Friday , August 18 2017
Home / Top Stories / پیرس حملوں کی بیرون ملک منظم منصوبہ بندی اور تیاری

پیرس حملوں کی بیرون ملک منظم منصوبہ بندی اور تیاری

کنسرٹ ہال حملہ آور کی عمر اسماعیل مصطفی کی حیثیت سے شناخت، 7 حملہ آوروں کے منجملہ 6 نے خود کو دھماکہ سے اڑالیا

عمر اسماعیل کے والد، والدہ اور بھائی گرفتار
چھوٹے مجرم سے قتل عام کرنے والا جہادی نوجوان
پیرس۔15 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) فرانس کی پولیس نے پیرس کے بٹاکلان کنسرٹ ہال پر خود کو دھماکہ سے اڑادینے والے ایک بندوق بردار کی شناخت پیرس کے شہری 29 سالہ عمر اسماعیل مصطفی کی حیثیت سے کی ہے۔ حملہ آور نے یہاں پر خونریز دھماکہ کرتے ہوئے 89 افراد کو ہلاک کیا تھا۔ اس کے والد اور 34 سالہ بھائی کو پولیس نے اپنی تحویل میں لے لیا ہے۔ تحقیقات کرنے والوں کے قریبی ذرائع نے بتایا کہ تحقیق کنندگان نے اب اس کے دیگر دوستوں اور رشتہ داروں کی مکانات کی تلاشی شروع کردی ہے۔ عمر اسماعیل مصطفی جس کی شناخت کی توثیق ہوچکی ہے، اس کی انگلیوں کے نشانات سے پتہ چلا کہ حملہ اس نے کیا ہے۔ اس کے تعلق سے کہا گیا ہے کہ وہ جنگجو تنظیم دولت اسلامیہ سے قریبی تعلق رکھتا تھا لیکن اس کا اب تک دہشت گردی سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ حملہ آور باقاعدہ تربیت یافتہ اور نشانہ باز تھے۔ اس بات کا پتہ چلایا جارہا ہے کہ آیا ان حملہ آوروں نے شام میں جنگ میں حصہ لیا تھا یا نہیں جہاں پر دولت اسلامیہ (آئی ایس) نے پڑوسی ملک عراق میں اپنے خلیفہ کا اعلان کیا ہے۔

پیرس پر کئے گئے حملوں کی منصوبہ سازی بیرون ملک کی گئی تھی۔ فرانس میں رہنے والے شہریوں سے مدد حاصل کرتے ہوئے اس منصوبہ کی تیاری کی گئی تھی۔ صدر فرانس فرینکویس ہولین نے کہا کہ فرانس کی پولیس نے پہلے حملہ آور کی شناخت کی ہے۔ 3 بندوق برداروں کی ٹیم میں سے ایک تھا۔ اس نے پیرس میں حملہ کرنے سے قبل علاقہ کا جائزہ لیا تھا۔ ان حملہ آوروں نے 129 افراد کو ہلاک کیا اور سینکڑوں زخمی ہوئے ہیں۔ اسلامک اسٹیٹ گروپ نے فرانس کے دارالحکومت کے مقبول ترین نائٹ کلبس اور مقامات کو نشانہ بنایا ہے۔ ان مقامات میں سول آئوٹ کنسرٹ ہال بھی شامل ہے۔ اس کے علاوہ حملہ آوروں نے ریسٹورنس اور شراب خانوں کو بھی نشانہ بنایا۔ فرانس کے قومی اسٹیڈیم کے باہر بھی حملہ کیا تھا۔ 7 حملہ آوروں میں سے 6 نے خود کو دھماکے سے اڑایا اور ایک کو پولیس نے گولی مارکر ہلاک کیا۔ سرزمین فرانس پر خودکش بم حملوں کا یہ پہلا بھیانک واقعہ تھا۔ جنوری میں پیرس کے اندر ایک اور حملہ ہوا تھا جس میں 17 ا فراد ہلاک ہوئے تھے۔

