Friday , June 23 2017
Home / شہر کی خبریں / چندرائن گٹہ حملہ کیس میں انسپکٹر نرسنگ یادیا پر جرح

چندرائن گٹہ حملہ کیس میں انسپکٹر نرسنگ یادیا پر جرح

اویسی دواخانہ سے ضبط کردہ خون آلود کپڑے اکبر الدین اویسی کے ہونے سے لا علمی کا اظہار

حیدرآباد ۔ 8مارچ ( سیاست نیوز) چندرائن گٹہ حملہ کیس کی سماعت کے دوران آج انسپکٹر نرسنگ یادیا پر وکلاء دفاع  نے جرح کیا ۔ گواہ نے آٹھویں ایڈیشنل میٹرو پولیٹن سیشن جج کو  جرح کے دوران یہ بتایا کہ حملہ کے بعد وہ اویسی اسپتال پہنچے تھے جہاں پر انہوں نے زخمی رکن اسمبلی اکبر الدین اویسی کے خون آلود ملبوسات ضبط کئے تھے ۔ وکیل وکلاء بی راج وردھن ریڈی کی جانب سے سوال کئے جانے پر انسپکٹر یادیا نے کہا کہ انہیں اس بات کا علم نہیں ہے کہ ضبط شدہ خون آلود کپڑے اکبر الدین اویسی کے ہے یا نہیں کیونکہ انہوں نے اسسٹنٹ کمشنر آف پولیس سنتوش نگر کے ہمراہ چیف میڈیکل آفیسر اویسی ہاسپٹل سے ملبوسات حاصل کئے تھے ۔ وکیل دفاع کی جانب سے مسلسل رکن اسمبلی کے ضبط شدہ ملبوسات پر سوال کئے جانے پر انسپکٹر نے بتایا کہ انہیں بالکل اس بات کا علم نہیں ہے کہ پولیس کی جانب سے ضبط شدہ کپڑے زخمی اکبر الدین اویسی کے ہیں ۔ انہوں نے بتایا کہ اے سی پی سنتوش نگر حملہ کیس کی تحقیقات کے عہدیدار تھے اور ان کی نگرانی میں ملبوسات ضبط کئے گئے تھے ۔ گواہ نے اس بات کی تصدیق کی کہ مقام واردات سے ضبط کئے گئے چاقو ‘ ریوالور اور کرکٹ بیاٹ سے فنگر پرنٹس حاصل کئے گئے تھے ۔ انہوں نے اس بات کی وضاحت کی کہ وہ سنتوش نگر اے سی پی کی ہدایت پر ہی اشیاء کا ضبطی پنچ نامہ تیار کیا تھا ۔ ایڈوکیٹ جی گرو مورتی کی جانب سے جرح کے دوران انسپکٹر یادیا نے بتایا کہ وہ حملہ کے دن دوپہر 12بجے اویسی ہاسپٹل پہنچے تھے اور وہ اے سی پی سنتوش نگر کے ساتھ رات 2بجے دن موجود تھے ۔ گواہ نے بتایا کہ وہ ضبطی کی کارروائی دواخانہ کی کونسی منزل پر کئے جانے سے لاعلم ہیں ۔30اپریل سال 2011ء کو چندرائن گٹہ کے سب انسپکٹر نے انہیں کیس کی فائیل حوالے کی تھی اور انہوں نے اس فائیل کو اے سی پی سنتوش نگر کے حوالے کیا تھا ۔ مقام واردات پر کلوز ٹیم پہنچنے کے بعد وہاں کی تصویر کشی کی گئی تھی لیکن اس ٹیم کی جانب سے لئے گئے تصاویر و ویڈیو فلم سے وہ لاعلم ہیں ۔ گواہ نے اس بات کی تردید کی کہ اے سی پی سنتوش نگر نے رکن اسمبلی اکبر الدین اویسی کی ہتھیلی سے بارود کے نمونے حاصل کئے تھے ۔ انسپکٹر نے مزید بتایا کہ وہ حملہ کے دن شام کے وقت دوبارہ اویسی ہاسپٹل پہنچے تھے جہاں پر کلوز ٹیم نے رکن اسمبلی کی جپسی سے انگلیوں کے نشانات سے پتہ لگانے کی کوشش کی وہ ناکام رہے ۔ انسپکٹر نے جپسی سے ضبط کئے گئے پیتل کے جیکٹ کے ٹکڑے کی ضبطی سے لاعلمی کا اظہار کیا اور بتایا کہ انہوں نے اویسی ہاسپٹل کے چیف میڈیکل آفیسر ڈاکٹر افسر کے دستخط بھی حاصل کئے ۔ انسپکٹر نے یہ بتایا کہ انہیں اس بات کا علم ہے کہ ابراہیم بن یونس یافعی کی موت گولی لگنے سے ہوئی تھی اور دیگر افراد کو یشودھا ہاسپٹل علاج کیلئے منتقل کیا گیا تھا ۔ انہوں نے اس بات کی تردید کی کہ سینئر پولیس عہدیداروں کے دباؤ میںآکر وہ عدالت میں جھوٹا بیان دے رہے ہیں ۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT