Saturday , September 23 2017
Home / جرائم و حادثات / چندرائن گٹہ حملہ کیس : پنچ گواہ پر جرح مکمل

چندرائن گٹہ حملہ کیس : پنچ گواہ پر جرح مکمل

مقام واردات سے ضبط شدہ اشیاء کا مشاہدہ و نشاندہی
حیدرآباد۔19اکٹوبر ( سیاست نیوز) چندرائن گٹہ حملہ کیس کی سماعت کے موقع پر پنچ گواہ رشید خان پر آج وکلاء دفاع کا جرح اختتام پر پہنچا ۔ ایڈوکیٹ جی گرو مورتی نے گواہ سے کئی سوالات کئے جس میں مقام واردات سے برآمد کی گئی موبائیل فون کور اور ہتھیاروں کا عام مارکٹ میں موجود ہونے کا اعتراف کیا ۔ وکیل دفاع نے سوال کیا کہ ’’ کیا تم حملہ کے دن اپنے کام پر گئے تھے اور کس نے تمہیں پنچ گواہ بننے کیلئے طلب کیا تھا ؟  ‘‘ ۔ رشید خان نے جواب دیا کہ حملہ کے دن وہ کام پر نہیںگیا تھا اور پولیس نے اُسے پنچ گواہی کیلئے طلب کیا تھا ۔ گواہ کو عدالت میں مقام واردات سے ضبط کئے گئے موبائیل فون کور اور خنجر اور چاقو دکھائے گئے ‘ جس پر گواہ نے کہا کہ یہ برآمد شدہ  اشیاء پر اس کی دستخط موجود ہے ۔ وکیل دفاع نے سوال کیا کہ مقام واردات سے ضبط کئے گئے موبائیل فون کور اور ہتھیار عام مارکٹ میں دستیاب ہے جس پر گواہ  نے اس بات کا اعتراف کیا ۔ گواہ کو ایک جینس پینٹ بھی دکھائی گئی جس پر گواہ نے کہا کہ یہ پینٹ رکن اسمبلی اکبر الدین اویسی کا ہے ۔ ایڈوکیٹ جی گرو مورتی نے گواہ سے سوال کیا کہ انہیں یہ کیسے پتہ چلا کہ یہ پینٹ اکبر اویسی کا ہے ‘جس پر گواہ نے بتایا کہ اُسے اویسی ہاسپٹل کے ڈاکٹروں نے اس بات سے واقف کروایا ۔ وکیل دفاع نے سوال کیا کہ جینس پینٹ پر سراخ پائے جاتے ہیں لیکن ضبط شدہ پینٹ پر گواہ کے دستخط موجود نہیں ہے ۔ گواہ نے وکیل دفاع کی جانب سے کئے گئے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ مقام واردات سے برآمد کی گئی ایکٹیوا گاڑی کے علاوہ  وہاں پر کئی گاڑیاں موجود تھیں ۔ وکیل دفاع نے دعویٰ کیا کہ حافظ بابا نگر کے مجلس کارپوریٹر کی ایماء پر وہ سماجی کام کرتے ہیں ۔ گواہ نے بتایا کہ وکیل دفاع کا دعویٰ غلط ہے اور وہ انفرادی طور پر سماجی کام کرتے ہیں ۔ ایڈوکیٹ گرو مورتی نے گواہ  سے کہا کہ وہ عدالت میں جھوٹی گواہی دے رہے ہیں اور وہ مقام واردات پر پنچ نامہ کیلئے گئے ہی نہیں ۔ ایک اور وکیل دفاع ایڈوکیٹ راج وردھن ریڈی نے بھی پنچ گواہ رشید خان سے یہ سوال کیا کہ حملہ کے دن اس نے کتنے پنچناموں پر دستخط کئے اور کتنے دستاویزات موجود تھے ۔ گواہ نے کہا کہ 13کاغذات پر مشتمل پنچنامہ پر اُس نے دستخط کئے تھے ۔ وکیل دفاع نے سوال کیا کہ کیا پولیس نے ابراہیم یافعی کی فائرنگ میں ہلاکت کی اطلاع دی جس پر گواہ نے کہا کہ پولیس نے اُسے اس سلسلہ میں کوئی اطلاع نہیں دی ۔ ساتویں ایڈیشنل میٹرو پولیٹن جج نے کیس کی سماعت کو 2نومبر تک ملتوی کردیا ۔ محمد بن عمر یافعی ( عرف محمد پہلوان ) اور ان کے دیگر ارکان خاندان کو سخت سیکیورٹی کے درمیان عدالت میں لایا گیا تھا ۔

TOPPOPULARRECENT