حملہ آوروں کے بارے میں سکیوریٹی سرویسس کو کچھ پتہ نہیں چلا۔ فرانس، بلجیم، یونان اور جرمنی میں تحقیقات کرنے والوں نے اب یہ پتہ چلانے کی کوشش شروع کی ہے کہ یہ حملہ آور کہاں سے تعلق رکھتے ہیں اور انہوں نے نہایت ہی منظم طریقہ سے بڑے پیمانے پر ساجھیداری کے ساتھ اس طرح کے حملے کیوں اور کس لئے کیئے؟ بلجیم کی پولیس نے پیرس حملوں کے سلسلہ میں کئی افراد کو گرفتار کیا ہے ان میں ایک وہ شخص بھی شامل ہے جو حملوں کے وقت فرانس کے دارالحکومت میں موجود تھا۔ وزیر انصاف کوئن گینس کا کہنا ہے کہ یہ گرفتاریاں ایک گرے پولو گاڑی کی دستیابی کے بعد ہوئے ہیں جو بلجیم میں کرایہ پر لی گئی تھی۔ یہ گاڑی بٹاکلان کنسرٹ ہال کے قریب پائی گئی۔ ان گرفتاریوں کے تعلق سے مقامی میڈیا نے کہا ہے کہ تین افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔

یہ تینوں افراد بریسلس ڈسٹرکٹ کے مولوندک مقام سے گرفتار کیا گیا۔ یہ لوگ یورپ میں دیگر دہشت گرد منصوبے بنانے میں ملوث ہیں۔ بلجیم کی پولیس کا کہنا ہے کہ یہاں کے شہریوں کی کثیر تعداد یورپ میں دولت اسلامیہ کے لئے لڑرہی ہے۔ ان حملوں کی تحقیقات کا آغاز ہوچکا ہے۔ پیرس کے استغاثہ فرینکویس مولینس نے ایک علیحدہ بیان میں بتایا کہ جمعہ کے دن کئے گئے حملوں میں استعمال کردہ گاڑیوں میں سے ایک گاڑی بلجیم کی رجسٹرڈ شدہ ہے اور وہاں رہنے والے ایک فرانسیسی شہری نے اسے کرایہ پر حاصل کیا تھا۔ پیرس میں عینی شاہدین نے بتایاکہ بعض حملہ آور بلجیم کی نمبر پلیٹ والی کار کے ساتھ یہاں پہنچے تھے۔ پیرس کے استغاثہ نے مزید بتایا کہ انہوں نے حکام کو 2010ء میں توجہ دلائی تھی کہ جنگجو گروپ دہشت گرد حملوں کا جال پھیلاتے ہوئے منصوبوں پر عمل کرنے کی تیاری کررہا ہے۔ یہ حملے پاگل پن اور ہیجان انگیزی کی علامت ہیں۔ حملہ آور کی والدہ نے بتایا کہ دہشت گرد حملے پاگل پن والے ہی کرتے ہیں۔ حملہ آور کی والدہ نے جسے اس کے والد کے ہمراہ کل رات گرفتار کیا گیا تھا، گلوگیر آوا ز میں اپنا بیان دیا اور کہا کہ کل میں پیرس میں تھی میں نے یہ قتل عام دیکھا۔ کل آن لائین پر پیش کردہ بیان میں آئی ایس نے ان حملوں کی ذمہ داری قبول کی تھی اور شام میں آئی ایس پر کئے گئے فرانس کے فضائی حملوں کا بھی حوالہ دیا گیا۔ یہ گروپ شام اور عراق میں بڑے پیمانے پر حملے کرنے یا قتل عام کی ذمہ دار ہے۔ اس نے فرانس میں مزید حملے کرنے کی دھمکی دی ہے اور یہ حملے اس وقت جاری رہیں گے جب تک کافروں کے خلاف ان کی مہم ختم نہیں ہوتی۔ عمر اسماعیل مصطفی کے بارے میں پولیس نے بتایا کہ یہ نوجوان صرف ایک چھوٹے سے جرم میں ملوث تھا لیکن جمعہ کے دن ہوئے قتل عام میں اس کی شناخت کے بعد اسے خطرناک جہادی نوجوان سمجھا جارہا ہے۔ 21 نومبر 1985 کو پیرس کے مضافاتی علاقہ میں پیدا ہونے والے مصطفی کا کریمنل ریکارڈ  بتاتا ہے کہ اس پر چھوٹے جرائم کے 8 کیس درج ہیں۔ 2004 تا 2010 کے درمیان اس نے یہ جرم کئے تھے۔ لیکن اسے جیل کی سزاء نہیں ہوئی تھی۔

TOPPOPULARRECENT