Sunday , April 23 2017
Home / شہر کی خبریں / پی آر سی بقایا جات کی تین یا چار قسطوں میں ادائیگی

پی آر سی بقایا جات کی تین یا چار قسطوں میں ادائیگی

فائل تیار کرنے محکمہ فینانس کو چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ کی ہدایت
حیدرآباد ۔ 12 ۔ جنوری : ( سیاست نیوز) : ٹی آر ایس حکومت سرکاری ملازمین کے 9 ماہ سے متعلق پی آر سی بقایا جات 2800 کروڑ روپئے تین یا چار قسطوں میں ادائیگی کے لیے سنجیدگی سے غور کررہی ہے ۔ چیف منسٹر تلنگانہ کے سی آر نے محکمہ فینانس کو بقایا جات کی ادائیگی کے لیے فائیل تیار کرنے کی ہدایت دی ہے ۔ ریاستی حکومت سال برائے 2017-18 کا بجٹ تیار کرنے میں مصروف ہے ۔ مختلف محکمہ جات سے تجاویز طلب کی جارہی ہیں اور اس پر مشاورت کا بھی آغاز ہوگیا ہے ۔ اسمبلی کے سرمائی اجلاس کے دوران بھی مختلف جماعتوں کے ارکان کی جانب سے 10 ویں پے رویژن کمیشن کی سفارشات سے متعلق 9 ماہ کے بقایا جات کی عدم ادائیگی پر حکومت سے استفسار کیا گیا۔ جس کے بعد چیف منسٹر کے سی آر نے اس مسئلہ پر کافی سنجیدہ نظر آرہے ہیں ۔ برفدان کی نذر ہوجانے والی فائیل کو دوبارہ منظر عام پر لایا گیا ہے ۔ ریاست میں سرکاری ملازمین کی تعداد 3.50 لاکھ ہے ۔ وظیفہ یاب ملازمین کی تعداد 2.20 لاکھ ہے ۔ جملہ 5.70 لاکھ ایمپلائز و ریٹائرڈ ایمپلائم کو پی آر سی بقایا جات کے لیے 2800 کروڑ روپئے ادا کرنے کی ضرورت ہے ۔ جس دن پی آر سی کا اعلان کیا گیا تھا اس وقت چیف منسٹر کے سی آر نے بقایا جات جی پی ایف کھاتوں میں جمع کرنے کا اعلان کیا تھا تاہم ملازمین تنظیموں نے نقد رقم کی شکل میں ادا کرنے کا حکومت پر دباؤ بنایا تھا ۔ مالی مسائل کے پیش نظر حکومت نے ان بقایا جات کو جی پی ایف میں جمع کرتے ہوئے 2 سال تک رقم نکالنے پر تحدیدات عائد کرنے پر غور کیا تھا ۔ پھر اس کے بعد بانڈس جاری کرنے کا بھی جائزہ لیا تھا ۔ لیکن ملازمین تنظیموں کی مخالفت کے بعد لمبے عرصے تک فائیل کو زیر التواء رکھا گیا تھا ۔ حکومت نئے بجٹ کی تیاری کا آغاز کرچکی ہے ۔ چیف منسٹر تلنگانہ کے سی آر نے محکمہ فینانس کے اعلیٰ عہدیداروں کا اجلاس طلب کرتے ہوئے مختلف امور کا جائزہ لیا ہے اور ساتھ ہی پی آر سی بقایا جات کی ادائیگی کے لیے تجاویز تیار کرنے کی ہدایت دی ہے ۔ بقایا جات کی ادائیگی کے لیے محکمہ فینانس نے ملازمین کو تین زمروں میں تقسیم کیا ہے ۔ پہلے زمرے میں جی پی ایف کھاتہ رکھنے والے دوسرے زمرے میں جی پی ایف کھاتہ نہ رکھنے والے تیسرے زمرے میں وظیفہ یاب ایمپلائز شامل ہیں ۔ جی پی ایف کھاتہ نہ رکھنے والوں اور ریٹائرڈ ایمپلائم کو نقد رقمی کی ادائیگی کردینے پر غور کیا جارہا ہے ۔ سرکاری ملازمین کو تین یا چار مرحلوں میں بقایا جات جاری کرنے کی تجویز ہے ۔ تاہم قطعی فیصلہ چیف منسٹر پر چھوڑ دیا گیا ہے ۔ تمام بقایا جات ایک سال یا دیڑھ سال میں جاری کردینے کے قوی امکانات ہیں ۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT