Wednesday , August 23 2017
Home / شہر کی خبریں / چار فیصد تحفظات سے مسلمانوں میں انقلابی تبدیلی

چار فیصد تحفظات سے مسلمانوں میں انقلابی تبدیلی

کالجس اور یونیورسٹیز میں مسلم طلباء کی تعداد میں اضافہ : کودنڈا رام
حیدرآباد۔27اکٹوبر(سیاست نیوز) ریاست میں مسلم تحفظات کے نفاذ کے بعد تعلیمی میدان میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں پیش ائی ۔ کالجس اور یونیورسٹیز میں مسلم طلباء کی تعداد میںجہاں اضافہ ہواوہیں پر اعلی تعلیم کے میدان میں بھی مسلم طلباء کی اچھی خاصی تعداد دیکھائی دینے لگی اورتعلیمی یافتہ مسلمانوں کو روزگار بھی ملنے لگا ۔ چیرمن تلنگانہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی پروفیسر کودنڈارام نے میڈیا سے خطاب کے دوران یہ بات کہی۔ تلنگانہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے دفتر واقع نامپلی پرذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے چیرمن تلنگانہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی پروفیسر کودنڈارام نے کہاکہ تلنگانہ ریاست میں مسلمانوں کو آبادی کے تناسب سے تحفظات کی فراہمی کے متعلق چلائی جانے والی ہر تحریک کا تلنگانہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی مکمل ساتھ دے گی۔ انہوں نے ادارے سیاست کی جانب سے مسلم ایمپاورمنٹ اور بارہ فیصد تحفظات کے ضمن میںچلائی جارہی تحریک کی ستائش کرتے ہوئے کہاکہ تلنگانہ حکومت کے انتخابی وعدے کی تکمیل کے لئے اس قسم کی تحریک وقت کی اہم ضرورت ہے۔ پروفیسر کودنڈارام نے مزید کہاکہ ریاست تلنگانہ میںتعلیمی اور معاشی طور پر پسماندہ طبقات کے ساتھ انصاف کے لئے تحفظات کی فراہمی ضروری ہے ۔ انہوں نے تحفظات کو پسماندگی کاشکار کی زندگیوں میںانقلابی تبدیلیاں لانے والا اقدام قراردیتے ہوئے کہاکہ سابق میںجب متحدہ ریاست آندھرا پردیش تھی اس وقت کی کانگریس حکومت نے مسلمانو ںکو چار فیصد تحفظات فراہم کئے تھے جس کے بعد ریاست کے تعلیمی ادارے بالخصوص کالج اور یونیورسٹیز میں مسلمانوں کی اچھی خاصی تعداد دیکھائی دے رہی تھی اس سے قبل اعلی تعلیم کے میدان میں مسلمانوں کی تعداد نا کے برابر تھے۔ انہوں نے کہاکہ چار فیصد تحفظات کی فراہمی کے بعد مسلمانوں کے حالات میںبڑے پیمانے پر تبدیلیاں رونما ہوئی۔چیرمن تلنگانہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی پروفیسر کودنڈارام نے مسلم تحفظات کی تحریک میں تلنگانہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی بھی حصہ داری کا اعلان کرتے ہوئے کہاکہ تلنگانہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی مسلم تحفظات کے ضمن میںحکومت تلنگانہ پر دبائو کے لئے ایک متحدہ پلیٹ فارم بھی تشکیل دے گا جس کے ذریعہ گول میز کانفرنس ‘ اجلاس‘ جلسہ او رگروپ میٹنگ بھی منعقد کئے جائیںگے اور حکومت تلنگانہ کے ذمہ داران سے اس ضمن میںنمائندگی بھی کی جائے گی۔پروفیسر کودنڈارام نے قومی سطح پر دلتوں اور مسلمانوں پر بڑھتے مظالم پر بھی اس تشویش کا اظہار کیا او رکہاکہ قومی سالمیت کے بڑھتے خطرات کو دور کرنے کے لئے مرکزی حکومت کا حرکت میںآناضروری ہے انہوں نے ریاستی حکومتوں کو بھی اپنی ذمہ داریاں ایمانداری کے ساتھ نبھانے کا مشورہ دیا تاکہ ہندوستان کے جمہوری نظام کا تحفظ کیاجاسکے ۔ پروفیسر کودنڈارام نے دادری میںاخلاق کے بعد سون پیٹ میں دلت بچوں کو زندہ جلادینے اور اترپردیش میںہی سل فون اور کبوتر چورے کے جھوٹے الزام میں دلت بچے کو زدکوب کرنے کے بعد موت کے گھاٹ اتاردینے کے واقعات کی سختی کہ ساتھ مذمت کی۔انہوں نے اس قسم کے واقعات کی روک تھام کو ضروری قراردیا ۔

TOPPOPULARRECENT