Friday , October 20 2017
Home / اضلاع کی خبریں / ’’چلو امن کی دیپک جلانا سیکھ لیتے ہیں‘‘

’’چلو امن کی دیپک جلانا سیکھ لیتے ہیں‘‘

سنگاریڈی میں کل ہند مشاعرہ، شمس جالنوی اور انس نبیل نے خوب داد تحسین حاصل کی
سنگاریڈی 27 ؍ اگسٹ (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز ) ادارہ ادب اسلامی سنگاریڈی کی جانب سے ریاست بھر میں 15 روزہ مہم بعنوان امن و انسانیت کا21 ؍اگسٹ سے آغاز ہوا ۔اس مہم کا مقصد ملک کے اندر پھیلی ہوئی نفرت کو دور کرنا ہے ۔ ان خیالا ت کا اظہا ر ضیاء الدین محمدی سابق صدر جماعت سنگاریڈی نے ادارہ ادب اسلامی کے زیر اہتمام اسلامک سنٹر سنگاریڈی میں منعقدہ ایک کل ہند مشا عرہ میں افتتاحی خطاب کر تے ہوئے کیا ۔ انہوں نے کہا کہ اردو زبان نہ مسلک و مذہب کی حد ود میں مقید ہے اور نہ ملک وہ ریا ست کی سرحد تک محدود ہے بلکہ اردو زبان دنیا کے ہر اُس شخص کی زبان ہے جس کے دل میں محبت ہے۔ مشا عر ہ کا آغا ز حافظ محمد سلمان سلطان پوری کی نعت شریف سے ہو ا ۔  ان کہ اس شعر
عشق سرکار میں جینے کا طریقہ مانگو
ما نگنے والو  دعائوں میں مدینہ مانگو
کو سامعین نے بیحد پسند کیا۔ اس موقع پر بین الاقوامی بزرگ مہمان شاعر شمس جالنوی ( جا لنہ ۔ مہاراشٹرا) نے اپنا کلام پیش کر تے ہوئے سامعین سے زبردست دادو تحسین حاصل کر تے ہوئے کل ہند مشاعر کو بام عروج پر پہنچا دیا۔
زرد زرد چہرے ہیں زخم دل کے گہرے ہیں
وقت ہے تماشائی وقت ہے تماشائی
و ہ تسلی دیتے ہیں زخم پر نمک رکھکر
خوب ہے مسیحائی خوب ہے مسیحائی
بزم عیش و فرصت میں جب ملے چلے آ نا
بے کسوں کی دنیا میں بے کسو ں کی دنیا میں
وقت کے مسیحائوں ناپ کر بتا دینا
تم غموں کی گہرائی تم غموں کی گہرائی
روح چیخ چیخ اُٹھی دل کی بڑھ گئی دھڑکن
اشک آنکھ سے ٹپکے اشک آنکھ سے ٹپکے
تم نے کیوں ورق اُلٹے داستان ماضی کے
درد نے لی انگڑائی در د نے لی انگڑائی
بعدازاں ملک گیر سطح پر شہرت حاصل کرنے والے مہمان نوجوان شاعر انس نبیل آکو لہ ریاست مہارا شٹرا کو دعوت سخن دی گئی۔ان کے ان اشعارکو سامعین نے زبردست دا د و تحسین سے نوازا۔
یہی جو آج ہے خاروں پر چلنے والے لوگ
تھے کھبی چاند ستاروں پر چلنے والے لوگ
سلگتی ریت ہو نیزہ ہو آگ و دریا ہو
ہے میری قوم میں چاروں پہ چلنے والے لوگ
تعصب کی ہوا کو منہ چڑ ھا نا سیکھ لیتے ہیں
چلو امن کی دیپک جلانا سیکھ لیتے ہیں
سیاسی لو گ کچھ سیکھیں نہ سیکھیں عمر بھر لیکن
مگر مچھ کی طرح آنسو بہانا سیکھ لیتے ہیں
مقامی شاعرقمرالدین بخاری کے اس شعر
اخلاق سے ہی آدمی انسان ہو گیا
ورنہ وہ انسان انسان نہیں درندہ ہو گیا
کو کافی سرا ہا گیا۔ مقامی شاعر محمد عبد الوحیدحیدر ی کو مدعو کیا گیا ۔
پیام محبت سناتے رہینگے
جہنم سے سب کو بچاتے رہینگے
اگر گھر بنانا ہے جنت میں ہمکو
برائی سے دامن بچا تے رہینگے
شاعر کے ان اشعار پر بہت داد دی گئی۔ مختار حسین مختار صدر ادب اسلامی سنگاریڈی نے اپنے ان اشعار سے سامعین کو متاثر کیا۔
امن و امان کی کوئی نشانی بھی چا ہیے
انصاف جس میں ہو وہ کہا نی بھی چا ہیے
رفتار کو بڑھا ئو دوڑو خدا کی جانب
دعوت تو وہی ہے اب تک داعی بدل گئے ہیں
صدیوں کا یہ سفر ہے منزل ہے دور اپنی
راستے وہی ہے لیکن راہی بدل گئے
صدر ادارہ ادب ظہیرآباد ڈاکٹر نوید عبد الجلیل کو دعوت سخن دی۔
دوستی پیار وفا امن و محبت کا
کوئی دیا تو جلے ظلمتوں کے الفت کا
خود کو تلاش یاد میں کیا کریں
ہم نے ہی خون بچھا یا نگرنگر
دل کے بغیر جسم کا سنگھار کیا کریں
راجہ ہی نہیں ہے تو دربار کیا کریں
اس کے بعد تانڈور سے آئے ہوئے ایک شاعر معتمد عمومی قیوم یاور نے اپنے اشعار سے سامعین سے کا فی داد حاصل کی۔
امن کے گیت گانا چا ہتا ہوں
میں نفرت کو مٹانا چاہتا ہوں
جہاں میں پیار پھیلے جس کی بو سے
کچھ ایسے گل کھلانا چا ہتا ہوں
مجھے یارب ایسا حوصلہ دے
وطن سے شر مٹا نا چا ہتا ہوں
سبھی زہر یلے کانٹوں کو جلا کر
سو چھ بھارت بنانا چا ہتا ہوں
اس کے بعد ناظم مشاعرہ جناب فیاض علی سکندر کو دعوت سخن دی گئی۔
آج باطل کے درندوں کو ہٹا نا ہو گا
حق کا پیغام زمانے کو سنا نا ہو گا
اشعار کبھی اہل ہنر تک نہیں پہو نچے
ہم دیدہ وروں کی نظر تک نہیں پہو نچے
اس موقع پر ایم ۔ اے ۔ حکیم ایڈ و کیٹ سابق نائب صدر اردو اکیڈ می‘ محمد مظہر الدین صدر مدینہ مسجد سنگاریڈی ‘ محمد کلیم الدین احمد ‘ محمد امجد حسین ضلع ناظم جماعت اسلامی ‘ ایم جی ۔ انور ضلع صدر ایم پی جے‘ محمد ریاض الدین ‘ محمد غوث محی الدین امیر مقا می ‘ مولانا قمر عالم قا سمی ‘ شیخ محمد عبد اللہ مدرس ‘ محمد شاکر علی ‘ محمد مظہر الدین مدرس ‘ محمد مختار احمد ‘ محمد اطہر محی الدین شاہد ‘ محمد یعقوب علی کونسلر‘ محمد اعظم ‘ شیخ عارف الدین شجاع ‘ شیخ وسیع الدین ‘ ایم جی ۔ قادر ‘ مولانا سید فصیح الدین قاسمی صدر جمیعت العلماء سنگاریڈی ‘ محمد نظام الدین ‘ ایم اے علیم ‘ سید عبد الرافع التمش ‘ محمد عبد الغنی ‘ ایم اے رشید ‘ مسعود خان ‘ محمد ساجد علی ‘ محمد شرف الدین کے علاوہ مشاعرہ گاہ کے بالائی منزل میں خا تون سامعین بھی موجود تھیں۔

TOPPOPULARRECENT