Friday , June 23 2017
Home / شہر کی خبریں / چندرا بابو نائیڈو اور امیت شاہ کی رازدارانہ بات چیت پر سیاسی حلقوں میں تشویش

چندرا بابو نائیڈو اور امیت شاہ کی رازدارانہ بات چیت پر سیاسی حلقوں میں تشویش

تلنگانہ میں نئی سیاسی صف بندیوں اور حکمت عملیوں کے شکوک و شبہات ، کانگریس اور ٹی آر ایس قائدین متفکر
حیدرآباد۔26مئی (سیاست نیوز) بھارتیہ جنتا پارٹی قومی صدر امیت شاہ کی چیف منسٹر آندھرا پردیش و صدر تلگودیشم پارٹی مسٹر این چندرا بابو نائیڈو کی تنہائی میں ہوئی طویل ملاقات نے تلنگانہ کے سیاسی حلقوں میں تشویش کی لہر دوڑادی ہے۔ امیت شاہ کی چندرا بابو نائیڈو سے ملاقات اور تلنگانہ میں تلگودیشم پارٹی کی موجودہ حالت کے ساتھ تلگودیشم پارٹی قائدین کی تلنگانہ راشٹر سمیتی اور ریڈی قائدین کی بھارتیہ جنتا پارٹی میں شمولیت کی اطلاعات کے تناظرمیں اس ملاقات کو دیکھا جانے لگا ہے ا ور کہا جا رہا ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی اور تلگودیشم پارٹی متحدہ طور ریاست تلنگانہ میں نئی سیاسی صف بندیوں اور حکمت عملی کی تیاری کی سمت یہ ملاقات ایک پیشرفت ہے۔تلگودیشم پارٹی این ڈی اے کا حصہ ہے لیکن اس کے باوجود تلنگانہ میں تلگودیشم پارٹی اور بھارتیہ جنتا پارٹی کی حالت اس حد تک مستحکم نہیں ہے جتنی آندھرا پردیش میں ہے۔ ریاست تلنگانہ کے دورہ کے بعد امیت شاہ کی آندھراپردیش میں ہوئی مسٹر نائیڈو سے ملاقات کے بعد کانگریس اور ٹی آر ایس قائدین میں تشویش کی لہر پائی جاتی ہے جبکہ تلگودیشم اور بی جے پی قائدین اپنی مرکزی قیادت کی اس ملاقات کے متعلق متفکر نظر آرہے ہیں کیونکہ اس ملاقات کے بعد دونوں قائدین کی جانب سے کوئی ردعمل ظاہرنہیں کیا گیا۔ تلنگانہ تلگودیشم رکن اسمبلی مسٹر اے ریونت ریڈی کی بھارتیہ جنتا پارٹی میں شمولیت کی اطلاعات اور دیگر قائدین کی مختلف جماعتوں میں شمولیت کی اطلاعات کے دوران اس ملاقات کے بعد یہ کہا جا رہا ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی تلنگانہ میں قدم کو مضبوط بنانے کے لئے تلگودیشم کے پارٹی قائدین کی مدد حاصل کر رہی ہے ۔ تلگو دیشم پارٹی قیادت کی تلنگانہ راشٹر سمیتی سے ناراضگی کی کئی وجوہات ہیں جن میں تلگودیشم پارٹی کے منتخبہ اراکین اسمبلی کی ٹی آر ایس میں شمولیت کی حوصلہ افزائی اہم وجہ ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی ٹی آر ایس اور تلگودیشم کے درمیان موجود اس ناراضگی کو بہتر انداز میں استعمال کرنے کی حکمت عملی تیار کرنے میں مصروف ہے اور کہا جا رہا ہے کہ تلگودیشم پارٹی کے تلنگانہ میں موجود مستحکم کیڈر کا پارٹی کی جانب سے بی جے پی کیلئے استعمال کیا جائے گا اور کیڈر کو مزید مستحکم بنانے کے اقدامات کے ذریعہ تلنگانہ میں تلگودیشم پارٹی اپنے وجود کو مضبوط کرتے ہوئے تلنگانہ راشٹر سمیتی کو انتخابی شکست دینے کی منصوبہ بندی کر سکتی ہے ۔ سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ ریڈی طبقہ کی تلنگانہ راشٹر سمیتی سے ناراضگی اور تلگودیشم کے علاوہ کانگریس کے منتخبہ اراکین اسمبلی و قانون ساز کونسل کو ٹی آر ایس میں شامل کرلئے جانے کے بعد جو صورتحال پیدا ہوئی ہے اس صورتحال سے نمٹنے کیلئے کانگریس بھی ٹی آر ایس کی حکمت عملی اور پالیسیوں کی سخت مخالفت کر رہی ہے۔ شاہ ۔نائیڈو ملاقات کے بعد تلنگانہ میں سیاسی تبدیلیوں کے جو اشارے مل رہے ہیں ان کے متعلق سیاسی ماہرین کا کہنا ہے مخالف ٹی آر ایس قوتیں انتخابات سے قبل ٹی آر ایس قیادت کو گمراہ کرنے کی حکمت عملی اختیار کر سکتی ہیں اور شائد اسی لئے سابق مرکزی و زیر مسٹر ایس جئے پال ریڈی نے ریاست تلنگانہ میں ٹی آر ایس کے خلاف تلگودیشم پارٹی سے اتحاد کے اشارے دیئے ہیں لیکن کہا جا رہا ہے کہ تلنگانہ میں بھارتیہ جنتا پارٹی اپنی حلیف و درپردہ حلیف سیاسی جماعتوں کے ہمراہ تلنگانہ راشٹر سمیتی کو نقصان پہنچانے کیلئے منصوبہ بندی میں مصروف ہے۔بتایاجاتا ہے کہ بی جے پی قیادت اپنی حلیف تلگودیشم کے ہمراہ نشستوں کی تقسیم کے ذریعہ تلنگانہ میں انتخابات میں حصہ لے گی تاکہ تلگو دیشم کے تلنگانہ کیڈر کی مدد حاصل کی جاسکے اور تلگودیشم کے روایتی ووٹر کو راغب کروایا جاسکے اور اسی طرح درپردہ حلیف کو 30تا35نشستوں پرمقابلہ کی ترغیب دیتے ہوئے ریاست تلنگانہ میں ان کی تقاریر کا استعمال کرنے کی کوشش کی جائے گی لیکن یہ حکمت عملی کس حد تک کامیاب ہو پائے گی یہ کہا نہیں جا سکتا لیکن تلنگانہ راشٹر سمیتی اپنی خفیہ ایجنسیوں کے ذریعہ بھارتیہ جنتا پارٹی کے ساتھ ساتھ تلگودیشم اور بی جے پی کے درپردہ حلیفوں کی سرگرمیوں پر نگاہیں مرکوز کئے ہوئے ہے ۔بتایاجاتا ہے کہ شاہ۔نائیڈو ملاقات کے دوران تلنگانہ کے سیاسی مستقبل اور ریاست آندھرا پردیش کی ترقی کے متعلق موضوعات کے علاوہ دیگر امور پر بات چیت کی گئی اور کہا جا رہا ہے کہ بہت جلد تلگودیشم پارٹی کی تلنگانہ میں سرگرمیوں کو بڑھانے کے اقدامات کئے جائیں گے۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT