Saturday , August 19 2017
Home / شہر کی خبریں / چندرائن گٹہ حملہ کیس۔ اکبر اویسی کے پیٹ میں 5 زخم تھے

چندرائن گٹہ حملہ کیس۔ اکبر اویسی کے پیٹ میں 5 زخم تھے

جسم پر سوراخ آتشیں اسلحہ سے ہونے یا نہ ہونے کا یقین نہیں۔ عدالت میں ڈاکٹر کا بیان
حیدرآباد۔/6جنوری، ( سیاست نیوز) نامپلی کریمنل کورٹ میں آج چندرائن گٹہ حملہ کیس کی سماعت کا سلسلہ جاری رہا جس کے دوران ایک ڈاکٹر نے اپنا بیان قلمبند کروایا اور وکیل دفاع نے ان پر جرح کی۔ ڈاکٹر ماجد عادل کنسلٹنٹ یورولوجسٹ نے بتایا کہ30اپریل سال 2011 کو اکبر الدین اویسی پر ڈاکٹر اعجاز حسین اور ڈاکٹر رنگاریڈی جو جنرل سرجنس ہیں دو پہر 12 بجے پیٹ کی سرجری شروع کی اور زخمی کے پیٹ کو کھولا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ سرجری کے دوران اکبر اویسی کے پیٹ کے اندر 5 اندرونی زخم موجود تھے جس میں زیر ناف زخم بھی شامل ہے اور گردے بھی متاثر ہوئے تھے۔ ڈاکٹر نے اس بات کی تصدیق کی کہ اگر پستول ناف کے نیچے حصہ میں رکھی جائے اور اتفاقی طور پر گولی چل جانے سے زخم ہوسکتا ہے اس طرح انہوں نے اس بات کی وضاحت کی کہ وہ بیالسٹک ماہر نہیں ہیں۔ گواہ نے بتایا کہ انہوں نے زیر ناف زخم کو اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا اور سی آرم آلہ کے ذریعہ انہوں نے اکبر اویسی کے جسم میں گولی موجود ہونے کا پتہ لگایا۔ شام 7 بجے تک زخمی کے جسم سے گولی نہیں نکالی گئی تھی۔ ڈاکٹر اعجاز حسین اور ڈاکٹر رنگاریڈی کے علاوہ دیگر سرجنس نے بعد سرجری کیس شیٹ تیار کی۔ جرح کے دوران گواہ نے بتایا کہ آتشیں اسلحہ سے گولی چلنے سے اشیا میں چھید پڑ جاتا ہے لیکن جن سوراخ بتایا گیا وہ نہیں کہہ سکتے کہ آتشیں اسلحہ سے ہوا ہے یا نہیں۔ جبکہ اشیاء پر موجود سوراخ ناف کے نیچے حصہ کے علاوہ نازک اعضا کا بھی احاطہ کرسکتا ہے۔ انہیں ملبوسات پر موجود سوراخ دکھائے جانے پر ڈاکٹر نے کہا کہ ان کے پاس یہ شواہد موجود نہیں ہیں جس کے ذریعہ وہ آتشیں اسلحہ سے فائرنگ کئے جانے کا ثبوت دے سکیں۔ ڈاکٹر ماجد عادل نے جرح کے دوران عدالت میں بتایا کہ وہ سال 2006سے اویسی اور اسریٰ ہاسپٹلس میں ملازمت کررہے ہیں اور وہ دکن میڈیکل کالج جو دارالسلام ایجوکیشنل ٹرسٹ کی زیر نگرانی چلایا جاتا ہے کے طالب علم ہیں۔ انہوں نے اس بات کی تردید کی کہ وہ دکن میڈیکل کالج کے طالب علم ہونے اور اس کے تحت چلائے جارہے دواخانوں میں ملازمت کرنے کے سبب عدالت میں جھوٹا بیان دے رہے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT