Wednesday , August 23 2017
Home / شہر کی خبریں / چارمینار راہروپراجکٹ کے آغازپر الجھن

چارمینار راہروپراجکٹ کے آغازپر الجھن

انتظامی قطعیت کے باوجود سیاسی منظوری کا انتظاربے چینی کا سبب
حیدرآباد۔ 4 اپریل (سیاست نیوز) ریاستی وزیر بلدی نظم و نسق و انفارمیشن ٹیکنالوجی مسٹر کے ٹی راما راؤ کے چارمینار پیدل راہرو پراجکٹ کا جائزہ لئے جانے اور اندرون 6 ماہ پراجکٹ کی تکمیل کا اعلان کئے جانے کے بعد عوام میں بے چینی پیدا ہوچکی ہے۔ علاقہ کے تاجرین بالخصوص ٹھیلہ بنڈی رانوں کی جانب سے پیدل راہرو پراجکٹ کی قطعی شکل سے آگہی کی کوششیں کی جارہی ہیں۔ اسی طرح مالکین جائیداد پراجکٹ کی تکمیل کیلئے حاصل کئے جانے والی جائیدادوں کی تفصیل کے حصول میں مصروف نظر آرہے ہیں۔ پیدل راہرو پراجکٹ کو عملی شکل دینے کیلئے یہ لازمی ہے کہ موتی گلی سے لاڈ بازار کی سمت پہونچنے والی سڑک کو جوڑنے کیلئے لاڈ بازار سے مٹی کا شیر، نئی سڑک نکالی جائے اور اس سلسلے میں بلدی عہدیدار منصوبہ کو بڑی حد تک قطعیت دے چکے ہیں لیکن اس منصوبہ کی سیاسی منظوری کا انتظار کیا جارہا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ لاڈ بازار کے علاوہ گلزار حوض و پتھر گٹی کے تاجرین کی جانب سے پراجکٹ کے خدوخال میں لائی جانے والی تبدیلی کا مشاہدہ کرنے کیلئے بے چینی پائی جاتی ہے اور وہ اس سلسلے میں بلدی عہدیداروں سے رابطہ قائم کررہے ہیں تاکہ پراجکٹ کو قطعیت دیئے جانے پر ضروری اقدامات یقینی بنایا جاسکے۔ تاجرین کا کہنا ہے کہ پرانے شہر میں پہلی مرتبہ کسی ریاستی وزیر نے مقررہ مدت میں کام کی تکمیل کا اعلان کرتے ہوئے پراجکٹ کے ترقیاتی کاموں کو شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور اس سلسلے میں کسی دباؤ کو قبول نہ کرتے ہوئے جو تاثر دیا ہے، اس سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ گزشتہ کئی برسوں سے تعطل کا شکار چارمینار پیدل راہرو پراجکٹ اب واقعی مکمل ہونے جارہا ہے اور کوئی طاقت اس پراجکٹ  میں رکاوٹ پیدا نہیں کر پائے گی۔ مسٹر کے ٹی راما راؤ کے دورہ اور پراجکٹ کا جائزہ لئے جانے کے بعد بلدی عہدیداروں کے حوصلوں میں بھی اضافہ ہوا ہے۔

TOPPOPULARRECENT