Wednesday , September 20 2017
Home / مذہبی صفحہ / پیغام حقیقت اور باطل پروپگنڈے

پیغام حقیقت اور باطل پروپگنڈے

زمانے کی تیز رفتار ترقی نے انسان کی ذہنیت کو یکسر تبدیل کردیا ، قصہ کہانیوں پر ایمان رکھنے والے حقیقت کے متلاشی ہیں۔ نسل در نسل سے مذہبی نشان کو اپنے سینوں سے چمٹاکر رکھنے والے اپنے آباء واجداد کی اندھی تقلید کے طوق کو گلے سے نکال کر تحقیق و تفتیش کی راہ پرگامزن ہیں اور حقیقت کی جستجو میں سرگرداں ہیں۔ اس جستجو و تلاش میں وہ اپنی تمام تر توانائیوں کو صرف کئے ہوئے ہیں۔
آزادی فکر و خیال نے قیود اور پابندیوں کو ختم کرکے رکھدیا ہے ،   ہر انسان کھلے طورپر سوچنے ، غور کرنے ، قبول کرنے ، ترک کرنے کا مکمل اختیار رکھتا ہے اور ہر شخص اپنے اس اختیار کو پوری آزادی سے استعمال کررہا ہے ۔ جس کی بناء انسان حق کو پانے کے بعد ببانگ دہل اس کا اعلان کررہا ہے اور باطل کو سمجھ جانے کے بعد برسرعام تردید کرنے میں کوئی خوف و خطر محسوس نہیں کررہا ہے ۔
دنیا میں حق کے خلاف نفرت و عداوت ، بغض و عناد اور تعصب و بربریت کے باوجود ایسے لوگوں کی کمی نہیں ہے جو حقیقت و صداقت کو پانے اور اس کو گلے سے لگانے کے لئے بے تاب ہیں۔ مختلف لوگ اپنے اپنے نظریات و تجربات سے حق کی تلاش میں مصروف عمل ہیں۔ مختلف ڈھنگ سے سوچنے ، مختلف زاویوں سے غور و فکر کرنے ، مختلف راستے اختیار کرنے ، مختلف تجربات سے گزرنے کے بعد لوگ جس حقیقت و صداقت کا ادراک کررہے ہیں یہ وہی حقیقت ہے جس کو ہمارے آقا   محمد عربی صلی اﷲ علیہ و آلہٖ و سلم نے آج سے چودہ سو سال قبل آشکار فرمایا ۔ ایسے پرآشوب دور میں جبکہ خاندانی فخرو مباحات ، حسب و نسب پر فخر ، لسانی امتیاز ، آباء و اجداد کی اندھی تقلید ، گروہ واریت ، فرقہ وارایت اپنے عنفوانِ شباب پر تھی ، اس وقت کوئی شخص حق بات کو قبول کرنا تو کجا سننے کے لئے تیار نہ تھا ۔ باطل کی ان گھٹا ٹوپ تاریکیوں میں نبی اکرم صلی اﷲ علیہ وآلہٖ وسلم نے حقیقت و صداقت کا چراغ روشن کیا جس کی روشنی سے حق ظاہر ہوا اور باطل نظریات اور فاسد تصورات ماند پڑ گئے ، لوگ اپنے دل و دماغ کی تاریکیوں کو کافور کرنے کے لئے چراغ حقیقت کے قریب آنے لگے تاکہ اس کی روشنی سے اپنی شمع زندگی کو روشن و منور کرسکیں۔ متعصب ، شرپسند ، دریدہ دہن لوگوں نے اس چراغ حقیقت کو بجھانے کیلئے کوئی کسر نہیں چھوڑی ، ہرممکن مکر و حیلہ کو اختیار کیا ۔ تمام طاقت و قوت صرف کئے لیکن اس کی روشنی کو متاثر نہ کرسکے اس لئے کہ اس نور کا محافظ و پاسبان خدائے ذوالجلال ہے ، حوادث زمانہ کی تیز و تند آندھیاں اس کی روشنی کو بجھا نہ سکیں ۔ دشمنوں نے حقیقت کے علمبردار اہل اسلام پر ظلم و ستم کے پہاڑ ڈھائے ، وحشیانہ غیرانسانی اہانت آمیز سلوک روا رکھا لیکن شمع حقیقت کے پروانوں نے اپنی جان و مال کی قربانی دیکر اس کی حفاظت کی جن کی قربانیوں کی وجہ سے یہ نور ہدایت مشرق و مغرب ، شمال و جنوب ، ہرسمت اور ہر جہت میں پھیل گیا اور ایک عالم کو روشن و منور کرنے لگا۔ بالآخر ہر دجل و فریب سے عاجز و بے بس ہونے کے بعد متعصب اور مکار قوم کے اعلیٰ دماغوں کو یقین ہوگیا کہ یہ خورشید حقیقت طلوع ہوچکا اور اب ساری دنیا کو اپنی شعاعوں سے روشن و منور کرکے چھوڑیگا ۔
