Tuesday , October 24 2017
Home / شہر کی خبریں / چارمینار پیدل راہرو پراجکٹ پر عمل آوری میں جی ایچ ایم سی ناکام

چارمینار پیدل راہرو پراجکٹ پر عمل آوری میں جی ایچ ایم سی ناکام

منصوبہ بندی ، حکمت عملی اور تاجرین سے بات چیت کا عمل شروع نہیں، کے ٹی آر کے وعدہ پر عوام کی نظر

حیدرآباد 17 اپریل (سیاست نیوز) چارمینار پیدل راہرو پراجکٹ پر عمل آوری کے متعلق علاقہ کے تاجرین میں پھیلی بے چینی کو دور کرنے میں مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد اب بھی ناکام نظر آرہی ہے جبکہ اسمبلی کے بجٹ سیشن کے دوران مقامی منتخبہ نمائندوں کی جانب سے توجہ دہانی کے بعد ریاستی وزیر بلدی نظم و نسق مسٹر کے ٹی راما راؤ نے چارمینار کے اطراف کے علاقوں کا دورہ کرتے ہوئے پراجکٹ کے ترقیاتی کاموں کو شروع کرنے کی منصوبہ بندی و حکمت عملی کے علاوہ مقامی تاجرین سے بات چیت کا عمل شروع کرنے کا اعلان کیا تھا اور اِس بات کا عہد کیا تھا کہ اندرون 6 ماہ پراجکٹ کی تکمیل کو یقینی بنایا جائے گا لیکن یکم اپریل کو ہوئے اِس دورہ کے دو ہفتے گزرنے کے باوجود بھی یہ بات واضح نہیں ہو پائی ہے کہ پراجکٹ پر عمل آوری کی شروعات کیسے کی جائے گی اور اب تک کئے گئے ترقیاتی کاموں کی بقاء کے لئے کیا اقدامات کئے جائیں گے۔ علاوہ ازیں ٹھیلہ بنڈی رانوں کے علاوہ فٹ پاتھ پر کاروبار کرنے والے چھوٹے تاجرین کے مستقبل کے متعلق کوئی وضاحت گزشتہ دو ہفتوں کے دوران نہیں کی گئی جس کی وجہ سے تاجرین میں بے چینی پائی جاتی ہے۔ مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کے عہدیداروں کے بموجب آئندہ ہفتہ کے اواخر میں متعلقہ عہدیدار علاقہ کے تاجرین کے ہمراہ اجلاس منعقد کرتے ہوئے متبادل راستوں کے علاوہ منصوبے کے متعلق تبادلہ خیال کریں گے اور اِس اجلاس کی رپورٹ منتخبہ نمائندوں کے علاوہ حکومت کو روانہ کردی جائے گی تاکہ حکومت چارمینار پیدل راہرو پراجکٹ کے سلسلہ میں قطعی فیصلہ کے بعد ترقیاتی کاموں کے آغاز کو منظوری دے سکے۔ بتایا جاتا ہے کہ تاجرین کی جانب سے بھی متبادل راستوں کی تجاویز حاصل کرنے کے متعلق بلدی عہدیدار منصوبہ تیار کررہے ہیں تاکہ اپنی تجاویز کے ساتھ تاجرین کی تجاویز پر بھی غور کیا جاسکے۔ علاوہ ازیں ٹھیلہ بنڈی رانوں اور فٹ پاتھ پر کاروبار کرنے والے تاجرین کے مستقبل کے متعلق بھی حکمت عملی تیار کرنے کی عہدیداروں کو ہدایت دی گئی ہے۔ ذرائع کے بموجب فٹ پاتھ پر تجارت کرنے والے تاجرین کی منتقلی کی صورت میں ہونے والے امکانی مسائل کا بھی جائزہ لیتے ہوئے اِس بات کو یقینی بنانے پر زور دیا جارہا ہے کہ چھوٹے تاجرین کی منتقلی کے بغیر پراجکٹ کی تکمیل کی جاسکے۔

TOPPOPULARRECENT