Thursday , August 17 2017
Home / شہر کی خبریں / چارمینار پیدل راہرو پراجکٹ لیت و لعل کا شکار

چارمینار پیدل راہرو پراجکٹ لیت و لعل کا شکار

لاڈ بازار تا مٹی کے شیر راستے کی کشادگی کیلئے جائیدادوں کا حصول باقی
حیدرآباد ۔ 8 ۔ مارچ : ( سیاست نیوز ) : چارمینار پیدل راہرو پراجکٹ پر عمل آوری سے قبل عہدیدار منصوبہ کے مطابق جائیدادوں کے حصول اور لاڈ بازار سے مٹی کے شیر کی جانب راستہ نکالیں اور پھر پراجکٹ پر عمل آوری کو یقینی بنانے کے اقدامات کریں ۔ چارمینار پیدل راہرو پراجکٹ پر عمل آوری کے لیے اطراف کے علاقوں میں سڑکوں کی کشادگی اور جائیدادوں کے حصول کا عمل ابھی باقی ہے ۔ گزشتہ دنوں لاڈ بازار میں پیدل راہرو پراجکٹ کے سلسلہ میں شروع کردہ تعمیری کاموں کو رکوائے جانے کی خبر شائع ہونے کے بعد پیدا شدہ صورتحال میں آج بلدی عہدیداروں کو اس بات کی ہدایت دی گئی ہے کہ جس جگہ کھودا گیا ہے وہاں فوری مرمتی کام انجام دیتے ہوئے سڑک کو ہموار کردیا جائے اور لاڈ بازار سے مٹی کے شیر کی جانب نکالی جانے والی مجوزہ سڑک کی توسیع اور جائیدادیں حاصل کرتے ہوئے ماسٹر پلان پر توجہ مرکوز کی جائے ۔ پراجکٹ کے متعلق بلدی عہدیداروں کی دلچسپی پر نمائندوں نے شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بغیر اجازت شروع کئے جانے والے تعمیری کاموں کا یہی حشر ہوتا ہے ۔ مقامی تاجرین نے لاڈ بازار میں آٹو کے داخلہ پر عائد امتناع پر بھی توجہ مبذول کروائی لیکن یہ بات طئے ہے کہ چارمینار کے اطراف آٹوز کی حمل و نقل پر عائد امتناع کی برخاستگی ممکن ہے چونکہ اس عمل سے عوام کو حاصل سہولت کا سب کو احساس ہے ۔ چارمینار پیدل راہرو پراجکٹ پر لاڈ بازار میں عمل آوری بالواسطہ طور پر مزید غیر معینہ مدت کے لیے ٹال دی گئی ہے کیوں کہ اب بلدی عہدیدار ماسٹر پلان کے لیے جائیدادوں کے حصول اور نئی سڑک کو منصوبہ کے مطابق تعمیر کی کوششوں میں 6 ماہ سے زائد کا عرصہ گزار دیں گے اور اس مجوزہ نئی سڑک کے لیے جائیدادوں کے حصول میں آنے والی دشواریاں مسئلہ کو مزید وقت طلب اور پیچیدہ بنا سکتی ہیں ۔ پراجکٹ پر غیر یقینی صورتحال کے بادل عرصہ دراز سے منڈلا رہے ہیں کبھی اس پراجکٹ کو ٹھیلہ بنڈی رانوں کے نام پر روکا گیا لیکن جب پراجکٹ میں ٹھیلہ بنڈی رانوں کی منتقلی نہ کرنے کی یقین دہانی کروائی گئی تو گلزار حوض کے قریب موجود سونے چاندی کے دکانات کے کاروبار متاثر ہونے کا خدشہ ظاہر کرتے ہوئے دباؤ ڈالا گیا اسی طرح اس پراجکٹ میں ہورہی تاخیر سے بلدی عہدیدار عاجز آچکے ہیں ۔ باوثوق ذرائع سے موصولہ اطلاعات کے بموجب بلدیہ کے اعلیٰ عہدیداروں نے فیصلہ کیا ہے کہ مذکورہ پراجکٹ کی مکمل تفصیلات متعلقہ وزیر مسٹر کے ٹی راما راؤ کو پیش کرتے ہوئے ان سے مشاورت کی جائے چونکہ اس پراجکٹ پر عدم عمل آوری بالواسطہ طور پر ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہے چونکہ پراجکٹ کی تکمیل سے نہ صرف علاقہ کی ترقی ہوگی بلکہ سیاحوں کی آمد میں اضافہ ہونے کے ساتھ عالمی سطح کے تہذیبی ورثہ کی فہرست میں تاریخی چارمینار کے اندراج کی راہیں ہموار ہوں گی ۔ بلدی عہدیداروں نے سیاسی قائدین کی برہمی پر ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ عہدیدار تاریخی عمارت کے تحفظ کے لیے کام کررہے ہیں تو انہیں روکا جارہا ہے اور تاریخی چارمینار و مکہ مسجد کے درمیان قوانین کی کھلی خلاف ورزی کرتے ہوئے دونوں عمارتوں کی خوبصورتی کو متاثر کرنے والی غیر مجاز تعمیرات کو رکوانے میں آخر سیاستدانوں کی دلچسپی کیوں نہیں ہے ؟ ۔۔

TOPPOPULARRECENT