Wednesday , October 18 2017
Home / جرائم و حادثات / چندرائن گٹہ کیس : اسسٹنٹ ڈائرکٹر فارنسک لیباریٹری سے جرح

چندرائن گٹہ کیس : اسسٹنٹ ڈائرکٹر فارنسک لیباریٹری سے جرح

میں نے اکبر اویسی کے پستول کا 30دن کے بعد معائنہ کیا۔ ڈاکٹر وینکٹیشورلو کا بیان
حیدرآباد 18 جنوری (سیاست نیوز) چندرائن گٹہ حملہ کیس میں VII ویں ایڈیشنل میٹرو پولیٹن سیشن جج کے روبرو آج بھی سماعت جاری رہی جہاں فارنسک لیباریٹری کے اسسٹنٹ ڈائرکٹر ڈاکٹر وینکٹیشورلو سے جرح کی گئی۔ اُنھوں نے بتایا کہ اگر کسی پستول سے فائرنگ کے 20 دن بعد اُس کا معائنہ کیا جائے تو اِس میں کوئی نمایاں تبدیلی واقع نہیں ہوتی۔ وہ یہ بتانے کے موقف میں نہیں کہ اگر ہتھیار کا استعمال نہ کیا جائے تو کتنے دن میں اُس پر غبار جمع ہوتی ہے۔ اُنھوں نے اکبرالدین اویسی کی 0.22 سیاہ بریٹا پستول 21 مئی 2011 ء کو حاصل کی۔ انھوں نے اِس بیارل کا یکم جون 2011 ء یعنی واقعہ کے 30 دن بعد معائنہ کیا۔ اُنھوں نے پستول کی بیارل میں جالے یا کیمیائی مادے نہیں پائے لیکن اُنھوں نے یہ بات کہی کہ پستول سے حالیہ دنوں میں فائرنگ ہوئی۔ ڈاکٹر وینکٹیشورلو نے اپنی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہاکہ فائرنگ کی مخصوص تواریخ کے بارے میں کہا نہیں جاسکتا۔ یہ کہنا بھی غلط ہے کہ اکبرالدین اویسی اور اُن کے حامیوں نے پستول کا ثبوت مٹانے کی کوشش کی تھی۔ اُنھوں نے اِس ضمن میں ایسی کوئی رپورٹ نہیں بھیجی تھی۔ گواہ نے عدالت میں بتایا کہ پولیس نے حملہ کیس سے متعلق 6 آتشیں اسلحہ (بندوقیں) تجزیہ کے لئے بھیجی تھیں اور اس سلسلہ میں انھوں نے صرف 3 ہتھیاروں کے بارے میں رپورٹ پیش کی کیوں کہ اس کا تعلق جرم سے ہے۔ وکیل دفاع ایڈوکیٹ جی گرومورتی نے گواہ سے سوال کیاکہ سیاہ رنگ کے .22  ویسن ریوالور اور .32 ویسن ریوالور جو ملزمین کے لائسنس یافتہ ہتھیار ہیں کو آرمری میں محفوظ رکھے گئے تھے اور انھیں تجزیہ کے لئے فارنسک لیباریٹری طلب کیا گیا تھا۔ فارنسک ماہر نے جرح کے دوران یہ بھی بتایا کہ وہ (گواہ) رپورٹ اور تجزیہ سے متعلق دستاویزات عدالت میں جمع نہیں کروائے۔ 9 ایم ایم پستول سے 9 ایم ایم کا زخم ہوسکتا ہے لیکن انھوں نے اِس بات کو غلط قراردیتے ہوئے بریٹا پستول سے ہوئے زخموں کی گواہی دینے سے گریز کررہے ہیں اور عدالت میں جھوٹا بیان دے رہے ہیں۔ ایک اور وکیل دفاع مسٹر راج وردھن ریڈی کی جانب سے کئے گئے جرح کے دوران فارنسک ماہر نے بتایا کہ اُن کی رپورٹ تکنیکی تجزیے پر مبنی ہے۔ اُنھوں نے وکیل دفاع کی جانب سے اِس دعوے کو غلط قرار دیا کہ وہ استغاثہ کی مدد کرنے کی غرض سے تحقیقاتی عہدیدار کی جانب سے دیئے گئے سوالات کے مطابق رپورٹ تیار کی ہے۔ عدالت نے ایک اور وکیل دفاع اچھوت ریڈی کی جانب سے کی جانے والی جرح کو کل تک کے لئے ملتوی کردیا۔

TOPPOPULARRECENT