Monday , August 21 2017
Home / شہر کی خبریں / چارمینار پیدل راہرو پراجکٹ، تاریخی چارمینار کے اطراف پارکس

چارمینار پیدل راہرو پراجکٹ، تاریخی چارمینار کے اطراف پارکس

جی ایچ ایم سی سے پراجکٹ کے کام کا احیاء، دیگر ترقیاتی پروگراموں کو قطعیت
حیدرآباد 8 مئی (سیاست نیوز) چارمینار پیدل راہرو پراجکٹ کے تحت چارمینار کے اطراف چھوٹے پارک کی تعمیر کے منصوبے کو بھی تقریباً قطعیت دے دی گئی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کی جانب سے چارمینار پیدل راہرو پراجکٹ کے سلسلہ میں تعمیراتی کاموں کے آغاز کے ساتھ ہی اطراف کے علاقوں میں یکساں سائن بورڈس کی تنصیب اور پارک کی تعمیر کا بھی جائزہ لیا جارہا ہے تاکہ تعمیراتی کاموں کے ساتھ ساتھ چارمینار کے اطراف کے علاقہ کو خوبصورت بنانے کے اقدامات کئے جاسکیں۔ ذرائع سے موصولہ اطلاعات کے بموجب بہت جلد لاڈ بازار کے علاوہ اطراف کے دیگر علاقوں میں جہاں تاجرین اپنی ملکیت سے باہر فٹ پاتھ پر کاروبار کررہے ہیں اُسے ہٹانے کے اقدامات کئے جائیں گے۔ اِسی طرح ٹھیلہ بنڈی رانوں کو ایک صف میں کھڑا کرنے کے ساتھ گشتی کاروبار کو فروغ دینے پر غور کیا جارہا ہے۔ چارمینار پیدل راہرو پراجکٹ کے سلسلہ میں موتی گلی میں پارکنگ کامپلکس کے لئے قدیم خزانہ عامرہ کی عمارت کو منہدم کرنے کا عمل شروع کردیا گیا ہے جہاں عصری ٹیکنالوجی سے آراستہ پارکنگ کامپلکس کی تعمیر یقینی بنائی جائے گی۔ شہر حیدرآباد کے مرکزی مقام چارمینار کو تفریحی و سیاحت کے مرکز کے طور پر ترقی دینے کے منصوبے کے تحت چارمینار پر مفت وائی فائی خدمات کا آغاز عمل میں لایا جاچکا ہے اور علاقہ کو رات کے اوقات میں مزید خوبصورت بنانے کے لئے عصری برقی نظام سے مربوط کیا جائے گا۔ فی الحال چارمینار تا گلزار حوض کے درمیان فرش اندازی کا کام شروع کردیا گیا ہے جوکہ بہت جلد مکمل کرلیا جائے گا جس کے فوری بعد ٹھیلہ بنڈی رانوں کے مسائل کو حل کرنے کے اقدامات کئے جائیں گے۔ چارمینار سے مکہ مسجد کی سمت پیدل راہرو پراجکٹ کے تحت فرش اندازی کے کاموں کا جاریہ ماہ کے اواخر میں آغاز متوقع ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ بلدی عہدیداروں نے ٹریفک پولیس اور دیگر محکمہ جات سے مشاورت کرتے ہوئے ماقبل رمضان سڑک کی کھدوائی اور فرش اندازی کے کاموں کی تکمیل کا منصوبہ تیار کیا ہے۔ چارمینار پیدل راہرو پراجکٹ کے تحت زیرزمین برقی سربراہی نظام کو یقینی بنانے کے لئے اقدامات کا آغاز کیا گیا تھا لیکن اِسے عملی جامہ نہیں پہنایا جاسکا۔ بتایا جاتا ہے کہ اِس سلسلہ میں بہت جلد برقی عہدیداروں سے مشاورت کے بعد قطعی فیصلہ کریں گے لیکن بہرصورت زیرزمین برقی سربراہی نظام کو یقینی بنایا جانا ناگزیر ہے چونکہ برقی تاروں کے سبب علاقہ کی خوبصورت پر اثر پڑسکتا ہے۔

TOPPOPULARRECENT