Monday , September 25 2017
Home / مضامین / پیرس سے استنبول تک داعش کی شرانگیزی

پیرس سے استنبول تک داعش کی شرانگیزی

غضنفر علی خان
عراق اور شام میں سرگرم گروہ داعش جس کو عام طور پر آئی ایس آئی ایس کہا جاتا ہے، مذہب اسلام کو بہت کم عرصہ میں جس قدر بدنام کیا اس کی عصری تاریخ میں کوئی مثال نہیں ملتی۔ طالبان، القاعدہ ، بوکو حرام نے جو اس قسم کے ایجنڈہ پر کام کرتی ہیں بہت کچھ رسوائی اسلام کے سر ڈالی ہے لیکن آئی ایس آئی ایس نے رسوائی کے سارے ریکارڈس توڑ ڈالے۔ پیرس پر حملہ کے بعد ایک مسلم ملک ترکی کے شہر استنبول کی بے حد مصروف اور آباد مقام پر اس کے حملے نے کم از کم 10 افراد کو ہلاک کردیا اور کئی ایک کو زخمی کردیا۔ ترکی کے شہر استنبول میں کیوں یہ سانحہ ہوا اس کی وجہ کچھ اور نہیں سوائے اس کے کہ دہشت پسندی، قتل و غارت گری کے علمبردار اس گروہ نے جو عراق میں خلافت کا دعویٰ کرتا ہے، وہی کیا جو شدت پسند اور انتہا پسند کرتے ہیں جو اپنے کسی بھی حملہ میں کچھ حاصل نہیں کرسکتے۔ البتہ خون ریزی سے ساری دنیا میں اس تاثر کو گہرا کررہے ہیں کہ اسلام دہشت پسندوں کا مذہب ہے۔ اس گروپ کی مخالفت بھی عالم اسلام کررہا ہے

لیکن یہ مخالفت اس لئے بھی مؤثر نہیں ثابت ہورہی ہے کہ مغربی ممالک کے طاقتور میڈیا عالم اسلام کی بات کی نہ تو ایسی تشہیر کررہا ہے جیسی کہ ہونی چاہئے اور نہ عالم اسلام نے آئی ایس آئی ایس کی تباہ کن کارروائیوں کے خلاف اپنی رائے کا اظہار اتنے مؤثر انداز میں کیا ہے۔ اس بحث میں اُلجھے بغیر کہ آئی ایس آئی ایس کی انسان دشمن سرگرمیوں کی مغربی الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کیوں اتنی تشہیر کررہا ہے اور کیوں اسلام دوست ممالک علمائے دین، صاحب عقل اس کی مخالفت کررہے ہیں۔ ہمیں یہ سوچنے کی ضرورت ہے کہ ہم (اہل اسلام) نے آئی ایس آئی ایس کی مخالفت میں کیوں دفاعی موقف اختیار کیا ہے۔ استنبول کی خون ریزی میں جو 10 ہلاکتیں ہوئی ہیں ان میں 9 جرمن نژاد باشندے تھے۔ ترکی باشندے نہیں تھے۔ آخر کتنے مغربی ممالک کو آئی ایس آئی ایس اپنی انسان دشمن حرکات سے دشمن بنانا چاہتے ہیں۔ مغربی ممالک تو پہلے ہی سے اسلام دشمنی ہیں ان کی اس اسلام مخالفت کو نئی آکسیجن کیوں فراہم کی جارہی ہے۔ اگر ان ممالک پر داعش کا خوف طاری ہورہا ہے شہر شہر ہائی الرٹ کیا جارہا ہے، کئی ممالک نے اپنے باشندوں کو عراق و شام کا دورہ نہ کرنے کی ہدایت کی ہے تو اس سے بھی اس گروپ کو کوئی فائدہ ہونے والا نہیں ہے۔ اسلام کا مزاج سمجھے بغیر اس کی آفاقیت کو جانے بغیر آئی ایس آئی ایس خود کو کیوں خلافت کا ٹھیکہ دار سمجھتی ہے۔ اسلامی مملکت کے خلفاء تو انتہائی نرم گو، نرم خو اور وسیع النظر ہوا کرتے تھے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اسلامی خلافت کی ابجد سے بھی یہ لوگ ناواقف ہیں۔ نہ تو انھوں نے تاریخ اسلام کا مطالعہ کیا ہے اور نہ اسلامی تعلیمات ہی سے واقف ہیں۔ اسلام کی تعلیمات میں ایک تعلیم یہ بھی ہے کہ ’’عفو و درگزر سب سے اچھا انتقام ہے‘‘ یہاں تو ہر بات پر خواہ وہ معقول ہویا نہ ہو معصوم افراد کا قتل عام کیا جاتا ہے۔

