Sunday , October 22 2017
Home / ہندوستان / پے کمیشن کی سفارشات پر عمل آوری دشوار گذار

پے کمیشن کی سفارشات پر عمل آوری دشوار گذار

مختلف  ریاستوں میں تقلید سے بجٹ خسارہ کا اندیشہ
نئی دہلی۔/8جولائی، ( سیاست ڈاٹ کام ) مرکزی حکومت کی جانب سے ساتویں تنخواہ کمیشن کی رپورٹ پر عمل آوری کے نتیجہ میں سال 2015-16 میں سرکاری خزانہ پر 1.1کھرب روپئے کا بھاری بوجھ عائد ہوسکتا ہے جبکہ مرکزی ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ کے بعد ریاستی حکومتوں کو بھی اسی نقش قدم پر گامزن ہونا پڑیگا۔ سابق چھٹویں تنخواہ کمیشن کے مارچ 2008 میں رپورٹ پیش کرنے کے بعد ریاستوں کو بھی تنخواہوں پر نظرِ ثانی کیلئے حجبور ہونا پڑا گوکہ بعض ریاستوں آندھرا پردیش، کیرالا، پنجاب اور کرناٹک نے  علحدہ پے کمیشن تشکیل دیا تھا، سال 2008 میں ریاستوں نے فزیکل ریسپانسبلٹی اینڈ بجٹ مینجمنٹ ایکٹ نافذ کیا تھا اور سرکاری مصارف میں کٹوتی کردی گئی تھی تاکہ بجٹ خسارہ پر قابو رکھا جاسکے لیکن خاطر خواہ نتائج برآمد نہیں ہوسکے تاہم انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف مینجمنٹ کولکتہ نے سرکاری ملازمین کیلئے تنخواہ اور بھتہ میں اضافہ کے اثرات کا جائزہ لیا ہے جس میں یہ نشاندہی کی ہے کہ پے کمیشن کی رپورٹ پر عمل آوری سے قومی معیشت پر تباہ کن اثرات مرتب ہوسکتے ہیں تاہم ریزرو بینک آف انڈیا کی تجزیاتی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پے کمیشن کی سفارشات سے ان ریاستوں میں مشکلات پیدا ہوسکتی ہیں جہاں پر عوامی شعبہ کے ادارے پائے جاتے ہیں ان ریاستوں میں گجرات اور جھارکھنڈ شامل ہیں کیونکہ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور وظائف کی ادائیگی میں حکومت کا کوئی خاص حصہ نہیں ہے اور یہاں پر اکثریت خانگی ملازمین کی ہے لیکن کیرالا اور پنجاب میں سرکاری ملازمین کو قابل لحاظ تنخواہیں اور وظائف ادا کئے جانے سے معاشی مشکلات درپیش ہوسکتی ہیں۔ علاوہ ازیں مغربی بنگال اور مہاراشٹرا میں بھی سرکاری اور عوامی شعبہ کے اداروں کے ملازمین کی تعداد معمولی ہے لیکن چھتیس گڑھ اور ہریانہ چھوٹی ریاستیں ہونے کے باوجود سرکاری ملازمین کو زبردست تنخواہیں اور وظائف ادا کی جاتی ہیں۔ مطالعاتی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بہار، اڈیشہ اور راجستھان میں بھی اعظم ترین شرح تنخواہیں ادا کی جاتی ہیں جو کہ سرکاری خزانہ کی صحت کے لئے مناسب نہیں ہے۔

TOPPOPULARRECENT