Saturday , October 21 2017
Home / شہر کی خبریں / پیر سے اقلیتی اقامتی اسکولس کا باقاعدہ آغاز

پیر سے اقلیتی اقامتی اسکولس کا باقاعدہ آغاز

مخلوعہ نشستوں پر بھرتی کیلئے کونسلنگ ، ابتدائی دو ماہ تک برج کورس ، فرنیچرس کی عدم فراہمی ، غیر معیاری غذا کی شکایتیں
حیدرآباد۔/8 جولائی، ( سیاست نیوز) تلنگانہ میں قائم کئے گئے اقلیتوں کے 71 اقامتی اسکولس کا تعطیلات کے بعد 11جولائی سے آغاز ہوگا۔12جولائی کو اسکولوں میں طلبہ کی مخلوعہ نشستوں کو پُر کرنے کیلئے کونسلنگ مقرر کی گئی ہے۔ جن اسکولوں میں نشستیں خالی ہیں وہاں موجود ویٹنگ لسٹ کے طلبہ اور ان کے سرپرستوں کو مدعو کیا گیا ہے۔ سوسائٹی کے ذرائع کے مطابق جن اسکولوں میں مخلوعہ نشستوں کی تعداد ویٹنگ لسٹ سے زیادہ ہوگی وہاں قرعہ اندازی کے ذریعہ طلبہ کا انتخاب کیا جائے گا اور اگر نشستیں ویٹنگ لسٹ سے زیادہ ہوں تو وہاں بغیر قرعہ اندازی کے نشستیں الاٹ کردی جائیں گی۔ اسی دوران سوسائٹی نے ابتدائی دو ماہ تک طلبہ کیلئے برج کورس منعقد کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ مختلف میڈیمس سے تعلق رکھنے والے طلبہ کے تعلیمی معیار کو یکساں کیا جاسکے۔ اسکولوں میں انگلش، اردو اور تلگو میڈیم سے تعلق رکھنے والے طلبہ موجود ہیں اور انہیں انگلش میڈیم کی تعلیم دی جانی ہے۔ تمام طلبہ کے معیار قابلیت کو یکساں بنانے کیلئے یہ کورس رکھا گیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ پانچویں تا ساتویں جماعت کی کلاسیس میں تدریس کیلئے جن اساتذہ کا انتخاب کیا گیا ان کیلئے ٹریننگ کلاسیس منعقد کی گئیں تاکہ انہیں معیاری تعلیم کے قابل بنایا جاسکے۔ اسی دوران 71 کے منجملہ کئی اسکولوں میں ابھی تک فرنیچر اور دیگر سہولتوں کی عدم فراہمی کی شکایات ملی ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ کئی اسکولوں میں بچوں کیلئے پلنگ ابھی تک سربراہ نہیں کئے گئے اور اگر 12 جولائی تک سربراہی عمل میں نہیں آئی تو بچوں کو زمین پر سونا پڑیگا۔ اس کے علاوہ ڈائیننگ ٹیبل، کرسیاں اور دیگر فرنیچر بھی کئی اسکولوں میں ابھی تک نہیں پہنچا۔ ایک طرف حکومت کارپوریٹ طرز کی سہولتیں فراہم کرنے کا دعویٰ کررہی ہے لیکن اسکولوں میں بنیادی سہولتیں ابھی تک میسر نہیں۔ اس سلسلہ میں سوسائٹی کے عہدیدار فکر مند دکھائی دے رہے ہیں۔ جن کمپنیوں کو انفراسٹرکچر کی فراہمی کا ذمہ دیا گیا تھا وہ مقررہ وقت پر سربراہی میں ناکام ثابت ہوئے ہیں۔ فرنیچر کی عدم فراہمی کے علاوہ اسکولوں میں غیر معیاری چاول اور ترکاری کی سربراہی کے معاملات بھی منظر عام پر آئے ہیں۔ مختلف اضلاع میں اس طرح کی شکایات ملنے کے بعد سوسائٹی کے عہدیدار متحرک ہوچکے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ اسکولوں میں باقاعدہ تعلیم کے آغاز کیلئے دو ماہ کا وقت لگ جائے گا۔

TOPPOPULARRECENT