Thursday , July 27 2017
Home / شہر کی خبریں / چندرائن گٹہ حملہ کیس کی سماعت کا آخری مرحلہ

چندرائن گٹہ حملہ کیس کی سماعت کا آخری مرحلہ

سی سی ایس کے سابق عہدیدارسرینواس راؤ کا بیان قلمبند
حیدرآباد۔12اپریل ( سیاست نیوز) چندرائن گٹہ حملہ کیس کی سماعت آخری مرحلہ میں پہنچ چکی ہے اور اس کیس کے تحقیقاتی عہدیدار و سابق اسسٹنٹ کمشنر آف پولیس سنٹرل کرائم اسٹیشن مسٹر ایم سرینواس راؤ نے عدالت میں اپنا بیان قلمبندکروایا ۔ ساتویں ایڈیشنل میٹرو پولیٹن سیشن جج کے اجلاس پر دیئے گئے بیان میں  آج انہوں نے بتایا کہ سال 2011ء میں رکن اسمبلی پر ہوئے حملہ کیس کی فائیل چندرائن گٹہ پولیس اسٹیشن سے سی سی ایس کو منتقل ہوئی تھی ‘ جس کے بعد انہوں نے اس کیس کے  تحقیقاتی عہدیدار کی حیثیت سے تحقیقات کا آغاز کیا ۔ انہوں نے بتایا کہ وہ اپنی ٹیم کے ہمراہ مقام واردات واقع مرحبا ہوٹل بالا پور روڈ چندرائن گٹہ پہنچ کر بعض گواہوں سے معلومات حاصل کی ۔اسی دوران بعض گواہوں نے تفصیلات بتائے جب کہ دیگر نے اس سلسلہ میں تفصیلات بتانے سے انکارک ردیا ۔  جب کہ اویسی ہاسپٹل پہنچ کر منصور بن محمد عولغی ‘  محمود بن محمد عولغی ‘ حبیب عثمان ‘ جانی میاں کا بیان قلمبند کیا ۔ انہوں نے بتایا کہ ان گواہوں سے  سابق میں  دوسرے تحقیقاتی عہدیدار اسسٹنٹ کمشنر آف پولیس سنتوش نگر شیخ اسمعیل نے بیان حاصل کیا تھا ۔ مسٹر ایم سرینواس راؤ نے بتایا کہ 20مئی سال 2011ء کو کیر ہاسپٹل کے انتظامیہ کی جانب سے یہ اطلاع موصول ہوئی تھی کہ اکبر الدین اویسی اب بیان دینے کے قابل ہیں اور انہیں ڈسچارج کیا جارہا ہے ۔ وہ کیر ہاسپٹل پہنچ کر رکن اسمبلی کا بیان قلمبند کیا ۔ انہوں نے بتایا کہ یکم مئی کو حملہ  کیس کی تحقیقات کی ذمہ داری حاصل کرنے کے بعد انہوں نے کئی مرتبہ زخمی رکن اسمبلی کا بیان قلمبند کرنے کی کوشش کی لیکن اسپتال انتظامیہ نے انہیں اجازت نہیں دی اور تحقیقات کو کچھ دنوں کیلئے روکنے کی گذارش کی تھی ۔ تحقیقاتی عہدیدار نے بتایا کہ انہوں نے سید عرفان سرمست کا بیان قلمبند کیا جس نے .22بیریٹا پستول اور 8کارکرد کارتوس پولیس کو حوالے کئے تھے ۔ انہوں نے بتایا کہ تحقیقات کے دوران 3مئی سال 2011ء کو صبح 10بجے وہ ٹیم کے ہمراہ بابا نگر واٹر ٹینک کے قریب واقع عیسی کے فارم ہاؤز پہنچ کر محمد بن عمر یافعی المعروف محمد پہلوان ان کے دو بھائی حسن بن عمر یافری ‘ یونس بن عمر یافعی  اور عیسی بن یونس یافعی کو گرفتار کیا تھا ۔ انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ حملہ کی ویڈیو کلیپنگ نشر کرنے والے فور ٹی وی کے دفتر بھی پہنچ کر وہاں سے اصلی ڈیجیٹل ویڈیو کیسٹ ضبط کئے جس میں 1منٹ 24سیکنڈ حملہ کی ویڈیو موجود تھی ۔ مسٹر سرینواس راؤ نے عدالت کو بتایا کہ انہوں نے اس کیس کے مکمل گواہوں بشمول رکن اسمبلی احمد بن عبداللہ بلعلا ‘ ایم آر او انکوئسٹ وحیدہ خاتون اور دیگر گواہوں کے بیانات قلمبند کئے  ۔ میٹرو پولیٹن سیشن جج نے کیس کی سماعت کو کل تک کیلئے ملتوی کردیا ۔

Leave a Reply

Top Stories

TOPPOPULARRECENT