہی حملہ آوروں کو گاڑی میں اس مقام تک پہنچنے میں مدد کی تھی، بعد ازاں اس کی ایک ویڈیو بھی سامنے آئی تھی جس میں حملوں کی اگلی صبح صالح کو فرانس سے بلجیم میں داخل ہوتے ہوئے بارڈر پر ایک پیٹرول پمپ پر دیکھا گیا تھا۔صالح بھی بلجیم کا شہری ہے، اسے پیرس حملوں کا ماسٹر مائنڈ مانا جاتا ہے جبکہ اس کے ہمراہ بلجیم کے ایک اور شہری عبد الحامد اباعود کو بھی ماسٹر مائنڈ قرار دیا جاتا ہے، عبد الحامد اباعود فرانس میں ہونے والے حملوں کے 5 روز بعد پیرس میں ہی ہونے والے ایک آپریشن میں ہلاک ہو گیا تھا، اس کے ہمراہ ایک خاتون حسنہ آیت بوالحسن بھی ماری گئی تھی،

جو صالح عبد السلام کی کزن تھی۔واضح رہے کہ بلجیم کا ایک اور شہری محمد عبرینی بھی تاحال مفرور ہے، محمد عبیرنی بھی اُس کار میں دیکھا گیا تھا جو پیرس حملوں میں استعمال ہوئی تھی، بلجیم کے حکام محمد عبرینی کی گرفتاری کے بین الاقوامی وارنٹ جاری کر چکے ہیں،تاہم اس حوالے سے تاحال کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔فرانس کے صدر فرانسو اولاند نے صالح عبد السلام کی گرفتاری کو اہم پیش رفت قرار دیا، تاہم ان کے مطابق اب بھی اس واقعے کے حوالے سے تاحال حتمی نتیجے تک نہیں پہنچا جا سکا ہے۔فرانسو اولاند کے مطابق ہمیں ان تمام افراد کو پکڑنا ہوگا جنہوں نے حملوں میں مدد کی، سہولت کار تھے یا کسی بھی طرح انہوں نے حملوں میں معاونت کی۔امریکہ نے بھی گرفتاری کا خیرمقدم کیا۔

TOPPOPULARRECENT