Friday , October 20 2017
Home / شہر کی خبریں / پیٹلہ برج میٹرنٹی ہاسپٹل کئی مسائل کا شکار

پیٹلہ برج میٹرنٹی ہاسپٹل کئی مسائل کا شکار

بنیادی سہولتوں کا فقدان، مریضوں کی صحت یابی کے بجائے مزید بیماری کا باعث
حیدرآباد 28 اگسٹ (سیاست نیوز) سرکاری دواخانوں کی ترقی اور معیاری طبی سہولیات کو یقینی بنانے کے لئے سنجیدہ ریاستی حکومت کے لئے دواخانوں کی حالت زار نئی پریشانی کا سبب بنتی جارہی ہے۔ ایک طرف فنڈس کی اجرائی کے باوجود مسائل میں اضافہ اور نئے مسائل کا پیدا ہونا ارباب مجاز کی لاپرواہی کو واضح کررہا ہے۔ ریاست تلنگانہ میں خواتین کی بہبود ترقی تحفظ کے لئے سنجیدہ حکومت کے لئے نیاپل میٹرنٹی ہاسپٹل ایک نیا چیلنج پیش کررہا ہے۔ حاملہ خواتین کی کثیر تعداد میں آمد والے اس مصروف ہاسپٹل میں طبی علاج میں معیار تو دور دواخانہ میں داخلہ ہی امتحان سے کم نہیں۔ اور ایسا لگتا ہے کہ موسم کے بدلتے موسمی بخار کی طرح موسم کے بدلتے موسمی مسائل ہاسپٹل میں آمد کے منتظر رہتے ہیں۔ ایک طرف ڈاکٹر خود حاملہ خواتین کو احتیاط کے تجاویز اور مشورے دیتے ہیں۔ تاہم ہاسپٹل میں کسی قسم کی کوئی احتیاط نہیں ہے۔ کینٹین، میس، ویٹنگ ہال، پارکنگ کی جگہ اور وارڈس کی حالت معیاری عمارت ہونے کے باوجود خستہ اور حیران کن ہے۔ بیماری کو ختم کرنے کے لئے ہاسپٹل سے رجوع ہونے والوں میں یہ خوف پیدا ہورہا ہے کہ سرکاری دواخانہ کو رجوع ہونے سے بیماری کا دفاع تو دور نئی بیماری کا خطرہ لاحق ہوسکتا ہے۔ حاملہ خواتین کو تغذیہ بخش غذا اور زچگی کے بعد نومولود بچے کے لئے احتیاط اور حاملہ خواتین کے ساتھ خصوصی احتیاط کیا جاتا ہے یہ بات عام ہے کہ سرکاری دواخانوں سے غریب عوام ہی رجوع ہوتے ہیں۔ شہر میں ہوئی تیز بارش کے بعد پیٹلہ برج میٹرنٹی ہاسپٹل کا احاطہ جھیل میں تبدیل ہوگیا اور صفائی کے تعلق سے جب ہاسپٹل کا جائزہ لیا گیا تو حیران کن نتائج سامنے آئے۔ پینے کے پانی کے فلٹر کے قریب موجودہ گندگی جہاں ایک خاتون بوتل میں پانی حاصل کررہی تھی پوچھنے پر بتایا کہ اس پانی کو نہ صرف وہ بلکہ مریض خاتون بھی استعمال کرتی ہے۔ یہ پوچھنے پر کہ آیا مریض کے لئے دوسرا پانی نہیں ہے تو اس نے اپنی مالی تنگی کو پیش کیا اور کہاکہ علاج ہی مشکل سے ہورہا ہے تو سہولیات کی شکایت کس سے کی جائے؟ ہاسپٹل کے احاطہ میں جمع پانی کے سبب آٹو اور دیگر سواری سہولیات ہاسپٹل میں داخلہ سے خوف کا شکار تھے۔ جس کے سبب نومولود بچوں کو لے کر حاملہ خواتین کو جھیل نما میدان مجبوراً عبور کرنا پڑا۔ جبکہ دوسری طرف مریضوں کے رشتہ داروں اور ہاسپٹل سے رجوع ہونے والے شہریوں کے لئے تیار کردہ ویٹنگ روم، پارکنگ لاٹ میں تبدیل ہوگیا ہے۔ پارکنگ کے نگرانکاروں اور ہاسپٹل کے انتظامیہ پر ملی بھگت اور من مانی کے الزامات پائے جاتے ہیں جن کے سبب مریضوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔ ہاسپٹل کی کینٹن کے تعلق سے ارباب مجاز کوئی پرواہ نہیں سرکاری باورچی خانے میں پکوان گیس سلینڈروں سے لے کر پکوان کی اشیاء کے معیار پر شبہات پائے جاتے ہیں اور ایسا نہیں کہ سپرنٹنڈنٹ ہاسپٹل کو اس کا علم نہیں باوجود اس کے کمرشیل گیس سیلنڈر کی ڈومیسٹک سلینڈر استعمال کئے جارہے ہیں۔ سرکاری دواخانے کی حالت زار میں سدھار اور معیار طبی سہولیات کو یقینی بنانے کا بیڑا اٹھانے والی ریاستی حکومت کو چاہئے کہ وہ ریاست کے سب سے بڑے میٹرنٹی ہاسپٹل پر توجہ مرکوز کرے۔ پیٹلہ برج میٹرنٹی ہاسپٹل سے ریاست کرناٹک، مہاراشٹرا، آندھراپردیش و دیگر ریاستوں سے بھی عوام رجوع ہوتے ہیں۔ ارباب مجاز کی مجرمانہ غفلت طبی علاج میں لاپرواہی کے علاوہ دیگر ریاستوں میں ریاستی حکومت کے وقار کو بھی متاثر کرنے کا باعث بن رہی ہے۔

TOPPOPULARRECENT