Sunday , August 20 2017
Home / Top Stories / پیشاب پی گئے ، کسانوں کا انوکھا احتجاج!

پیشاب پی گئے ، کسانوں کا انوکھا احتجاج!

نئی دہلی ، 22 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) اپنے انوکھے احتجاج سے دیکھنے والوں کی آنکھوں کو متحیر کرتے ہوئے ٹاملناڈو کے کسانوں نے آج پیشاب پی لیا، جو اپنی زبوں حالی کے تئیں حکومت کی توجہ مبذول کرانے کی ایک اور چار و ناچار کوشش ہے۔ گزشتہ 39 دنوں سے انھوں نے اپنے نصف مونچھ اور سر کے بال نکلوا دیئے، چوہے اور سانپ اپنے منھ میں دبائے رکھے، تمثیلی آخری رسومات انجام دیئے، خود کو کوڑے لگائے اور قرض کے دباؤ کے سبب خودکشی کرچکے دیگر کسانوں کی کھوپڑیاں بھی اپنے سامنے رکھ کر احتجاج درج کرایا۔ کسانوں کا احتجاج آج 40 ویں دن میں داخل ہوا، اور وہ پیشاب پی گئے حالانکہ پولیس انھیں روکنے کی کوشش کرتی رہ گئی۔ وہ مطالبہ کرتے آئے ہیں کہ قرض معاف کریں، خشک سالی پر ریلیف پیاکیج پر نظرثانی کی جائے اور اُن کی پیداوار کیلئے بہتر امدادی قیمتیں دی جائیں۔ احتجاج کی قیادت کرنے والے پی ایاکانو نے کہا: ’’ مرکزی حکومت ہمیں پانی نہیں دے رہی ہے۔ لہٰذا ہم پیشاب پی رہے ہیں۔‘‘ احتجاجیوں نے گزشتہ روز کہا تھا کہ اگر مرکز اُن کے مسائل کا اندرون ایک یوم کوئی حل پیش کرنے میں ناکام ہوجائے تو وہ پیشاب پی لیں گے۔ 10 اپریل کو وہ اپنے مطالبات پر زور دینے کی خاطر یہاں دفتر وزیراعظم کے روبرو برہنہ ہوگئے تھے۔

TOPPOPULARRECENT