Sunday , September 24 2017
Home / شہر کی خبریں / چندرائن گٹہ حملہ کیس: عدالت میں ڈیجیٹل ویڈیو کیسٹ دکھائی گئی

چندرائن گٹہ حملہ کیس: عدالت میں ڈیجیٹل ویڈیو کیسٹ دکھائی گئی

تحقیقاتی عہدیدار کی گواہی مکمل، اکبر الدین اویسی کے ہاتھ میں آتشیں اسلحہ کا گمان
حیدرآباد۔/3مئی، ( سیاست نیوز) چندرائن گٹہ حملہ کیس کی سماعت کے دوران آج تحقیقاتی عہدیدار کی گواہی مکمل ہوگئی ہے۔ عدالت میں آج حملہ سے متعلق ڈیجیٹل ویڈیو کیسٹ (ڈی وی سی ) دکھائی گئی جس کے دوران ایڈیشنل سپرنٹنڈنٹ آف پولیس سی آئی ڈی مسٹر ایم سرینواس راؤ نے بتایا کہ کیسٹ میں موجود تصویر میں اکبر الدین اویسی کے ہاتھ میں ایک شئے دیکھی گئی جو آتشیں اسلحہ ہوسکتا ہے۔ ساتویں ایڈیشنل میٹروپولیٹن سیشن جج نے وکیل دفاع ایڈوکیٹ راج وردھن ریڈی کی درخواست پر 41 منٹ کی ڈی وی سی ریکارڈنگ عدالت میں دکھانے کی اجازت دی تھی جس کے تحت گواہ پر جرح کی گئی۔ مسٹر سرینواسنے بتایا کہ ریکارڈنگ کی دو تصاویر میں ملزم نمبر 4 یعنی ابراہیم بن یونس یافعی کے ہاتھ میں کوئی بھی ہتھیار نہیں دکھائی دے رہا ہے اور یہ بات بھی درست ہے کہ گواہ استغاثہ نمبر 3 یعنی گن مین جانی میاں کے ہاتھ میں ایک پستول موجود ہے۔ وکیل دفاع نے یہ سوال کیا کہ 40 منٹ 19سیکنڈ کے 12ویں فریم میں ایک پستول زمین پر دیکھی جاسکتی ہے۔ گواہ نے اس کے جواب میں یہ بتایا کہ یہ بات درست ہے کہ ایک شئے جپسی گاڑی کے قریب موجود ہے جو آتشیں اسلحہ ہوسکتی ہے۔ وکیل دفاع نے یہ بھی سوال کیا کہ گن مین جانی میاں اپنی انگلی بندوق کے ٹرائیگر پر رکھے ہوئے دیکھے جاسکتے ہیں جس کے جواب میں پولیس عہدیدار نے بتایا کہ وہ اس سلسلہ میں واضح طور پر نہیں بتاسکتے چونکہ تصویر کو وہ صاف نہیں دیکھ سکتے۔ گواہ نے اس بات سے انکار کردیا کہ وہ اصل سی ڈی ریکارڈنگ اسے عدالت میں شواہد کے طور پر داخل کیا گیا ہے، اکبر الدین اویسی اور دیگر کی جانب سے اس کیس کے ملزمین پر حملہ کرتے ہوئے دیکھے جاسکتے ہیں اور انہوں نے ریکارڈنگ کے اس حصہ کے چھیڑ چھاڑ کرتے ہوئے استغاثہ کی مدد کرنے کی کوشش کی۔ مسٹر سرینواس نے مزید بتایا کہ مذکورہ ویڈیو کیسٹ میں حملہ میں استعمال کی گئی ہیرو ہونڈا ایکٹیوا گاڑی کی جپسی گاڑی کے روبرو موجودگی نہیں دیکھی جاسکتی۔گواہ نے بتایا کہ انہوں نے ملزمین کی آواز کے نمونے حاصل کرتے ہوئے اسے سنٹرل فارنسک لیباریٹری چندی گڑھ روانہ کیا تاکہ ڈیجیٹل ویڈیو کیسٹ صحیح ہونے کی تصدیق کی جاسکے۔ گواہ نے یہ بھی اعتراف کیا کہ سابق میں داخل کئے گئے دستاویزات میں یہ بات موجود ہے کہ مذکورہ ویڈیو ریکارڈنگ کئی حصوں میں موجود ہے اور ریکارڈنگ میں جملہ 9 خلل موجود ہیں۔ اسپیشل پبلک پراسیکوٹر مسٹر اوما مہیشور راؤ نے گواہ کا دوبارہ بیان قلمبند کرواتے ہوئے کئی سوالات کئے جس میں بتایا کہ 40 منٹ 10 سیکنڈ کے فریم نمبر 2 میں یہ دیکھا جاسکتا ہے کہ ابراہیم بن یونس یافعی اپنے گھٹنوں پر بیٹھ کر اکبر الدین اویسی پر دائیں ہاتھ سے حملہ کرتے ہوئے دیکھے جاسکتے ہیں۔ ویڈیو میں موجود افراد کی نشاندہی سے متعلق سوالات کئے۔ وکیل دفاع نے اسپیشل پبلک پراسیکیوٹر کی جانب سے سماعت کے اس موڑ پر گواہ سے مختلف قسم کے سوالات کرنے پر اعتراض کیا اور کہا کہ استغاثہ کی خامیوں کو پُر کرنے کیلئے پبلک پراسیکیوٹر اس قسم کے سوالات کررہے ہیں۔ عدالت نے اس کیس کی سماعت کو 10 مئی تک ملتوی کردیا۔

TOPPOPULARRECENT