Sunday , July 23 2017
Home / شہر کی خبریں / چندرائن گٹہ حملہ کیس : 3روزہ بحث کا اختتام

چندرائن گٹہ حملہ کیس : 3روزہ بحث کا اختتام

حیدرآباد۔/14جون، ( سیاست نیوز) چندرائن گٹہ حملہ کیس میں استغاثہ کی جانب سے جاری تین روزہ بحث آج اختتام کو پہنچی جس کے نتیجہ میں اسپیشل پبلک پراسکیوٹر نے ملزمین کو تعزیرات ہند کی دفعات اور آرمس ایکٹ کے تحت سزا دینے کیلئے عدالت سے درخواست کی ہے۔ ساتویں ایڈیشنل میٹرو پولیٹن اینڈ سیشن جج مسٹر ٹی سرینواس راؤ کے اجلاس پر آج سرکاری وکیل مسٹر اوما مہیشور راؤ نے تیسرے دن بھی اپنی بحث جاری رکھتے ہوئے حملہ سے متعلق تفصیلات بیان کئے۔ سرکاری وکیل نے عدالت کو یہ بتایا کہ محمد بن عود یافعی عرف محمد پہلوان جو اس کیس کے کلیدی ملزم ہیں دیگر ملزمین سے آپس میں رشتہ داری رکھتے ہیں چونکہ ان کا تعلق عرب قبیلہ سے ہے۔ آخری دن کی بحث میں اوما مہیشور راؤ نے یہ دعویٰ کیا کہ محمد پہلوان حملہ کے دن تک عبدالقادر بلیشرم کا ریلائنس موبائیل فون استعمال کررہے تھے اور اس فون کے ذریعہ حملہ کے دن بھی دیگر ملزمین سے رابطہ میں تھے۔ سرکاری وکیل نے اپنی بحث کے دوران اکبر الدین اویسی، گن مین جانی میاں اور دیگر کے خلاف سابق میں درج کئے گئے قتل کے مقدمہ کا عدالت میں تذکرہ کررہے تھے جس کی مخالفت وکیل دفاع ایڈوکیٹ راج وردھن ریڈی نے کی اور بتایا کہ سرکاری وکیل اپنے متعلقہ کیس سے ہٹ کر اس عدالت میں دوسرے مقدمہ پر بحث کررہے ہیں۔ میٹروپولیٹن جج نے وکیل دفاع کی جانب سے کئے گئے اعتراض پر پبلک پراسیکیوٹر کو اس سلسلہ میں بحث کرنے سے روک دیا۔ بحث مکمل ہونے کے بعد اسپیشل پراسیکیوٹر نے عدالت سے درخواست کی کہ تمام ملزمین کے خلاف واضح شواہد موجود ہیں جن کی بنیاد پر تعزیرات ہند اور انڈین آرمس ایکٹ کے تحت انہیں مناسب سزا دی جائے۔ عدالت نے اس کارروائی کو ملتوی کردیا۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT