Tuesday , September 26 2017
Home / شہر کی خبریں / چندرائن گٹہ کے فٹ پاتھ تاجرین روزی روٹی سے محروم ، کاروبار تباہ و برباد

چندرائن گٹہ کے فٹ پاتھ تاجرین روزی روٹی سے محروم ، کاروبار تباہ و برباد

اشیاء بھی سمیٹ نہ سکے ، جی ایچ ایم سی کا ترقی کے نام پر غریبوں پر ظلم ، مصلحت پسند مسلم قائدین کی خاموشی پر عوام کی برہمی
انتخابی جلسہ میں قائد مقننہ کا وعدہ اکارت ثابت ، مسلم ارکان اسمبلی و کارپوریٹرس کی خاموشی ، دلاسہ دینا بھی ناگوار
حیدرآباد ۔ 6 ۔ اپریل : ( سیاست نیوز ) : شہر میں چھوٹے تاجرین جو فٹ پاتھ پر برسوں سے کاروبار کرتے ہوئے روزی روٹی حاصل کررہے تھے انہیں اب تیزی کے ساتھ بیدخل کیا جانے لگا ہے ۔ حکومت تلنگانہ کی جانب سے کمزور طبقات کی ترقی کے اقدامات کے دعوے تو کئے جاتے رہے ہیں لیکن عملی اعتبار سے یہ دعوے بے بنیاد ثابت ہورہے ہیں ۔ اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کی ترقی کے معاملہ میں سنجیدگی ظاہر کرنے والے حکمراں طبقہ اور مسلمانوں کے مفادات کے تحفظ کی دہائی دیتے ہوئے ووٹ حاصل کرنے والے مصلحت پسند مسلم قائدین پر پرانے شہر کے عوام برہمی کا اظہار کررہے ہیں ۔ حالیہ دنوں میں غوث نگر بنڈلہ گوڑہ میں ہوئی انہدامی کارروائی کے بعد اب فٹ پاتھ پر سے قبضہ جات کی برخاستگی کے نام پر چھوٹے مسلم تاجرین کو نشانہ بنانے کا نیا سلسلہ شروع ہوا ہے اور اسے مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کے 100 روزہ ترقیاتی منصوبہ کا نام دیا جارہا ہے ۔ مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کی جانب سے گزشتہ تین یوم سے شہر کے مختلف مقامات پر فٹ پاتھ پر سے تاجرین کو بیدخل کرنے کی مہم چلائی جارہی ہے ،

 

جس کے سبب چھوٹے تاجرین روزگار سے محروم ہورہے ہیں ۔ بلدی عہدیداروں نے آج پولیس کی بھاری جمعیت کے ساتھ حلقہ اسمبلی چندرائن گٹہ میں حافظ بابا نگر تا چندرائن گٹہ فٹ پاتھ پر کاروبار کرنے والوں کے کاروبار اکھاڑ پھینکے جب کہ بیشتر تاجرین اپنے چھوٹے تجارتی مراکز میں موجود اشیاء نکالنے کا وقت طلب کررہے تھے لیکن انہیں اتنا وقت بھی فراہم نہیں کیا گیا جس کی وجہ سے انہیں بھاری نقصان کا سامنا کرنا پڑا اور وہ کاروبار سے بھی محروم ہوگئے ۔ بلدی عہدیداروں نے بتایا کہ شہر کے تمام علاقوں میں یہ مہم شدت کے ساتھ چلائی جارہی ہے ۔ ان کا دعویٰ ہے کہ فٹ پاتھ پر نصب کردہ ڈبوں کے مالکین اس مقام پر تجارت نہیں کررہے ہیں بلکہ سیاسی اثر و رسوخ رکھنے والوں نے یہ ڈبے اور فٹ پاتھ کی جگہ ناجائز طور پر غریب لوگوں کو کرایہ پر دے رکھی ہے یا فروخت کرچکے ہیں ۔ غریب تاجرین جو اس بات کی تصدیق کرنے سے خوف محسوس کررہے ہیں نے بتایا کہ انہیں توقع تھی کہ نو منتخبہ کارپوریٹر صاحب عوام کو تکلیف ہونے نہیں دیں گے چونکہ ’ یم ایل اے صاحب ‘ نے انتخابات کے دوران کارپوریٹرس کو تاکید کی تھی کہ وہ عوام کو تکلیف نہ دیں ورنہ ’ ایم ایل اے صاحب ‘ تارتار نوچ لینے کا انتباہ دے چکے تھے لیکن آج جب پرانے شہر بالخصوص چندرائن گٹہ کے چھوٹے تاجرین کی تباہی ہوئی تو سب کی زبانیں خاموش رہیں اور کسی نے بلدی عہدیداروں کو رکوانے کی کوشش نہیں کی اور نہ ہی عوام کو دلاسہ دینے کے لیے کوئی دستیاب رہا ۔ چھوٹے متاثرہ تاجرین نے گزشتہ ماہ لاڈ بازار میں چارمینار پیدل راہرو پراجکٹ کے رکوائے گئے کاموں کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ لاڈ بازار میں بڑے تاجرین کا مسئلہ تھا اسی لیے کارپوریٹر ، ایم ایل اے اور دیگر سب نے مل کر ان ترقیاتی کاموں کو رکوادیا اور ٹولی چوکی یا چندرائن گٹہ میں فٹ پاتھ تاجرین کی بیدخلی شائد مصلحت پسندوں کے لیے غیر اہم مسئلہ ہے اسی طرح جس طرح غوث نگر کے گھروں کا مسئلہ تھا چونکہ ان کا تعلق غریب طبقہ سے ہے ۔۔

TOPPOPULARRECENT