Tuesday , July 25 2017
Home / جرائم و حادثات / چندرائن گٹہ حملہ کیس ‘ سابق انسپکٹر پولیس کا بیان قلمبند

چندرائن گٹہ حملہ کیس ‘ سابق انسپکٹر پولیس کا بیان قلمبند

حیدرآباد۔/10 مارچ، ( سیاست نیوز) چندرائن گٹہ حملہ کیس کی سماعت آج بھی ہوئی ۔ ایک انسپکٹر نے اپنا بیان قلمبند کروایا۔ سابقہ انسپکٹر چندرائن گٹہ پی وینکٹ گیری نے بیان میں بتایا کہ وہ 2009 تا سال 2011 مئی انسپکٹر چندرائن گٹہ کی حیثیت سے کام کرچکے ہیں۔ 30 اپریل 2011کو انہوں نے سنتوش نگر اے سی پی محمد اسمعیل جو فلک نما ڈیویژن کے بھی انچارج تھے کی ہدایت پر انہوں نے مہلوک ابراہیم بن یونس یافعی کا پوسٹ مارٹم دواخانہ عثمانیہ میں کروایا۔ انہوں نے بتایا کہ بعد پوسٹ مارٹم انہوں نے دواخانہ کے ڈاکٹر ہری کرشنا سے مہلوک نوجوان کے خون آلود کپڑے ضبط کئے اور ان کا پنچنامہ کروانے کے بعد اے سی پی کے حوالے کردیا۔ انہوں  نے بتایا کہ وہ حملہ کے دن زخمی ہونے والے مزید دو نوجوانوں عبداللہ بن یونس یافعی اور عود بن یونس یافعی جو اپولو ڈی آر ڈی او دواخانہ زیر علاج تھے کے کپڑے ضبط کرنے پہنچے انہیں پتہ چلا کہ زخمی نوجوانوں کو یشودھا ہاسپٹل منتقل کیا گیا ہے۔ گواہ نے بتایا کہ وہ یشودھا ہاسپٹل ملک پیٹ پہنچ کر وہاں کے چیف سیکورٹی آفیسر ونود سوگی یاواز کی مدد سے خون آلود کپڑے ضبط کئے اور بعد ازاں انہیں مہر بند کور میں اے سی پی سنتوش نگر کے حوالے کیا۔ جج نے آئندہ سماعت 14 مارچ تک ملتوی کردی۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT