Sunday , October 22 2017
Home / ادبی ڈائری / چراغ امید جل اٹھے

چراغ امید جل اٹھے

خیرالنساء علیم
حالات سے سمجھوتہ کرنا ہی دانشمندی ہوتی ہے۔  ایک ایسی لڑکی کی کہانی جس نے اپنی بلند ہمتی سے نہ صرف اپنے آپ کو بلکہ اپنے خاندان کو اجالے کی راہ دکھائی ۔ وہ کتنی کامیاب رہی ہے اس کا فیصلہ قارئین کے ہاتھ میں ہے۔ ماریا اپنے کمرے میں چپ چاپ کسی گہری سوچ میں ڈوبی ہوئی تھی ۔ قلم اس کے ہاتھ میں تھا ۔ مگر الفاظ اس کا ساتھ چھوڑ رہے تھے ۔ نہ معلوم وہ کن الجھنوں میں الجھی ہوئی تھی ۔ ’’ماریا…‘‘ امی کی آواز نے اسے چونکا دیا … وہ خیالوں کی دنیا سے واپس آئی اور جلدی سے برآمدہ میں آگئی… ’’کیا کر رہی تھیں بیٹی اندر …؟ ‘‘
’’کچھ نہیں امی … کچھ ایسائنمنٹ تھے ۔ وہی دیکھ رہی تھی ‘‘۔ ’’کتنی محنت کرنا پڑتی ہے بیٹی تجھ کو … جو کام لڑکوں کا ہے وہ تم کو کرنا پڑ رہا ہے ‘‘۔ ’’اف امی‘‘ آپ بھی …‘‘ اس نے پیار سے بانہیں ماں کے گلے میں ڈال دیں اور ادھر ادھر کی باتوں میں ماں کا دھیان بٹانے لگی۔ ’’امی آپ سوجائیں… رات زیادہ ہوگئی ‘‘۔ اس نے چادر اڑھاتے ہوئے ماں سے کہا ۔ ’’اب تم بھی سوجا ؤ بیٹی ، صبح کالج جانا ہے ‘‘۔ ’’مجھے کچھ کام کرنا ہے امی ‘‘۔ اور کمرے میں آکر قلم اٹھالیا ۔ مگر ذہن بدستور بھٹکتا رہا۔
رقیہ بیگم کی شادی ایک کھاتے پیتے گھرانے میں ہوئی تھی  اور وہ لوگ ایک پرسکون زندگی گزار رہے تھے ۔ ماریا اور حنا ان کی دو بیٹیاں تھیں۔ سب سے چھوٹا شاہد ماریا بڑی تھی، بہت ذہین اور ساتھ ساتھ شیطان بھی تھی۔ رقیہ بیگم کی سہیلی غوثیہ بیگم نے اسے بچپن میں ہی اپنے بیٹے شاہ ذر سے رشتہ پکا کردیا تھا ۔ رقیہ بیگم نے بھی خوشی خوشی حامی بھرلی تھی۔ ظاہر ہے دونوں بچپن کی گہری سہیلیاں تھیں اور اب رشتہ دار بھی ہوسکتی تھیں۔ چند دنوں بعد غوثیہ بیگم کے شوہر کا ٹرانسفر ہوگیا اور وہ دوسرے شہر چلی گئیں۔
رقیہ بیگم کے شوہر عنایت علی بینک میں ملازمت کر رہے تھے  اور پرسکون زندگی گزار رہے تھے ۔ وہ اپنے بچوں کو اچھی سے اچھی تعلیم دلانا چاہتے تھے ۔ رقیہ بیگم اکثر ان  سے کہتیں کہ ہمیں کچھ نہ کچھ بچا رکھنا چاہئے تاکہ آگے زندگی میں کام آئے۔ ’’ارے پیسہ تو خرچ کرنے کیلئے ہوتا ہے رقیہ … پھر ہم کون سا فضول خرچ کرتے ہیں…‘‘ ’’وقت کس نے دیکھا ہے ۔ پتہ نہیں کب کیا ہو ؟ ‘‘ وہ مطمئن نہ ہوتیں۔
