Saturday , September 23 2017
Home / شہر کی خبریں / پی ایف اور ای ایس آئی کے نام سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں کٹوتی

پی ایف اور ای ایس آئی کے نام سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں کٹوتی

سی آئی ٹی یو کا حیدرآباد کلکٹوریٹ پر دھرنا ، شرون کمار کا خطاب
حیدرآباد۔29جون (سیاست نیوز) مرکزی او رریاستی حکومت کے خلاف سنٹر آف انڈین ٹریڈ یونین ( سی آئی ٹی یو) کی جانب سے ضلع کلکٹر حیدرآباد دفتر پر احتجاجی دھرنا منظم کیاگیا۔ اس موقع پر صدر سی آئی ٹی یو شرون کمار نے کہاکہ پی یف اور ای ایس آئی کے نام پر سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں13فیصد کی کٹوتی کی جارہی ہے جبکہ کٹوتی کا یہ تناسب کافی زیادہ ہے۔ انہوں نے مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا پی ایف اور ای ایس آئی کے لئے صرف دس فیصد کٹوتی کی جائے تاکہ سرکاری ملازمین کے جیب پر اس کا زائد بوجھ نہ پڑے۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں سے پی ایف کے نام پر نکالے جانے والی رقم کو حکومت شیئر مارکٹ میںسرمایہ کاری کے طور پر استعمال کررہی ہے اور اس سے حاصل ہونا والا منافع بھی ملازمین کوادانہیںکیاجارہا ہے ۔ انہو ںنے کہاکہ منافع اور نقصان کی ذمہ داری حکومت پر عائد ہوتی ہے کیونکہ یہ رقم سرکاری ملازمین کی تنخواہو ں سے کاٹی جارہی ہے اور ان کی بناء مرضی کے اس کو شیئر مارکٹ میںسرمایہ کاری کے طور پر استعمال کیاجارہا ہے تو اس کے نقصان کی ذمہ داری مرکزی حکومت پر ہی عائد ہوگی ۔ مسٹرشرون کمار نے مزیدکہاکہ مرکزی اورریاستی حکومتوں کو سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور ان کی زندگیوں کیساتھ کھلواڑ کا کوئی حق نہیں ہے۔ جب کہ ریاستی حکومت نے رعایت پر راشن بالخصوص چاول‘ شکر اور کیروسین تیل غریب عوام کو فراہم کرنے کے بلند بانگ دعوے تو کئے مگر ان پر پورا کرنے میںحکومت کی غیرسنجیدگی ریاست کے غریب عوام کے لئے پریشانیو ںکا باعث بن رہی ہے۔انہوں نے کہاکہ مرکزی او رریاستی حکومتو ںکی لاپرواہی کے خلاف سی آئی ٹی یو اپنے احتجاج میںشدت پیدا کریگی۔ اس موقع پر ان کے ہمراہ تنظیم کے جنرل سکریٹری وینکٹیش‘حیدرآباد سٹی سکریٹری وٹھل اور سینکڑوں کارکن موجود تھے۔
وشاکھااسٹیل سٹی علاقہ کی کالج بس میں اچانک آگ
حیدرآباد 29جون (یواین آئی ) آندھراپردیش کے وشاکھااسٹیل سٹی علاقہ میں ایک کالج کی بس میں اچانک آگ لگ گئی ۔ مقامی افراد نے بتایا کہ چیتنیہ جونیر کالج کی یہ بس گزشتہ تین دن سے یہیں ٹہری ہوئی تھی۔اس میں اچانک آ گ لگ گئی جس کے سبب یہ بس جل کر مکمل طورپرخاکستر ہوگئی۔اس بس میں کوئی نمبر پلیٹ بھی نہیں ہے۔آگ لگنے کی وجہ معلوم نہ ہوسکی۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT