Thursday , August 24 2017
Home / اداریہ / پی ایم او کا امیج

پی ایم او کا امیج

مری کیا قدر و قیمت ہے یہ کہئے
مجھے تو پوچھنا ہے آپ ہی سے
پی ایم او کا امیج
نریندر مودی کی ڈگری کو لے کر ملک بھر میں یہ کیا ہورہا ہے اور کیوں ہورہا ہے؟ اس شور کو غیرضروری اہمیت دینے کی ضرورت نہیں۔ عام آدمی پارٹی کی ترجمانی کرنے والی پارٹی کے سربراہ کی حیثیت سے اروند کجریوال نے بی جے پی قائدین کی ہر ترکیب کو ناکام بنانے کی مہم شروع کی ہے تو پھر مودی کی ڈگری کو جعلی قرار دے کر مسترد کردیتے ہیں تو ضرور کچھ نہ کچھ بات ہے جس کی پردہ داری ہے۔ صدر بی جے پی امیت شاہ اور وزیر فینانس ارون جیٹلی نے مودی کی ڈگری کو لے کر میڈیا کے سامنے جس طرح نمودار ہونے کی کوشش کی، سوال یہ ہے کہ آیا بی جے پی قائدین کو اس طرح میڈیا کے سامنے آکر ڈگری بتانے کی ضرورت تھی۔ مودی کے حق میں صفائی بیان کرنے سے ملک کے عوام کو کیا سروکار ہے۔ اروند کجریوال نے مودی کے خلاف جو محاذ کھول رکھا ہے، اس پر بی جے پی قائدین نے غیرضروری حساسیت کا مظاہرہ کرکے مودی کی ڈگری کو پہلے سے زیادہ مشکوک بنادیا ہے۔ ویسے وزیراعظم بننے کے لئے کسی بھی شخص کو تعلیمی قابلیت کی ضرورت نہیں ہے۔ دستوری تقاضہ بھی نہیں ہے کہ ملک کا وزیراعظم تعلیم یافتہ ہو، لیکن بی جے پی اس مسئلہ پر زور دے رہی ہے تو اس کی وجہ کیا ہے۔ اس بارے میں وزیراعظم کو ازخود وضاحت کرنی چاہئے مگر مودی نے اپنی تعلیمی قابلیت کے بارے میں مکمل خامیاں پیدا کرتے ہوئے وزیراعظم کے دفتر کے وقار کو نہ صرف پامال کیا ہے بلکہ اپوزیشن کو انگلی اٹھانے کا بھی موقع دیا ہے۔ عام آدمی پارٹی نے بی جے پی کی جانب سے پیش کردہ مودی کی ڈگری کی صداقت کا سوال اٹھایا ہے کیونکہ ڈگری سرٹیفکیٹ اور مارک شیٹس میں کئی خامیاں پائی جاتی ہیں۔ وزارتِ عظمی پر فائز شخصیت کو غیرت اور ضمیر کا پاس و لحاظ رکھنا ضروری ہے۔ مودی کی امیج کی فکر رکھنے والی بی جے پی نے اس مسئلہ کو غیرضروری سنجیدہ لے کر الٹ پلٹ حرکتیں کرنے لگے تو پھر عوام کو یہ یقین ہوجائے گا کہ مودی کے حوالے سے بی جے پی کی جھوٹ پر مبنی صفائی میں بھی کچھ کالا ہے۔ یہ مسئلہ بی جے پی کے قائدین نے ہی سنجیدہ بنایا تھا۔ گجرات یونیورسٹی کے وائس چانسلر نے بھی مودی کی ہمدردی میں بیانات دیئے تھے۔ بی جے پی قائدین ازخود یہ کہہ چکے ہیں کہ مودی کی ڈگریاں کس یونیورسٹی کی ہیں، دہلی یونیورسٹی سے انہوں نے بی اے کیا اور گجرات یونیورسٹی سے پولیٹیکل سائنس میں ایم اے کیا ہے۔ یہ مسئلہ اتنا مشکوک بنادیا گیا کہ لوگوں کو وزیراعظم کی تعلیمی قابلیت پر شبہ ہونے لگا۔ یہ بدبختی کی بات ہے کہ وزیراعظم کی تعلیمی قابلیت کی وضاحت کرنی پڑی ہے۔ بی جے پی صدر امیت شاہ نے یہ وضاحت کرکے وزیراعظم کے وقار کو مزید ضرب پہونچائی ہے۔ بی جے پی کی وضاحت کے بعد دونوں یونیورسٹیوں کے ترجمانوں نے مودی کی ڈگری سرٹیفکیٹس کے حقیقی ہونے پر تبصرہ سے انکار کردیا۔ عام آدمی پارٹی اپنے الزامات پر قائم ہے کیونکہ جس غلطی کو چھپانے کی کوشش کی گئی، اس میں بھی خامیاں پائی جاتی ہیں اور یہ واضح ہوتا ہے کہ وزیراعظم نے اپنی ڈگریوں کے تعلق سے جھوٹ بولا تھا۔ اب اس موضوع کو سیاسی سطح پر کہاں تک لے جایا جائے گا۔ یہ آنے والے دنوں میں معلوم ہوگا۔ عام آدمی پارٹی کے صدر کجریوال نے بی جے پی کی ناک میں دَم کرنے کا بیڑہ اٹھایا ہے تو وہ اپنے قدم پیچھے ہٹالینے تیار نہیں لیکن ڈگری کی اصلیت کے تعلق سے آر ٹی آئی کے تحت جو سوال اٹھائے گئے تھے ، دہلی یونیورسٹی نے اس کے متعلق درست معلومات فراہم کی تھیں۔ اب جبکہ ملک کے وزیراعظم کی امیج کا مسئلہ ہے تو دہلی یونیورسٹی کو بھی اپنی امیج بچانے کی فکر لاحق ہوگئی ہے۔ بہرحال دہلی یونیورسٹی کو ہی اس مسئلہ میں آگے آکر وضاحت کرنی ہوگی۔ درست تعلیمی اداروں کی غلطیوں سے پھوٹ پڑنے والی شک و شبہ کی وباء یونیورسٹی کے اعتبار کو ٹھیس پہونچاسکتی ہے۔ ملک کے عوام کے لئے یہ موضوع بھی بڑی بدبختی کی بات ہے کیونکہ جن مسائل کو اہمیت دینی چاہئے تھی، وہ سرکاری سطح پر پس پشت ڈال دیئے گئے اور بی اے، ایم اے کے اِردگرد سارے ملک کو چکر لگانے پر مجبور کیا جارہا ہے۔ سیاست دانوں کی تعلیمی قابلیت کے شور میں اس وقت مرکزی حکومت کے کئی وزراء کا تعلیمی ریکارڈ کچھ بھی ہو، عوامی کارکردگی کے لئے ان کی صلاحیتوں کا مظاہرہ ہی اہمیت رکھتا ہے۔ حکومت کی سطح پر تعلیمی اُمور کو بُری طرح نظرانداز کردینا اور یونیورسٹیوں کے تقدس، ڈگریوں کی افادیت کو پامال کرنے کی کوشش بلاشبہ ایک افسوسناک عمل ہے۔

TOPPOPULARRECENT