Wednesday , August 23 2017
Home / شہر کی خبریں / چندرائن گٹہ حملہ کیس : گرفتار ملزمین کی رکن اسمبلی سے مخاصمت تھی

چندرائن گٹہ حملہ کیس : گرفتار ملزمین کی رکن اسمبلی سے مخاصمت تھی

قتل کا منصوبہ تیار کیا گیا ‘ تحقیقاتی عہدیدار این سرینواسن راؤ کا عدالت میں بیان قلمبند

حیدرآباد 17 اپریل (سیاست نیوز) چندرائن گٹہ حملہ کیس کی سماعت آج بھی جاری رہی اور اس کیس کے تحقیقاتی عہدیدار مسٹر این سرینواس راؤنے تیسرے دن بھی حاضر عدالت ہوکر اپنا بیان قلمبند کروایا۔ ساتویں ایڈیشنل میٹرو پولیٹن سیشن جج کے اجلاس پر اکبراویسی حملہ کیس کی سماعت روزانہ کی اساس پر جاری ہے جس کے دوران تحقیقاتی عہدیدار نے بتایا کہ 30 اپریل 2011 ء کو پیش آئے حملہ واقعہ کی اُنھوں نے مکمل تحقیقات کی اور اِس کیس میں گرفتار ملزمین کا رول پایا۔ اُنھوں نے بتایا کہ رکن اسمبلی چندرائن گٹہ اپنے حلقہ انتخاب میں مسلسل ترقیاتی کاموں اور سرکاری اراضی کے تحفظ کے لئے کئی اقدامات میں مصروف تھے جس کے نتیجہ میں اس کیس میں گرفتار شدہ تمام ملزمین نے مخاصمت پیدا کرلی اور حملہ سے قبل 13 اپریل 2011 ء کو ملزمین نے رکن اسمبلی کو اُس وقت دھمکایا تھا جب وہ سرکاری عہدیداروں کے ہمراہ اپنے حلقہ کا دورہ کررہے تھے۔ گواہ نے یہ بھی بتایا کہ 14 اپریل 2011 ء کو ملزمین نے رکن اسمبلی کا قتل کرنے کا منصوبہ تیار کیا تھا اور اِس غرض سے ملزم نمبر 3 نے اپنی لائسنس یافتہ ریوالور آرمری سے حاصل کرلی۔ اخبارات میں شائع خبر کی بنیاد پر تمام ملزمین نے رکن اسمبلی کو نشانہ بنانے کی غرض سے آتشیں اسلحہ ، مہلک ہتھیار بشمول قصائی کے تیز دھار چاقو، کرکٹ بیاٹس جمع کئے اور 30 اپریل کے دن رکن اسمبلی پر حملہ کردیا۔ اس واقعہ کے عینی شاہدین کو بھی زخمی کیا گیا۔ رکن اسمبلی کی جان بچانے کی غرض سے ایک سرکاری گن مین نے ملزمین پر فائرنگ بھی کی تھی جس کے نتیجہ میں ایک نوجوان ہلاک ہوگیا۔ ایم سرینواس راؤ جو اس کیس کے تحقیقاتی عہدیدار رہ چکے ہیں، کی عدالت میں ملزمین کے خلاف کہانی نما بیان ریکارڈ کئے جانے پر وکیل دفاع ایڈوکیٹ گرو مورتی نے اعتراض کیا اور بتایا کہ تحقیقاتی عہدیدار کے عدالت میں بیان سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ اُن کا بیان جانبدارانہ ہے اور غیرقانونی بھی ہے۔ وکیل دفاع نے عدالت میں بتایا کہ گواہ اپنے بیان میں غیر ضروری واقعات کا بھی تذکرہ کررہے ہیں۔ ( سلسلہ صفحہ 6پر )

TOPPOPULARRECENT