Friday , July 28 2017
Home / اداریہ / پی ڈی ایکٹ اورحکومت

پی ڈی ایکٹ اورحکومت

تلنگانہ حکومت کی کارکردگی پر سپریم کورٹ نے بھی سرزنش کی ہے ۔ یہ غور طلب امر ہے کہ ریاست میں کروڑہا روپئے کی لوٹ کھسوٹ میں ملوث افراد قانون کے شکنجہ سے آزاد ہیں اور ایک شخص کو جیل میں رکھا گیا ہے‘ جس کا قصور مبینہ طور پر صرف پانچ ساڑیاں سرقہ کرنے کا ہے۔ سپریم کورٹ نے تلنگانہ حکومت کی سرزنش کرتے ہوئے اس سے سوال کیاکہ آیا  احتیاطی اقدام کے طور پر ایک شخص کو تحویل میں رکھنا جائز ہے۔ چیف جسٹس جے ایس کھیر کے ایک ایسے وقت تلنگانہ حکومت کا کان پکڑا جب اس حکومت کی کارکردگی وعدوں اور عمل میں کافی فرق پیدا ہونے کی شکایات میںشدت پائی جانے لگی ۔ ریاست میں ہر وہ بڑا آدمی اور سیاستداں ‘ لینڈ گرابرس‘ منافع خور ‘ کالابازاری اور رشوت خور سرکاری عہدیدار قانون کی گرفت سے آزاد ہیں اور مصیبت صرف پانچ ساڑی کا سرقہ کرنے والے ایک شہری پر ٹوٹ پڑی اور وہ ایک سال سے جیل میں بند ہے ۔ اس شخص کی بیوی نے جانب سے داخل کردہ درخواست پر غور کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے یہ بھی نوٹ لیا کہ مقدمہ کے بغیر کسی کو طویل مدت تک تحویل میں رکھنا قانون کی رو سے غور طلب ہے ۔  آخر ہم سماج کو کس طرف لے جا رہے ہیں ‘ اس ملک میں کیا کچھ ہو رہا ہے ۔ ہم کو یہ دیکھنا چاہئے کہ اس ملک کے عوام کو حکومت ہراساں نہ کرے ۔ ہم نے سوچا ہے کہ تلنگانہ بھی ایک اچھی ریاست ہے اگر اس شخص نے پانچ ساڑیوں کا سرقہ کرلیاہے اور اس میں بھی سچائی ہے تو کیا حکومت اس شخص کو ایک سال تک جیل میں بند رکھے گی اور احتیاطی اقدام کے طور پر اسے حراست کا نام دیا جائیگا ۔ جسٹس جے ایس کھیر کے تاثرات ظاہر کرتے ہیںکہ حکومت  تلنگانہ کی کارکردگی پر کاری ضرب ہے ۔ ریاستوں میں نافذ قوانین کو اکثر خطرناک اور انسانی حقوق کے مغائر کہا جاتاہے ۔ آندھراپردیش اور تلنگانہ دونوں ریاستوں میں اس قانون 1986  پر عمل کیا جا رہا ہے ۔ نقیب زنی ‘ڈکیتی ‘ منشیات ‘ غنڈہ ازم ‘ غیر اخلاقی جرائم اور لینڈ گرابرس سیاسی مقاصد کے لئے بھی استعمال ہوتے ہیں ۔ سپریم کورٹ کی جانب سے حکومت تلنگانہ کی توجہ ایسے ہی متمول اور بااثر لوگوں کی جانب نشاندہی کی گئی ہے جو تمام خرابیوں کے باوجود آزادی سے گھوم رہے ہیں ۔ جہاں تک لینڈ گرابرس کا معاملہ ہے ریاست میں سرکاری اور اوقافی جائیدادوں انہی لینڈ گرابرس کا قبضہ ہے مگر حکومت اور قانون کے ہاتھ ان کے گریباں تک پہونچنے میں ناکام ہیں۔ وقف کے اراضیات پر قابض لینڈ مافیا کے لوگوں کو حکومت کی سرپرستی یا حکمراں طبقہ کے ارکان کی جانب سے پشت پناہی کے باعث تلنگانہ میں لاکھوں ایکڑ اوقافی جائیدادووں لینڈ گرابرس کے زیر قبضہ ہیں۔ حکومت اور قانون کے رکھوالوں کو ہر چیز کا علم ہوتا ہے اس کے باوجود لینڈ مافیا کے خلاف مفاد پرستی کی وجہ سے کارروائی نہیں کرتی۔ ایک سال سے جیل میں رکھنے کی طرح لینڈ گرابرس کو بھی جیل کی سلاخوں کے پیچھے رکھا جائے تو ریاست کے نظم و نسق سے شفافیت ہوسکتی ہے ۔ ناجائز قبضوں کو برخواست کر کے سرکاری و اوقافی جائیدادوں سے عوام الناس کے بہبود کے لئے استفادہ کیا جاسکتا ہے ۔ افسوس اس بات کا ہے کہ سابق متحدہ آندھراپردیش کی حکومتیں یاعلحدہ ریاست تلنگانہ کی حکومت لینڈ گرابرس ‘ بڑے دھوکہ بازوں ‘امیر ترین لوگوں کے خلاف کارروائی کرنے ہمت نہیں کرتیں ۔ یہ ایک المیہ ہے کہ اس المیہ کا سخت نوٹ لے کر سپریم کورٹ نے حکومت کو اس کے فرائض کی جانب توجہ دلائی ہے اگر حکومت سپریم کورٹ کی سرزنش سے شرمندگی محسوس کرتی ہے تو اسے فوری اصل اپنے عوامل کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے تاکہ انصاف و قانون کی شفافیت اور برتری پر کوئی قدر کرسکے ۔ پی ڈی ایکٹ کے دفعات کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کسی معمولی گناہ گار کو سخت سزا دی جائے تو یہ خلاف قانون متصور ہوتا ہے ۔ پی ڈی ایکٹ کے دفعات کے مطابق  حکام کے لئے یہ لازمی ہے کہ وہ ایک شخص کی گرفتاری سے متعلق تمام تفصیلات پیش کرے ۔ بغیر کسی وجہ کے ایک عام شہری ظلم و زیادتی بیجا کاررائیوں کے سواء کچھ نہیں ہے ۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT