Sunday , August 20 2017
Home / کھیل کی خبریں / پی ایس ایل سے اچھے بیٹسمین نہ ملے تو لیگ ناکام ہوگی:عبدالقادر

پی ایس ایل سے اچھے بیٹسمین نہ ملے تو لیگ ناکام ہوگی:عبدالقادر

دبئی ۔17 فروری (سیاست ڈاٹ کام) نوجوان محمد نواز اور محمد اصغر کا نام اب پاکستان کے ہر گھر کیلئے جانا پہچانا ہے لیکن صرف دو ماہ قبل یہ دونوں صرف ابھرتے ہوئے کھلاڑیوں کی حیثیت سے جانے جاتے تھے۔ پاکستان سوپر لیگ( پی ایس ایل) میں کوئٹہ گلیڈی ایٹرز اور پشاور زلمی کیلئے مسلسل  فتح گر کارکردگی دکھا کر عالمی افق پر ابھر کر سامنے آئے اور پھر پورا اب  پاکستان کو ملنے والے ان نئے ستاروں کی دریافت پر خوشیاں منانے لگا۔ محمد نواز اور محمد اصغر پاکستان سوپر لیگ کے پانچ کامیاب ترین بولروں کی فہرست میں شامل ہیں لیکن سابق اسپنر عبدالقادر کے مطابق پی ایس ایل کو ایک بڑی کامیابی قرار دیے جانے سے قبل  پاکستان کیلئے ضروری ہے کہ وہ کھیل کو درپیش مسائل کا جائزہ لے۔ پاکستان کے سابق عظیم لیگ اسپنر عبدالقادر نے کہا کہ اگر پی ایس ایل پاکستان کو شدت سے درکار پانچ اچھے بیٹسمین  فراہم کرنے میں ناکام رہی تو اس کے انعقاد کا مقصد فوت ہو جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو اس بات کا اندازہ ہونا چاہئے کہ ہمارے ہاں فطری طور پر اچھے بولرز پیدا ہوتے ہیں لہذا پاکستان کو بولر کا مسئلہ نہیں رہا ہے

لیکن  آپ مجھے لیگ کے اختتام پر پانچ اچھے بیٹسمین  دکھا دیں تو میں اس لیگ کو کامیاب قرار دے دوں گا  ورنہ پھر اسے پاکستان کرکٹ میں موجود خرابیوں سے شائقین کی توجہ ہٹانے کا ایک حربہ ہی قرار دیا جا سکتا ہے۔ اس وقت پی ایس ایل میں بیٹسمینوں کی فہرست میں بیرونی کھلاڑیوں کی حکمرانی ہے جیسا کہ  روی پوپرہ، تمیم اقبال اور کیمرون ڈیلپورٹ کامیاب ترین بیٹسمینس ہیں جس کے بعد پاکستان  کے احمد شہزاد اور عمر اکمل کا نمبر آتا ہے۔ 70 اور 80 کی دہائی میں لیگ اسپن کے فن کو ازسرنو زندہ کرنے والے 60 سالہ عبدالقادرکے مطابق پی ایس ایل کیلئے کچھ عرصہ انتظار کرنا چاہئے تھا اور اس کے انعقاد سے قبل ملک میں کرکٹ کو درپیش مسائل کو حل کیا جانا چاہئے تھا۔ ہم ورلڈ کپ سے باہر ہو گئے، بنگلہ دیش کے ہاتھوں 3-0  سے شکست ہوئی اور ہم نے زمبابوے سے دورہ پاکستان کیلئے منت سماجت کرتے رہے۔ پھر وعدہ کیا گیا پی ایس ایل کا انعقاد پاکستان میں ہو گا۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ان  تمام مسائل کو پس پشت ڈال دیا گیا ہے۔ کیا پی سی بی کے پاس کوئی منصوبہ بھی ہے؟

عبدالقادر نے سابق کپتانوں وسیم اکرم اور رمیز راجہ کو لیگ کا سفیر بنانے کے علاوہ  دیگر فرائض بھی ادا کرنے کی اجازت دینے پر بھی حیرانی کا اظہار کیا۔ وسیم اکرم فرنچائز اسلام آباد یونائیٹڈ کے ڈائریکٹر کرکٹ جبکہ رمیز راجہ کرکٹ کمنٹیٹر کے فرائض بھی انجام دے رہے ہیں۔ کیا ان دونوں سے اپنا کردار بھرپور طریقے سے ادا کرنے کی توقع کی جا سکتی ہے؟ سابق لیگ اسپنر نے کہا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کو اس لیگ کی طاقت کا اندازہ لگانے کیلئے کوئی منصوبہ بنانا چاہئے تھا اور اسے مقامی نوجوان کھلاڑیوں کیلئے پلیٹ فارم بنانا چاہئے تھا۔ بورڈ کو ہر ٹیم میں مقامی نوجوان کھلاڑیوں کھلانا چاہئے تھا اور وہ یقیناً ان میں سے کسی کو مستقبل کیلئے ڈھونڈ لیتے۔ میں ذاتی طور پر نئے کھلاڑیوں کو پی ایس ایل کی ٹیموں کا کپتان بناتا کیونکہ شاہد آفریدی اور مصباح الحق جلد سبکدوش جائیں گے۔ مجھے نہیں سمجھ آتا کہ جب ہر سرمایہ کار چاہے گا کہ اس کی ٹیم جیتے تو پھر ہم مقامی باصلاحیت کھلاڑیوں کو کیسے ڈھونڈیں گے کیونکہ سرمایہ کار  بہترین ٹیم سے کھیلیں گے۔ وہ ابھرتے ہوئے یا نئے باصلاحیت کھلاڑیوں کیونکر انحصار کریں گے؟۔ عبدالقادر اس موقع پر پاکستانی ٹیم کے ہیڈ کوچ وقار یونس کے خیالات سے متفق نظر آئے جنہوں نے ورلڈ کپ اور ایشیا کپ کیلئے منتخب کھلاڑیوں کو پی ایس ایل میں تواتر سے مواقع نہ ملنے پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔
وقار نے انٹرویو میں کہا تھا کہ مجھے نہیں پتہ کہ اس حوالے سے کرکٹ بورڈ کیا کر سکتا ہے کیونکہ یہ ایک کمرشل لیگ  ہے اور فرنچائزز کی اپنی ضروریات اور کاروباری معاملات ہیں۔ تاہم، اچھا ہو گا اگر ایشیا کپ اور ورلڈ کپ کیلئے اعلان کردہ اسکواڈ کے کھلاڑیوں کو پی ایس ایل میں زیادہ سے زیادہ مقابلے  کھیلنے کا موقع ملے۔

TOPPOPULARRECENT