Friday , August 18 2017
Home / Top Stories / پیرس میں آئی ایس کے سلسلہ وار خودکش حملے ،128 ہلاک

پیرس میں آئی ایس کے سلسلہ وار خودکش حملے ،128 ہلاک

کنسرٹ ہال ، رسٹورنٹس اور اسٹیڈیم نشانہ ، ایمرجنسی نافذ ۔ فرانس کیخلاف جنگ ، فرانسیسی صدر اولاند کا بیان ، شام میں فضائی حملوں کیخلاف دولت اسلامیہ کا انتقام

پیرس، 14 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) فرانس کے دارالحکومت پیرس میں کنسرٹ ہال، رسٹورنٹس اور نیشنل اسپورٹس اسٹیڈیم کو نشانہ بناتے ہوئے سلسلہ وار خودکش بم حملے کئے گئے جس میں کم از کم128  افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔ اسلامک اسٹیٹ (آئی ایس) کے جہادیوں نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ صدر فرانس فرانکوئی اولاند نے بھی اسلامی انتہا پسند گروپ کو موردالزام ٹھہرایا اور کل رات 6 مقامات کو سلسلہ وار انداز میں جس طرح نشانہ بنایا گیا، اسے ’’فرانس کے خلاف جنگ‘‘ قرار دیا۔ تقریباً 8 دہشت گردوں نے جو تمام خودکش لباس پہنے ہوئے تھے، فرانس کے دارالحکومت کی سڑکوں پر یہ پرتشدد کارروائی انجام دی اور 2004ء کے میڈرڈ ٹرین دھماکوں کے بعد یہ بدترین دہشت گرد حملہ ہے۔ مشرقی پیرس میں چار مسلح افراد جن کے پاس AK47 رائفلیں تھیں ’’اللہ اکبر‘‘ کا نعرہ لگاتے ہوئے بٹکلین کنسرٹ ہال میں جہاں راک کنسرٹ جاری تھا، گھس پڑے اور تقریباً 82 افراد کو گولیوں کا نشانہ بنایا۔ اس کے علاوہ کئی درجن افراد کو یرغمال بنالیا۔ انہوں نے فائرنگ کا سلسلہ جاری رکھا اور ہر طرف خون دکھائی دے رہا تھا۔ ہر شخص یہاں سے فرار ہونے کی کوشش میں تھا۔ اس کنسرٹ میں ریڈیو پریزنٹر جینس ژاک نے کہا کہ فائرنگ کے باعث افراتفری پھیل گئی اور ہر شخص یہاں سے بھاگنے کی کوشش کررہا تھا۔ بندوق برداروں کو صدر اولاند اور ستمبر میں اُن کے آئی ایس کے خلاف شام میں فضائی حملے شروع کرنے کے فیصلے کی مذمت کرتے ہوئے سنا گیا۔ ژاک نے کہا کہ میں نے واضح طور پر یہ بات سنی کہ ’’یہ اولاند کی غلطی تھی، یہ تمہارے صدر کی غلطی کا نتیجہ ہے، انہیں شام میں مداخلت نہیں کرنی چاہئے تھی‘‘۔ فرانس کے عہدیداروں نے متعدد مرتبہ یہ اندیشہ ظاہر کیا تھا کہ شام اور عراق میں سرگرم آئی ایس، فرانس واپس ہوکر یہاں حملے شروع کرسکتے ہیں۔ فرانس گزشتہ تقریباً ایک سال سے عراق میں آئی ایس کو نشانہ بنانے کیلئے امریکی زیرقیادت فضائی حملوں کا ایک حصہ بنا ہوا ہے۔ ستمبر میں شام میں جہادیوں پر بمباری کا سلسلہ شروع کیا گیا اور یہ دعویٰ کیا گیا کہ ان فضائی حملوں کے ذریعہ ٹریننگ کیمپ اور تیل کی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔ اسلامک اسٹیٹ نے آج صبح ایک آن لائن بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ ’’8 برادران نے جو دھماکو بیلٹس اور رائفلوں سے مسلح تھے، صلیبی فرانس پر شاندار حملہ کیا ہے‘‘۔  اس کارروائی میں 128 افراد ہلاک ہوئے جن میں 8 حملہ آور شامل نہیں ہیں۔ فرانس میں یہ پہلا خودکش بم حملہ ہوا۔ اس کارروائی میں تقریباً 250 افراد زخمی بھی ہوئے ہیں جن میں 100 کی حالت تشویشناک ہے۔ اولاند نے کہا کہ پیرس میں کئے گئے کئی دہشت گرد حملے فرانس کے خلاف جنگ ہیں جس کا ارتکاب دہشت گرد فوج ’’آئی ایس‘‘ نے کیا ہے۔

