Sunday , September 24 2017
Home / شہر کی خبریں / چندرا بابو نائیڈو کو ووٹ برائے نوٹ پر کلین چٹ ممکن

چندرا بابو نائیڈو کو ووٹ برائے نوٹ پر کلین چٹ ممکن

ایک دہے سے زائد عرصہ بعد کے سی آر کی آندھرا میں آمد ، چیف منسٹر چندرا بابو سے خوشگوار ملاقات
حیدرآباد۔/22اکٹوبر، ( سیاست نیوز) چیف منسٹر تلنگانہ کے چندر شیکھر راؤ کا 14برس بعد آندھرا پردیش کی سرزمین پر قدم رکھنا اور دارالحکومت امراوتی کی تعمیر میں مکمل تعاون کا یقین دلانا سیاسی حلقوں میں موضوع بحث بن چکا ہے۔ ابتداء میں کہا جارہا تھا کہ چندر شیکھر راؤ امراوتی کی سنگ بنیاد تقریب میں شرکت نہیں کریں گے تاہم چیف منسٹر آندھرا پردیش چندرا بابو نائیڈو کی قیامگاہ آمد اور شخصی طور پر دعوت نامہ پیش کرنے کے بعد انہوں نے امراوتی جانے کا فیصلہ کیا۔ ٹی آر ایس اور تلگودیشم کے حلقوں میں اسے اہم سیاسی تبدیلی کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔ امراوتی کو روانگی اور پھر دارالحکومت کی تعمیر میں تلنگانہ حکومت سے مکمل تعاون کا یقین دلانا ایک طرف دونوں چیف منسٹرس کے درمیان تعلقات کے خوشگوار ہونے کو ظاہر کرتا ہے تو دوسری طرف امکان ہے کہ نوٹ برائے ووٹ اسکام میں اب چندرا بابو نائیڈو کیلئے کوئی خطرہ نہیں رہے گا۔ اس اسکام کے منظر عام پر آنے کے بعد دونوں چیف منسٹرس کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوگیا تھا اور ایک دوسرے پر کھل کر تنقیدیں کی گئیں۔ اینٹی کرپشن بیورو کی جانب سے کی گئی تحقیقات اور چارج شیٹ میں چندرا بابو نائیڈو کا نام شامل کیا گیا کیونکہ انہوں نے مبینہ طور پر تلنگانہ کے آزاد رکن اسمبلی اسٹیفن سن کو فون کرتے ہوئے کونسل کے انتخابات میں تلگودیشم امیدوار کی تائید کی خواہش کی تھی۔ چندرا بابو نائیڈو کی آواز پر مشتمل جو آڈیو ٹیپ تلنگانہ حکومت کے پاس موجود ہے اس کی فارنسک جانچ میں آواز چندرا بابو نائیڈو کی ہونا ثابت ہوچکا ہے۔ اس کے باوجود اینٹی کرپشن بیورو نے ابھی تک ان کے خلاف وارنٹ جاری نہیں کیا۔ اب جبکہ امراوتی کی سنگ بنیاد تقریب سے قبل دونوں چیف منسٹرس کی خوشگوار ملاقات ہوئی اور آج کے سی آر کے امراوتی پہنچنے پر آندھرا پردیش حکومت نے ان کا گرمجوشی سے استقبال کیا۔ تقریب میں اگرچہ کئی مرکزی وزراء اور بعض ریاستوں کے گورنرس موجود تھے لیکن نائیڈو حکومت نے کے سی آر کو غیر معمولی اہمیت دی اور انہیں تقریب سے خطاب کرنے کا موقع فراہم کیا۔ اس کے علاوہ سنگ بنیاد کی تختی پر کے سی آر کا نام بھی شامل کیا گیا۔ جس انداز میں چندرا بابو نائیڈو حکومت نے کے سی آر کو اہمیت دی اور کے سی آر نے جس خیرسگالی کا مظاہرہ  اور تعاون کا تیقن دیا اس سے اندازہ کیا جارہا ہے کہ نوٹ برائے ووٹ اسکام کی جانچ اب مزید آگے نہیں بڑھے گی اور اس میں چندرا بابو نائیڈو کو کلین چٹ مل سکتی ہے۔ دلچسپ بات تو یہ ہے کہ امراوتی میں حکومت کے بعض محکمہ جات، وجئے واڑہ میونسپل کارپوریشن اور بعض تلگودیشم قائدین نے کے سی آر کے استقبال میں بڑے ہورڈنگس لگائے تھے۔ تلنگانہ ریاست کے قیام کے بعد سے یہ پہلا موقع ہے جب کے سی آر کا آندھرائی علاقہ میں گرمجوشی سے خیرمقدم کیا گیا جبکہ تلنگانہ تحریک کے دوران ان کے مخالف آندھرائی بیانات سے عوام میں ناراضگی پائی جاتی تھی۔ تقریب کے شہ نشین پر وزیر اعظم کے علاوہ کئی اہم شخصیتیں موجود تھیں لیکن کے سی آر عوام اور میڈیا کی توجہ کا مرکز تھے۔ وہ جیسے ہی اسٹیج پر پہنچے عوام نے پرجوش استقبال کیا اور جب تقریر کیلئے آگے بڑھے اس وقت بھی ہزاروں کی تعداد میں موجود سامعین نے زبردست تالیوں کی گونج میں ان کا خیرمقدم کیا۔ دونوں چیف منسٹرس کی اس خوشگوار ملاقات اور تعلقات میں بہتری کا وزیر اعظم نریندر مودی نے اپنی تقریر میں نہ صرف تذکرہ کیا بلکہ اس کی ستائش کی۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ریاستیں باہمی اشتراک سے ترقی کی منزلیں طئے کرسکتی ہیں۔ یہ پہلا موقع ہے  جب ٹی آر ایس کے نیوز چینل T نیوز نے کسی آندھرائی تقریب کا مکمل لائیو ٹیلی کاسٹ پیش کیا جبکہ روزانہ اس چینل پر آندھرا سے متعلق کوئی بھی نیوز شامل نہیں کی جاتی۔

TOPPOPULARRECENT