مستقبل واقعی کسی نے نہیں دیکھا ہے اور پھر وہی ہوا جس کا رقیہ بیگم کو خطرہ تھا ۔ اچانک ہی دل کی حرکت بند ہوجانے سے رقیہ بیگم کے شوہر عنایت علی مالک حقیقی سے جا ملے ۔ تینوں بچے یتیم ہوگئے اور اس بھری دنیا میں وہ لوگ تنہا اور بے سہارا ہوگئے۔ ایک قیامت ٹوٹ پڑی ان سب پر … مگر … مگر حالات سے سمجھوتہ کرنا ہی دانشمندی ہوتی ہے ۔ رقیہ بیگم کو جلد ہی اپنی ذمہ داریوں کے بڑھنے کا احساس ہوگیا اور انہوںنے اپنے دکھوں پر قابو پاتے ہوئے بچوں کی تعلیم و تربیت پر اپنے آپ کو مصروف کرلیا ۔ چھوٹی سی پنشن اور گھر کے ایک حصہ کو کرائے پر دے کر گھر کا خرچ پورا کرنے لگے۔ تھوڑی بہت سلائی بھی انہوں نے شروع کردی۔ اس طرح زندگی ایک نئی ڈگر پر آگئی ۔
کاش! کہ شاہد بڑا ہوتا تو کچھ ان کی ذمہ داریوں کو کم کرتا … مگر ابھی تو وہ بہت چھوٹا تھا ۔ ماریا بی اے کر رہی تھی اور حنا دسویں میں تھی ۔ رقیہ بیگم کو کچھ پیسے بینک سے ملنے والے تھے ۔ تب انہوں نے سوچا کہ ماریا کے فرض سے سبکدوش ہوجائیں ، اس خیال کے تحت انہوں نے اپنی سہیلی غوثیہ بیگم کے پاس جانے کا ارادہ کرلیا ۔
بچوں کو گھر پر چھو ڑ کر وہ اکیلے ہی غوثیہ بیگم کے گھر پہنچیں ۔ مگر اس کا سر درو یہ دیکھ کر ان کو ایک دھچکا سا لگا۔ پورے وقت وہ اپنی مصروفیت کا تذکرہ ہی کرتی رہیں۔ ان کے شوہر کہیں باہر دورے پر گئے ہوئے تھے ۔ تھوڑی دیر بعد ان کا بیٹا شاہ ذر باہر چلا گیا۔ ’’ارے رقیہ ! شوہر اونچی پوسٹ پر ہوتے ہیں تو بیویوں کی ذمہ داریاں اور بھی بڑھ جاتی ہیں‘‘۔ غوثیہ بیگم نے اپنی بڑائی جتائی۔ ’’ہاں وہ تو ہے ‘‘۔ رقیہ بیگم نے خوش دلی سے کہا ۔ غوثیہ کی بے رخی سے وہ پریشان ہورہی تھیں۔ پھر اپنے آپ کو تسلی بھی دے لیتیں کہ اتنی پرانی دوستی اتنی جلدی ناپائیدار نہیں ہوسکتی۔ پھر غوثیہ نے خود ماریا کو بڑی خواہش سے اپنی بہو بنانا چاہا تھا ۔ بات تو ہم لوگوں کے درمیان طئے پائی تھی۔ پھر میرا خدشہ بے بنیاد ہے ۔ وہ اپنے آپ کو تسلیاں دے ہی رہی تھیں کہ رات دھماکہ ہو ہی گیا اور رقیہ بیگم کا ذہن ماؤف ہونے لگا۔ ’’رقیہ … یہ بتاؤ … ماریہ کیلئے تم نے کیا سوچا ہے ؟ بھائی صاحب کے بینک سے پیسے ملنے والے ہیں تو تم جلد از جلد اس کے فرض سے سبکدوش ہوجاؤ…‘‘’’ہاں ! اسی لئے تو میں یہاں آئی ہوں ‘‘۔ ’’ارے میں کیا کرسکتی ہوں اس میں … رشتے تو آج کل بہت مشکل سے ملتے ہیں اور پھر ان حالات میں ماریا کے لائق لڑکا ملنا بہت مشکل ہے‘‘۔ ’’مگر …؟ غوثیہ نے تو ان کی بات کا رخ ہی پلیٹ دیا تھا ۔ ان کی دوستی کا بھرم ٹوٹ کر بکھر گیا ۔ آخر کار انہوں نے اس کا وعدہ یاد کروانا چاہا۔ ’’مگر … غوثیہ ! تم نے تو کہا تھا کہ بلکہ وعدہ کیا تھا کہ ماریا کو تم اپنی بہو ‘‘ ’’کیا ہوگا …؟