Monday , August 21 2017
Home / اداریہ / پی ایف ٹیکس کی تجویز سے دستبرداری

پی ایف ٹیکس کی تجویز سے دستبرداری

تجاہل‘ تغافل ‘ تبسم ‘ تکلم
یہاں تک تو پہنچے وہ مجبور ہوکر
پی ایف ٹیکس کی تجویز سے دستبرداری
مرکزی بجٹ برائے سال 2016 – 17 جب پارلیمنٹ میں پیش کیا جانے والا تھا تو سماج کے ہر طبقہ کو این ڈی اے حکومت سے امیدیں وابستہ تھیں۔ خاص طور پر تنخواہ یافت طبقہ امید لگائے ہوئے تھا کہ اسے بجٹ میں کچھ راحت ملے گی اور ٹیکس کی استثنائی حد میں بھی اضافہ ہوگا ۔ تاہم جب وزیر فینانس ارون جیٹلی نے لوک سبھا میں یہ بجٹ پیش کیا تو اس میں کسی طرح کی راحت کی بجائے الٹا زندگی بھر محنت کرکے جمع کئے جانے والے پراویڈنٹ فنڈ سے 60 فیصد تک دستبرداری پر ٹیکس عائد کرنے کی تجویز پیش کردی گئی ۔ یہ ایسی تجویز تھی جس نے ملک بھر کے کروڑ ہا تنخواہ پانے والے طبقہ کو اچنبھے میںڈال دیا تھا ۔ تنخواہ پانے والے ملازمین کیلئے یہ ایک ایسی تجویز تھی جو ان کی زندگی بھر کی بچت پر ڈاکہ ڈالنے کے مترادف تھی ۔ ملازمین کی پریشانیوں اور مسائل کو حل کرنے پر توجہ دینے کی بجائے حکومت نے ان پر ہی نیا ٹیکس عائد کرنے کا فیصلہ کیا تھا تاہم اس تجویز کی شدت کے ساتھ ہر گوشے سے مخالفت شروع ہوگئی تھی ۔ اپوزیشن جماعتوں ‘ ٹریڈ یونینوں اور ملازمین کی تنظیموں نے اس کے خلاف احتجاج کا انتباہ دیا تھا ۔ کانگریس کے نائب صدر راہول گاندھی نے بھی اسے ایک اہم مسئلہ بناتے ہوئے اپنی تقاریر میں حکومت کونشانہ بنایا تھا ۔ انہوں نے اعلان کیا تھا کہ جب تک حکومت اس ٹیکس کی تجویز سے دستبرداری اختیار نہیں کرلیتی وہ اس وقت تک اس کے خلاف جدوجہد کرتے رہیں گے ۔ وزیر فینانس ارون جیٹلی حالانکہ اب بھی اس ٹیکس تجویز کی حمایت ہی میںنظر آتے ہیں لیکن وزیر اعظم نریندر مودی نے اس میںمداخلت کرتے ہوئے وزیر فینانس سے اس تجویز کو فی الحال روک دینے کی خواہش کی ہے ۔ اس طرح سے تنخواہ یافت طبقہ کو وقتی طور پر تو راحت مل گئی ہے ۔ اس تجویز پر پہلے یکم اپریل سے عمل آوری ہونی تھی تاہم اب اس کو روک دیا گیا ہے اور امکان ہے کہ منگل کو پارلیمنٹ میںوزیر فینانس اس تعلق سے اعلان کرینگے ۔ حالانکہ حکومت نے اب اس تجویز کو فی الحال روک دیا گیا ہے لیکن یہ نہیں کہا جاسکتا کہ ملازمین اور تنخواہ یافت طبقہ کیلئے یہ مستقل راحت ہے ۔ اب ایک بات حکومت کے ذہن میں آگئی ہے اور اس پر مستقبل میں کسی نہ کسی انداز میں عمل کیا جاسکتا ہے ۔