اس پیغام حقیقت کو روکنے کے لئے ایک ہی صورت نظر آئی کہ حقیقت کی شبیہ کو متاثر کردیا جائے ، غلط پروپگنڈے کئے جائیں ، غلط بیانی اور دروغ گوئی کا سہارا لیا جائے ، جھوٹ اور تہمت کو ایسے ڈھنگ سے پیش کیا جائے کہ لوگ اس کو صحیح سمجھیں اور پے در پے اس حقیقت کو مجروح کیا جائے تاکہ لوگ خود بہ خود اس حقیقت سے منہ    موڑ لیں اور اس کو متنازعہ چیز سمجھ کر اپنے دامن کو محفوظ کرلیں۔ اس لئے وہ لوگ پیغمبر حقیقت کی ذات مقدسہ سے متعلق غلط باتیں عام کرنے لگے کہ وہ جادوگر ہیں ، انھوں نے فرمانِ مقدس کو گھڑلیا ہے ، کبھی آپؐ کو شاعر کہتے تو کبھی آپؐ کو نعوذ باﷲ ساحر کہتے کبھی کہتے کہ وہ ہماری طرح کھاتے پیتے اور چلتے ہیں ، واقعی پیغمبر ہوتے توفرشتے ان کے ساتھ ہوتے ، قبول کرنے والوں کو جنت کی بہاریں دکھاتے اور نہ مانے والوں کو عذاب الیم دیتے ۔
اس قسم کی متعدد باتیں عوام الناس میں مشہور کرکے لوگوں کے ذہنوں کو متاثر کرنے کی کوشش کرتے اور نبی اکرم ﷺ کے قریب آنے سے منع کیا کرتے ۔ اور آپ ؐ کے معجزات پر تنقید و اعتراض کرتے لیکن قربان جائیے ہمارے پیغمبر حقیقت و صداقت ﷺ پر آپ کے اعلانِ حقیقت کے بعد پرائے تو پرائے اپنوں کے سینوں میں نفرت و عداوت کے لاوے پھوٹ پڑے ۔ قربان آپ کی استقامت پر کہ اس میں کسی قسم کی تبدیلی نہیں ہوئی ۔ دنیا کے سامنے آپؐ نے ہمت و حوصلہ کی عمدہ مثال پیش کی اور پیغامِ حقیقت سے دنیا کو آشکار کردیا۔ کبھی تکلیفوں کی طرف نظر نہ کی بلکہ ایک ایک قدم بڑھاتے گئے اور پیچھے پلٹ کر نہیں دیکھا۔ اﷲ سبحانہ و تعالیٰ نے کامیابی و کامرانی کے دروازے کھول دیئے ۔ پھر دیکھتے ہی دیکھتے دنیا میں انقلاب بپا ہوگیا اور ۲۳ سال کے مختصر سے عرصہ میں اسلام کا پیغامِ حقیقت مشرق و مغرب ، شمال و جنوب میں جاپہنچا ۔
ہر دور و زمانہ میں معاندین ، فتنہ پرور ، شر انگیز لوگوں کی تعداد عام لوگوں کے مقابل میں بہت کم ہوتی ہے لیکن وہ چالباز اپنی قلت کے باوجود اپنی شرانگیزیوں اور فتنہ انگیزیوں کے سبب اس قدر چھاجاتے ہیں کہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اکثریت اُن کی ہے اور غلبہ اُنہی کا ہے لیکن حقیقت اس کے برعکس ہوتی ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ ہر دور میں انصاف پسند لوگوں کی اکثریت ہوتی ہے ، سادہ لوح لوگوں کا غلبہ رہتا ہے لیکن ان کی آواز ظاہر نہیں ہوتی شر انگیزوں کا پروپگنڈہ ، حق پسندوں کی کمزوری ، سادہ لوح انسانوں کی خاموشی ، باطل کو طاقت و قوت عطا کرتی ہے ۔
آج دشمنانِ اسلام و ملحدانِ بے سر انجام ، اسلام کی حقیقت کو متاثر کرنے کے لئے جدید ذرائع ابلاغ کا بھرپور استعمال کررہے ہیں ، میڈیا پر اُنہی کا قبضہ ہے اوروہ حق کو باطل اور باطل کو حق ظاہر کرنے میں کامیاب نظر آرہے ہیں ۔ ہمیں اب انفرادی اور اجتماعی طورپر منظم و متحدہ لائحہ عمل کی ضرورت ہے ۔ باطل پروپگنڈوں کی تردید صرف علماء و مصلحین کی ہی  ذمہ داری نہیں ہے بلکہ اس اُمت کے ایک ایک فرد پر اس کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے ۔ ہر فرد دربار الٰہی میں جوابدہ ہے ، ہمیں اپنی اپنی بساط کے مطابق اس کے اعتراضات کا جواب دینا ہے ، جہاں ان کی دسیسہ کاریوں اور چالبازیوں کو بے نقاب کرنا ہے، وہیں ہمارے آقا کی حیات طیبہ ، سیرت مبارکہ ، اخلاق حمیدہ ، طرز زندگی ، معاشرتی پہلو ، امن اور جنگ کے دوران آپ کے طریقہ کار ، آپ کے معمولات وفرمودات کو بہترین اسلوب و پیرایہ میں دنیا کے سامنے پیش کرنا ہے ۔ اس لئے ہمیں ذرائع ابلاغ کا بھرپور سہارا لینا ہوگا ۔ انٹرنیٹ کی سہولتوں سے استفادہ کرنا ہوگا ۔ ہر فرد اپنی زندگی کا یہ مقصد بنالے کہ وہ اپنے آقا صلی اﷲ علیہ و آلہٖ و سلم کے پیغام کو غیرمسلمین کے روبرو اپنی استطاعت کے مطابق پیش کرے گا۔

TOPPOPULARRECENT