‘‘ انہوںنے بات کاٹتے ہوئے کہا… ’’دیکھو رقیہ اب ہمارا تمہارا زمانہ تو رہا نہیں کہ ماں باپ جہاں چاہیں شادی کردیں۔ اب تو لڑکے اپنی پسند دیکھتے ہیں‘‘۔’’مگر شاہ ذر نے بھی تو اپنی رضامندی ظاہر کی تھی بلکہ بڑی خوشی کا اظہار کیا تھا …‘‘ رقیہ بیگم نروس ہونے لگیں۔ ’’ارے رقیہ تم سمجھتے ہوئے ناسمجھ مت بنو۔ پہلے کی بات اور تھی … اب حالات بالکل بدل چکے ہیں اور پھر لڑکا اپنی مرضی کا مالک ہے‘‘۔

پھر وہ نیند کا بہانہ کر کے اُٹھ گئیں۔ جب غوثیہ نے بچپن کی دوستی کی پرواہ نہیں کی تو اب کس سے امید کریں۔ حیران و پریشان گھر پہنچی تو تینوں بچے کمرے میں بیٹھے پڑھنے میں مصروف تھے۔ ماں کو دیکھ کر جلدی سے باہر آگئے اور ڈھیر سارے سوالات شروع کردیئے۔ ’’امی ! آپ تو دو دن بعد آنے کا کہہ کر گئی تھیں ناں‘‘ حنا نے حیرت سے پوچھا ’’ہاں بیٹا ! مگر تم لوگ اکیلے تھے ناں … اس سے پہلے کبھی تم سب کو چھوڑکرکہیں گئی نہیں تھی نا … سو وہاں رک نہیں پائی ۔ ‘‘ انہوں نے افسردہ لہجے میں کہا ۔ مگر ماریا سمجھ گئی تھی ، امی کچھ پریشان ہیں۔ دوسرے دن کالج سے آتے ہی ماں کی پریشانی کو جاننے کیلئے بے چین تھی ۔ ’’امی ! جب سے آپ غوثیہ خالہ کے پاس سے آئی ہیں۔ ہم سب سے کچھ چھپا رہی ہیں۔ کسی گہری سوچ میں لگ رہی ہیں آپ ! کیا بات ہے ؟ بتایئے ناں ؟۔ ’’کیا بتاؤں ماریا۔ غوثیہ نے تو ایسا رنگ بدلا کہ…‘‘ ’’جانے دیں امی ! آپ کسی بات کو دل پر نہ لیں ‘‘۔ غوثیہ نے تو ایسا رنگ بدلا کہ حیران ہوں میں ، خود ہی وعدہ کر کے بدل گئی‘‘۔ رقیہ بیگم کا غم ہی دور نہ ہورہا تھا ۔ ’’جانے دیجئے امی ۔ کیا میں آپ پر اتنا بڑا بوجھ ہوں ‘‘۔ ’’نہیں بیٹی ۔ تیرے ہی حوصلے کے ساتھ میں زندہ ہوں‘‘۔ انہوں نے بیٹی کی پیشانی چوم لی ۔ ’’تو امی میری فکر چھوڑدیئے ۔ مجھے تو شاہد کے کیریئر کی فکر ہے ۔ اس کو کچھ بنانا ہی میری زندگی کا مقصد ہے ۔ اب آپ اپنی اس بیٹی کو دیکھتے جایئے ‘‘۔

اس کی ذہانت کودیکھتے ہوئے وہ کالج میگزین کی ایڈیٹر بنادی گئی ۔ بی اے اس نے امتیازی نمبر سے پاس کیا۔ جب بھی اسے پیسوں کی ضرورت سامنے آتی اس کا قلم ہی اس کا سہارا بنتا ۔پھر اپنے لکچرر کی مدد سے ایک میگزین میں اس کو کام مل گیا ۔ مختلف لوگوں سے انٹرویوز کرنا اور ہفتہ میں ایک آرٹیکل ، کام کافی دوڑ دھوپ کا تھا ۔ وہاں کے ایڈیٹر اوراس شعبے کے انچارج مسٹر زمانی اس کی اعانت و معاونت کرتے تھے ۔ ان سب کاموں کے ساتھ اس کی ایم اے کی تعلیم بھی جاری رہی ، رقیہ بیگم اس کو دل سے دعا دیتی۔ اللہ تعالیٰ کی اتنی بڑی عطا کہ سمجھدار اور ذہین بیٹی عطا کی تھی ۔ حنا بی اے کررہی تھی تبھی اس کیلئے ایک رشتہ آیا ۔ لوگ رقیہ بیگم کے جاننے والے تھے ۔ زارون ملک کسی دفتر میں ملازم تھا ۔ مگر انہیں ماریا کا غم مارے ڈالتا۔ انہوں نے جب اس رشتے کے بارے میں ماریا سے ذکر کیا تو وہ خوش ہوگئی ۔ حنا کو پڑھائی سے زیادہ دلچسپی بھی نہیں تھی اور اب مہینہ بھر بعد ہی اس کا بی اے کا امتحان بھی ہوجانا تھا۔ عنایت علی کے بینک سے ملی رقم انہوں نے فکسڈ ڈپارزٹ کر دی تھی  جو شادی کے کام آرہی تھی ۔ یوں ماریا نے بہت احسن طریقے سے امی کی ذمہ داری پوری کر رہی تھی اور رقیہ بیگم اس نازک سی لڑکی کی بلند ہمتی دیکھتی رہ گئیں۔ شادی کی تیاریاں زوروں پر تھیں مگر پتہ نہیں کیوں اس خوشی کے موقع پر سب کی آنکھیں گیلی ہوگئیں۔ ماریا نے بھی اس بات کو محسوس کیا۔ ابو کی کمی کا احساس تھا ۔ یا پھر اللہ تعالیٰ کا شکر ہے۔ شادی بہت احسن طریقے سے ہوگئی ۔ لڑکے والوں کی کوئی ڈیمانڈ نہیں تھی ۔ سب لوگ نے ان کے حسن انتظام کی تعریف کی۔
شادی سے فرصت پاکر ما ریا پڑھائی میں لگ گئی ۔ مسٹر زمان اس کی محنت اور ذہانت سے بہت متاثر تھے اور اس کو زیادہ سے زیادہ کام فراہم کرنے کی کوشش کرتے ۔ اب ایم اے کے بعد وہ پی ایچ ڈی کرنا چاہ رہی تھی۔ پروفیسر نارنگ کی مدد اور کوشش سے اس کا موضوع منظور ہوگیا اور وظیفہ بھی ۔ یوں ہر کام میں اس کو کامیابی ملتی رہی۔ اس دن وہ اپنے آفس میں بیٹھی کچھ لکھ رہی تھی کہ دستک کی آواز پر چونک گئی ۔ آنے والا کاپی پر ، اس کی تیز چلتی انگلیاں ، بہت شوق سے دیکھتا رہا۔ اس کو اپنی طرف متوجہ دیکھ کر ہڑبڑا گئی۔
مسٹر ولید زمان کہاں ہیں؟ آنے والے نے جلدی سے پوچھا۔ ’’کسی میٹنگ میں گئے ہیں ۔ کوئی کام ہو تو بتادیں۔ میں کہہ دوں گی ‘‘۔ ’’ جی نہیں …میں خود ہی مل لوں گا ‘‘۔ دو دن بعد وہ کچھ کام کر رہی تھی ۔ تبھی وہ صاحب اسی آب و تاب کے ساتھ نمودار ہوئے۔ ’’آپ ہر وقت پڑھتی ہی رہتی ہیں‘‘۔ اسکی بے تکلفی پر ماریا نے غصہ سے پوچھا ’’آپ کو کوئی اعتراض‘‘۔’’ابھی تو نہیں مگر بعد میں ہوسکتا ہے‘‘۔ ’’کیا ؟ وہ حیران سی دیکھتی ہوئی کچھ سخت جملہ کہنے ہی والی تھی کہ ولید زماں وہاں آگئے۔ ’’ارے ! کاشف تم یہاں ‘‘ انہوں نے بے تکلفی سے اسے مخاطب کیا ۔ ’’جی پاپا جان ۔ دراصل کچھ کام تھا ‘‘۔ مسکراتے ہوئے اس نے کہا اورماریا حیران رہ گئی ۔ یہ سر زمان کے بیٹے … افوہ ! میں نے تو انہیں بیٹھنے کیلئے بھی نہیں کہا تھا ۔ جانے کیا سوچے میرے بارے میں۔ کچھ بھی سوچے مجھے اس سے کیا۔ ’’ماریا۔ یہ ہے میرا بیٹا کاشف زمان ۔ میڈیکل کالج میں ایم ڈی کر رہا ہے اور بیٹے یہ میری ہونہار ریسرچ اسکالر‘‘۔

’’جی !!‘‘ زمان صاحب کی راست مخاطب پر اس نے اپنی نظریں اٹھائیں۔ ’’آپ کی اجازت ہو تو بیٹھ جاؤں ؟ ‘‘ کاشف نے شرارت سے پوچھا ۔ ’’ضرور…‘‘ پھر اپنے کام میں مصروف ہوگئی۔ گھر آکر وہ گنگناتا ہوا اپنے کمرے میں چلا گیا ۔ آج کل اس کی امی بڑی شد و مد سے اس کی شادی خانہ آبادی کے بارے میں سنجیدگی سے سوچ رہی تھی ۔ اکثر ابو کو ماریا کی تعریف کرتے اور سمجھداری کے قصے کہتے ہوئے سنا تھا ۔ مگر آج اپنی آنکھوں سے دیکھ کر ادھوری سی ملاقات میں ہی وہ اس کو بھاگئی تھی ۔ اب اس نے سوچ لیا تھا کہ امی اگر شادی کرنے کے بارے میں کہیں تو میں ماریا کا نام لے دوں گا ۔ مگر کیا پتہ وہ کہیں … منگنی وغیرہ نہ ہوگئی ہو اس کی ۔ یہی کچھ سوچتے ہوئے وہ بیڈ پر دراز ہوگیا ۔  اس دن وہ کافی دیر سے گھر پہنچی تھی ۔ آٹھ بج چکے تھے ، کام کی زیادتی نے وقت کا اندازہ ہی ہونے نہیں دیا تھا ، جب گھر پہنچی تو امی اس کے انتظار میں ہی تھیں۔’’ماریا ! بہت دیر کردی بیٹی ‘‘۔ انہوں نے پریشانی سے پوچھا لیکن چہرہ پر سکون بھی لگ رہا تھا ۔
’’کام بہت تھا امی… شاید اگلا ہفتہ اسی طرح مصروفیت میں گزرے گا ‘‘۔ ماریا نے تھکے تھکے سے انداز سے کہا ۔ ’’اب جانے بھی دو آپی۔ اتنا بھی کام کا بوجھ مت لیں‘‘۔ شاہد نے شگفتہ لہجہ میں کہا ۔ ’’شاہد !! اپنے مشورے تم اپنے پاس ہی رکھو۔ سمجھے !!‘‘ تھکاوٹ سے اس کا برا حال تھا ۔  ’’ماریا ! اس شریر سے کیا الجھنے لگیں بیٹا ۔ رات سونے سے پہلے میرے کمرے میں آنا ۔ مجھے کچھ ضروری بات کر نی ہے ‘‘۔ رقیہ بیگم نے  بیٹی کی طرف پیار بھری نظروں سے دیکھتے ہوئے کہا ۔’’ماریا !! ولید زمان اور ان کی بیگم آئے تھے ۔ وہ اپنے بیٹے کاشف زمان کا رشتہ تم سے طئے کرنا چاہتے ہیں۔ بڑی ہی سادگی سے انہوں نے بات کی ہے۔ ولید زمان کو تم برسوں سے جانتی ہو۔ بے انتہا مخلص انسان ہیں۔  میں نے جواب دینے کیلئے کچھ ٹائم لیا ہے ۔ اگر تمہاری مرضی ، خوشی ہو تو پھر مجھے بتانا ‘‘۔ سہولت سے کہہ کر وہ خاموش ہوگئیں۔ ’’امی … آپ کو مجھ سے پوچھنے کی کیا ضرورت پڑگئی۔ آپ نے سوچا اچھا ہے تو پھر اچھا ہوگا ۔ مگر میں پی ایچ ڈی مکمل کرنا چاہتی ہوں‘‘۔ اس نے نظریں جھکاتے ہوئے کہا ۔ ’’مگر بیٹے … وہ لوگ شادی جلدی کرنا چاہتے ہیں، جس کی وجہ سے تمہیں موقع نہ مل سکے‘‘۔ ’’ لیکن امی …‘‘ وہ کچھ کہہ نہیں سکی۔
’’اگر تم کاشف سے ملنا چاہو تو میں انہیں گھر بلالوں گی‘‘۔ ماریا کے گریز کو انہوں نے یہی سمجھا۔ ’’نہیں امی … اس کی ضرورت نہیں ہے۔ کچھ دن پہلے وہ ہمارے آفس آئے تھے ‘‘۔ پھر بہت سادگی سے کاشف زماں کے ساتھ اس کی شادی ہوگئی ۔ پھر انہوں نے پہاڑی مقامات پر گھومنے پھرنے کا پلان بنالیا ۔ واپس آکر کاشف اسپتال کی ذمہ داریوں میں مشغول ہوگئے اور وہ گھریلو مصروفیات میں کچھ دن بعد ہی وہ اپنی ریسرچ کے بارے میں بات کرناہی چا ہی رہی تھی کہ ایک دن کھانے کی میز پر زماں صاحب نے خود ہی بات چھیڑ دی۔

’’ماریا … ہم  نہیں چاہتے کہ تم جیسی ذہین لڑکی اپنی تعلیم کو ادھوری چھوڑ کر گھر داری میں مشغول ہوجاؤ۔ اپنی صلاحیتوں کو بے کار مت گنواؤ بلکہ اس کا فائدہ اٹھاؤ ‘‘۔ ’’جی بابا …‘‘ مارے خوشی کے اس سے کچھ کہا ہی نہ گیا۔ ’’ماریہ … تم اخبار میں بھی تو لکھتی تھیں نا … مجھے تمہارا کالم بہت پسند تھا ۔ چاہو تو اب بھی لکھ سکتی ہو…‘‘ اس کی ساس نے کہا تو وہ مارے خوشی کے کھانے کی پلیٹ میں ہاتھ رکھے سوچنے لگی ۔ کتنے قدردان لوگ ہیں ۔ یا میں کوئی سپنا دیکھ رہی ہوں۔ اس طرح وہ پھر اپنی پرانی ڈگر پر چل رہی تھی۔ ایک دن وہ کاشف کے ساتھ امی سے ملنے گئی تھی ۔ گھر پہنچے تو غوثیہ خالہ اور خالو کو دیکھ کر وہ حیران رہ گئی ۔ابھی وہ کچھ سوچ ہی رہی تھی کہ خالہ ڈرائینگ روم میں آگئیں۔ ’’خالہ … کیا ہوا ؟ اس حالت میں آپ لوگ ‘‘ کاشف سے تعارف کروانے کے بعد اس نے پوچھا ۔ چہرے سے وہ بہت کمزور اور غم زدہ لگ رہی تھیں۔ ’’بیٹی کیا بتائیں ہم … اپنے کئے کی سزا مل رہی ہے ہم کو ۔ اب تم لوگوںکا ہی آسرا لے کر یہاں آئے ہیں ہم ‘‘۔ ’’مگر ہوا کیا ؟ ‘‘ ماریا حیران ہورہی تھی ۔
’’تمہارے خالو بیمار رہنے لگے ہیں بیٹا… دل کی بیماری جان پر بنی ہے ۔ علاج اور دوا کیلئے ہم مجبور ہوگئے ہیں۔ اسی لئے کاشف کے بھروسے یہاں آئے ہیں‘‘۔ غوثیہ بیگم اپنی کہانی سناکر آبدیدہ ہوگئیں۔ سب کو ان کی خستہ حالی پر رحم آرہا تھا اور ماریہ قدرت کی شان اور فیصلہ دیکھ رہی تھی ۔

’’اچھا خالہ آپ کل ہسپتال آجائیں۔ اس وقت ہمیں کہیں جانا ہے ‘‘۔ کاشف نے کھڑے ہوتے ہوئے کہا اور امی سے اجازت لے کر باہر آگئے۔ ’’ارے ماریہ … ان کی کہانی تو بہت دردناک ہے ۔ مگر وہ اپنے کئے کی سزا … کیا کہہ رہی تھیں‘‘۔ کاشف نے تجسس  سے پوچھا۔ ’’بچپن میں امی نے خالہ کے بیٹے سے میری بات طئے کی تھی ۔ ابو کے گزرنے کے بعد ہمارے حالات کے پیش نظر انہوں نے اپنا وعدہ توڑ دیا ‘‘۔ ’’اوہ… پھر تو مجھے ان کا شکر گزار ہونا چاہئے ‘‘۔ کاشف شوخی سے بولے۔ ’’وہ کیوں …؟ وہ کچھ نہ سمجھتے ہوئے بولی۔ ’’ان کے انکار کے بنا پر تو تم مجھے ملیں ورنہ …‘‘ کاشف نے شرارت سے کہا تو وہ اپنے آپ میں سمٹ گئی۔

TOPPOPULARRECENT