حکومت اور خاص طور پر وزیر فینانس نے جس طرح سے ملازمین کو نشانہ بنایا تھا وہ قابل مذمت تھا ۔ اب وزیر اعظم نے جو مداخلت کی ہے وہ بھی محض اور خالص ملازمین کے مفادات کا تحفظ کرنے کے مقصد سے نہیں ہے بلکہ اس میں سیاسی مقصد براری کی کوشش ہے ۔ ملک بھر میں پانچ ریاستوں کیلئے اسمبلی انتخابات کا اعلان کردیا گیا ہے ۔ ٹاملناڈو ‘ پڈوچیری ‘ کیرالا ‘ آسام اور مغربی بنگال میںاسمبلی انتخابات میں بی جے پی کیلئے انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔ یہ اشارے ابھی سے مل رہے ہیں کہ ان ریاستوں میں بی جے پی کی انتخابی کارکردگی کو ئی متاثر کن نہیں رہے گی ۔ ایسے میں بی جے پی مزید طبقات کو مخالف بنانے سے گریز کرنا چاہتی ہے اور شائد یہی وجہ ہے کہ کسی بھی مسئلہ پر لا تعلق بنے رہنے اور زبان کھولنے سے مستقل گریزاں وزیر اعظم نے چند دن کے اندر ہی اس معاملہ میں مداخلت کرتے ہوئے پراویڈنٹ فنڈ سے دستبرداری پر ٹیکس کی تجویز کو روک دیا ہے ۔ یہ بات بھی قابل غور ہے کہ وزیر اعظم نے وزیر فینانس کو اس تجویز کو فی الحال روک دینے کا مشورہ دیا ہے ۔ اس سے دستبرداری کی ہدایت نہیں دی ہے ۔ اس صورتحال میں یہ اندیشے بے بنیاد نہیں ہوسکتے کہ حکومت نے محض انتخابات کو پیش نظر رکھتے ہوئے اس تجویز کو التوا میںڈالا ہے اور اس سے دستبرداری اختیار نہیں کی گئی ہے ۔ انتخابات کے بعد کسی وقت اس تجویز کو دوبارہ کسی دوسرے انداز سے لاگو کیا جاسکتا ہے کیونکہ ایسا لگتا ہے کہ حکومت تنخواہ یافت طبقہ کو سہولت دینے کی بجائے ان کی زندگی بھر کی بچت کو بھی ہتھیانا چاہتی ہے ۔
مرکز میں جس وقت سے نریندر مودی کی حکومت قائم ہوئی ہے اس وقت سے تنخواہ یافت طبقہ یا مڈل کلاس طبقہ کسی اچھی خبر کی امید باندھے ہوئے تھا تاہم یہ حکومت ابتداء سے ہی کارپوریٹ برادری کو مراعات دیتی چلی آئی ہے ۔ کالا دھن واپس لانے کا وعدہ کرنے والی حکومت نے کالا دھن کو جائز دولت میں بدلنے کی اسکیم دیتے ہوئے ٹیکس چوری کرنے والوں کو راحت فراہم کردی ہے لیکن جو طبقہ مسلسل محنت کرتے ہوئے اپنی کمائی کا کچھ حصہ بچت کرتا ہے اس کو نشانہ بنانے میں کوئی کسرباقی نہیں رکھی تھی ۔ یہ تجویز انتہائی مذموم کہی جاسکتی ہے اور حکومت کو چاہئے کہ وہ سیاسی فائدہ کیلئے اسے التوا میں رکھنے کی بجائے ہمیشہ کیلئے دستبرداری اختیار کرنے کا اعلان کرے ۔ مڈل کلاس طبقہ کو راحت پہونچانا حکومت کا فرض ہے لیکن حکومت اس کے برعکس کام کر رہی ہے اور اس کو اپنے طریقہ کار میں اور اپنی ترجیحات میں تبدیلی لانے کی ضرورت ہے ۔

TOPPOPULARRECENT