فرانس میں جنوری سے ہی اس وقت چوکسی اختیار کرلی گئی تھی جب جہادی بندوق برداروں نے پیرس میں اہانت آمیز کارٹونس شائع کرنے والی میگزین ’’شارلی ایبڈو‘‘ کو نشانہ بنایا اور ایک یہودی سوپر مارکٹ پر بھی حملہ کرتے ہوئے 17 افراد کو ہلاک کردیا تھا۔ اس کے علاوہ ایک اور امکانی سانحہ اس وقت ٹل گیا جب اگست میں ایک بندوق بردار نے شمالی فرانس میں ہائی اسپیڈ ٹرین کو نشانہ بنانے کی کوشش کی تھی۔ کل رات کئے گئے حملے کے بعد اب تک کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی اور صدر اولاند نے ملک میں ایمرجنسی نافذ کردی ہے۔ پولیس حملوں کے مقامات کے سی سی ٹی وی فوٹیج کا جائزہ لے رہی ہے اور حملہ آوروں کے جسمانی اعضاء کی شناخت کی کوشش کی جارہی ہے۔ احتیاطی اقدام کے طور پر پیرس میں اسپورٹس کے تمام مقابلے منسوخ کردیئے گئے جبکہ پبلک اسکولس اور کئی میوزیمس کو بند رکھا گیا۔ خود صدر فرانس کو عجلت میں اسٹیڈ ڈی فرانس اسٹیڈیم کا تخلیہ کرنا پڑا جہاں خودکش بمباروں نے فرانس اور جرمنی کے مابین دوستانہ فٹبال انٹرنیشنل میچ کے دوران بیرونی حصے میں حملہ کیا۔ پہلے ہجوم میں چند افراد کو اس حملے کا اندازہ ہوا لیکن کسی نے اہمیت نہیں دی اور مقابلہ جاری تھا، لیکن جیسے ہی یہ اطلاع اسٹیڈیم میں تیزی سے پھیلنے لگی، لوگ افراتفری کے عالم میں میدان میں جمع ہوگئے۔ عہدیداروں نے فرانس کی سرحدوں پر سکیورٹی پہلے ہی سخت کردی ہے اور پیرس کا عملاً محاصرہ کرلیا گیا ہے۔ سب سے زیادہ اور بدترین ہلاکتیں بٹکلین میوزک کے مقام پر ہوئیں جہاں ایک ہزار سے زائد موسیقی کے شیدائی موجود تھے۔ حملے کے ساتھ ہی ہر طرف چیخ و پکار شروع ہوگئی اور لوگ مرنے یا زخمی ہونے والوں کو روندتے ہوئے باہر نکلنے کی کوشش کررہے تھے۔ دہشت گردوں نے ان میں سے کئی افراد کو یرغمال بنالیا اور انہیں ہلاک کرنا شروع کردیا۔ اس حملے میں بچ جانے والے ایک 34 سالہ شخص چارلس نے کہا کہ ہم نے عوام کی چیخ و پکار سنی، بالخصوص وہ لوگ جنہیں یرغمال بنالیا گیا تھا، خوف کے عالم میں تھے اور اغوا کرنے والے انہیں مسلسل دھمکا رہے تھے۔ تقریباً 20 افراد نے یہاں سے بھاگ کر ٹائیلٹ میں پناہ لی۔ تین دہشت گردوں نے اپنے دھماکو بیلٹس کے ذریعہ اس مقام کو نشانہ بنایا۔ ایک اور حملہ آور نے قریبی بولورڈ ولٹائر پر اس وقت خود کو دھماکے سے اُڑا لیا جبکہ سڑکیں پولیس کی گاڑیوں اور ایمبولینس سے بھری ہوئی تھیں اور سائرن بج رہے تھے۔ ان ایمبولینس کے ذریعہ کئی زخمیوں کو ہاسپٹل منتقل کیا گیا۔ فرانس میں ان دہشت گرد حملوں کی عالمی سطح پر مذمت کی جارہی ہے۔ صدر امریکہ براک اوباما نے کہا کہ یہ تمام انسانیت پر حملہ ہے اور نیویارک ، اظہار ہمدردی کے طور پر نئے ورلڈ ٹریڈ سنٹر میں فرانس کے پرچم کی طرز پر سرخ ، سفید، نیلی رنگ کی روشنی کا اہتمام کرے گا۔ اوباما ان عالمی قائدین میں شامل ہیں جو 30 نومبر سے فرانس کے دارالحکومت کے باہر ہونے والے اقوام متحدہ ماحولیاتی مذاکرات میں شرکت کرنے والے ہیں۔ صدرجمہوریہ پرنب مکرجی نے صدر اولاند کو موسومہ اپنے مذمتی بیان میں کہا کہ یہ جنونی تشدد ہے۔ پاکستان نے بھی ان دہشت گردانہ حملوں کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔

TOPPOPULARRECENT