Saturday , August 19 2017
Home / بچوں کا صفحہ / چاند اور تارے

چاند اور تارے

علامہ محمد اقبال

ڈرتے ڈرتے دم سحر سے
تارے کہنے لگے قمر سے
نظارے رہے وہی فلک پر
ہم تھک بھی گئے چمک چمک کر
کام اپنا ہے صبح و شام چلنا
چلنا ، چلنا ، مدام چلنا
بیتاب ہے اس جہاں کی ہر شے
کہتے ہیں جسے سکوں ، نہیں ہے
رہتے ہیں ستم کش سفر سب
تارے ، انسان شجر ، حجر سب
ہوگا کبھی ختم یہ سفر کیا؟
کہنے لگا چاند ، ہم نشینو!
اے مزرع شب کے خوشہ چینو!
جنبش سے ہے زندگی جہاں کی
یہ رسم قدیم ہے یہاں کی
اس رہ میں مقام بے محل ہے
پوشیدہ قرار میں اجل ہے
چلنے والے نکل گئے ہیں
جو ٹہرے ذرا ، کچل گئے ہیں

TOPPOPULARRECENT