خواتین کو زبردستی اپنے تصرف میں لاکر ان سے مسلسل زنا کیا جاتا ہے جو نوجوان داعش سے متاثر ہوتے ہیں انھیں اس بات کا بھی علم نہیں کہ کسی خاتون کا احترام کرنا مذہب اسلام میں لازم ہے۔ جو گروہ زنا کو جائز قرار دے اس کو مسلم گروپ کہنے کا کیا جواز ہے۔ جو معصوم و بے قصور کا قتل عام کرے اس کے مسلمان ہونے کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا ہے۔ یہ ساری حرکتیں ’’داعش‘‘ سے وابستہ لوگ کررہے ہیں۔ اس غیر اسلامی اور قطعی حرام کاموں کو انجام دینے والوں کو خلیفہ سمجھ کر ان کی صفوں میں شامل ہونے والے، ان سے ہمدردی رکھنے والے بھی گناہ گار ہوں گے۔ ترکی ایک مسلم ملک ہے۔ دفاعی اعتبار سے مضبوط ہے۔ باقاعدہ حکومت ہے۔ اسلامی ذہن و فکر والے لوگوں کے ہاتھوں میں قیادت ہے۔ پھر کیا وجہ ہے کہ استنبول جو ہر اعتبار سے اسلامی تہذیب و ثقافت کا مرکز ہے، اس کے کسی مقام پر حملہ کیا جاتا ہے۔ اب تک جتنی حرکتیں، جتنے ہلاکت خیز حملے آئی ایس آئی ایس نے کئے ہیں، جہاں جہاں ان کی تباہ کاریاں ہوئی ہیں، کیا ان ممالک اور ان مقامات پر اسلامی پرچم لہرادیا گیا۔ کیا اسلام کے بارے میں وہاں کے لوگوں کی رائے بہتر ہوگئی۔ افسوس کہ کسی فائدہ کے بغیران اندھا دھند کارروائیوں نے اسلام کو ساری دنیا میں بدنام کردیا۔ آج دنیا کے کئی ممالک ہیں جن کی رائے اسلام کے بارے میں مثبت اور معقول تھی لیکن اب یہی رائے بدلتی جارہی ہے۔

آئی ایس آئی ایس (داعش) کو بھلا اسلام کی رسوائی سے کیا تعلق ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ اسلام کو رسوا کرنے کے لئے ہی وجود میں آئی ہے۔ ہر دور میں اسلام دشمن رہے ہیں لیکن اسلام کے نام پر اس دین مبین کو بدنام کرنے کا کام جس طرح داعش کررہا ہے اس کی کوئی مثال عصری تاریخ میں نہیں ملتی۔ آئی ایس آئی ایس کی حقیقت سے ناواقفیت بھی اس کی ایک وجہ ہے۔ بہت سے لوگ یہ نہیں جانتے کہ ’’وہ لوگ جو اس کی صفوں میں جارہے ہیں انھیں قریب سے آئی ایس آئی ایس کو دیکھنے کا موقع ملتا ہے یہ جان کر حیرت زدہ ہوجاتے ہیں اور وہاں سے راہ فرار اختیار کرنے کی کوشش کررہے ہیں جب فراری کی کوشش میں ناکام ہوجاتے ہیں تو مجبوراً انھیں خودکشی کرنی پڑتی ہے۔ بی بی سی کے خصوصی نمائندہ برائے مشرق وسطیٰ مسٹر پال ووڈ نے اپنے ایک خصوصی انٹرویو میں کہا ہے کہ آئی ایس آئی ایس کی طرف سے لڑنے والے 40 فیصد لڑاکا سپاہی جن کا تعلق بیرونی ممالک سے ہے اس کو چھوڑنا چاہتے ہیں، لیکن راہ فرار کی صورت میں انھیں موت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ گزشتہ سال کے آخری 6 ماہ کے دوران ایسے 400 بیرونی جنگجوؤں کو داعش کے کرتا دھرتا لوگوں نے سزائے موت دی اور یہ سب کے سب بیرونی باشندے تھے۔ ایک اطلاع یہ بھی ہے جو مصدقہ ہے کہ ایشیائی ممالک کے جو سپاہی داعش میں شرکت اختیار کررہے ہیں انھیں ناکارہ قرار دے کر معمولی کام جیسے ہتھیار صاف کرنے پر لگادیا جاتا ہے۔ داعش میں شرکت کرنے والے نادانوں میں صرف مسلم ممالک کے نوجوان ہی نہیں ہیں بلکہ برطانوی نژاد بھی اس میں شامل ہیں۔ گزشتہ مہینے دو برطانوی نسل کی خواتین اور ایک مرد کو داعش کے کمانڈروں نے فرار کی کوشش کی پاداش میں موت کے گھاٹ اُتار دیا۔ اس ظلم و استبداد کے ساتھ داعش کتنے دن کام کرے گی یہ بات ان نوجوانوں کو سمجھنا چاہئے خود ان کا تعلق کسی ملک سے ہو مغربی یا مشرقی عرب یا غیر عرب ملک سے ہو کہ ان کی زمین پر ناانصافی اور ظلم و زیادتی کبھی دیرپا ثابت نہیں ہوتی۔ آج کئی عرب اور بعض مسلم ممالک مغربی ممالک کی اس فہرست میں شامل کرلئے گئے ہیں جن کے خلاف فوجی کارروائی ہوسکتی ہے جہاں جہاں امریکی فوجی کارروائی ہوئی وہاں سوائے تباہی بربادی کے اور کیا ہوا۔ اگر آئی ایس آئی ایس اپنی کارروائیوں سے مسلم ممالک کو مغربی ممالک کی نگاہ میں مشکوک کررہی ہے تو اس کی قیمت بعض کمزور مسلم ممالک کو ادا کرنی پڑے گی۔ آئی ایس آئی ایس اسلام کے دشمنوں کی تعداد بڑھانے کا مذموم کام کررہی ہے۔ مذہبی منافرت پیدا کررہی ہے اور کمال کی بات یہ ہے کہ سب کچھ مذہب کے نام پر کیا جارہا ہے۔ ایک ایسے دور ابتدال میں جبکہ تہذیبوں کے تصادم کا خطرہ ساری دنیا میں بڑھتا جارہا ہے۔ یہ گروہ ساری دنیا کو اپنی تباہ کاریوں اور غارتگری سے نئے خطرات کی طرف لے جارہا ہے۔ اب تک جہاں جہاں اور جب جب داعش نے حملے کئے وہاں نہ اس کو کچھ حاصل ہوا اور نہ اس کی مقبولیت میں اضافہ ہوا۔ دن بہ دن داعش رسوا ہورہی ہے۔ اس کے خلاف عوامی جذبات شدت اختیار کررہے ہیں۔ آج کی متمدن دنیا میں طاقت کے بل بوتے پر کوئی مذہب فروغ نہیں پاسکتا۔ اگر داعش اس غلط فہمی میں ہے کہ ایسا ہوسکتا ہے تو خود اس کو بھاری قیمت ادا کرنی پڑے گی اور اس کی اس نادانی کا غبارہ پھوٹ پڑے گا۔ نوجوانوں کو خاص طور پر داعش کے پروپگنڈے سے سوشیل میڈیا پر زیادہ تر ہوتا ہے متاثر نہیں ہونا چاہئے بلکہ خود اپنے طور پر یہ سوچنا اور سمجھنا چاہئے کہ سچ کیا ہے۔ رفتہ رفتہ یہ بات اب نوجوانوں کی سمجھ میں آرہی ہے اور دور دراز کے ممالک کی نئی نسل احوال واقعی سے واقف ہونے لگی ہے۔ اسلامی ممالک کے علاوہ دنیا بھر میں آئی ایس آئی ایس کے بارے میں رائے تیزی سے بدل رہی ہے۔

TOPPOPULARRECENT