Sunday , August 20 2017
Home / شہر کی خبریں / چندرا بابو نائیڈو کی چیف منسٹر تلنگانہ چندر شیکھر راؤ سے ملاقات

چندرا بابو نائیڈو کی چیف منسٹر تلنگانہ چندر شیکھر راؤ سے ملاقات

حیدرآباد۔ 18 اکتوبر (سیاست نیوز) چیف منسٹر آندھرا پردیش مسٹر این چندرا بابو نائیڈو نے آج شام تروپتی سے حیدرآباد آمد کے بعد بیگم پیٹ میں واقع چیف منسٹر کی قیام گاہ پہنچ کر چیف منسٹر تلنگانہ مسٹر کے چندر شیکھر راؤ سے طویل وقفہ کے بعد بہ نفس نفیس ملاقات کی۔ مسٹر نائیڈو کے چیف منسٹر تلنگانہ کی قیام گاہ پہونچنے پر وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی و پنچایت راج مسٹر کے ٹی راما راؤ، ڈپٹی چیف منسٹر اُمور ریوینیو، جناب محمد محمود علی ، وزیر توانائی مسٹر جگدیش ریڈی نے شاندار خیرمقدم کیا۔ بعدازاں مسٹر نائیڈو نے چندرشیکھر راؤ کی شال پوشی کرکے باقاعدہ طور پر 22 اکتوبر کو آندھرا پردیش کے دارالحکومت کیلئے امراوتی کے مقام پر منعقد ہونے والی تقریب سنگ بنیاد میں شرکت کرنے کی خواہش کرتے ہوئے دعوت نامہ پیش کیا۔ اس موقع پر چندرا بابو نائیڈو کے ہمراہ صدر تلنگانہ تلگو دیشم پارٹی مسٹر ایل رمنا اور قائد تلنگانہ تلگو دیشم مقننہ پارٹی مسٹر ای دیاکر راؤ بھی موجود تھے۔ جبکہ مسٹر نائیڈو نے چندر شیکھر راؤ کو دعوت نامہ کے ساتھ تروپتی کے لڈو بھی پیش کئے۔ اس دوران دونوں نے ایک دوسرے کی خیریت دریافت کی۔ چیف منسٹر آندھرا پردیش اور چیف منسٹر تلنگانہ کے مابین کچھ دلچسپ باتیں بھی ہوتی رہیں اور چیف منسٹر آندھرا پردیش نے دوران گفتگو بالواسطہ تقریب سنگ بنیاد میں شرکت کی توثیق کرلینے کیلئے تلنگانہ چیف منسٹر سے دریافت کرلیا کہ وہ تقریب سنگ بنیاد میں شرکت کیلئے کیسے آئیں گے؟ ہیلی کاپٹر سے یا طیارہ سے تو چندر شیکھر راؤ نے ایک لحاظ سے تقریب میں شرکت کرنے کی توثیق کرتے ہوئے مسٹر نائیڈو کو بتایا کہ 21 اکتوبر کے دن سوریہ پیٹ میں شب بسری کررہا ہوں اور 22 اکتوبر کے دن بذریعہ کار سڑک کے راستہ سے پہونچ کر شرکت کروں گا۔ مسٹر راؤ کے یہ کہنے پر چندرا بابو نائیڈو نے امراوتی راجدھانی کی تعمیر کیلئے آتے وقت ریاست تلنگانہ کے بعض مقدس مقامات سے مٹی اور پانی ساتھ لانے کی چیف منسٹر تلنگانہ سے خواہش کی۔ دونوں چیف منسٹروں کے مابین دوران گفتگو دونوں ہی ریاستوں میں برقی کی صورتحال پر بھی بات چیت ہوئی اور بتایا گیا کہ اترپردیش ریاست ڈسکامس کو 60 تا 70 ہزار کروڑ روپئے کی رقم واجب الادا رہنے کا اظہار کیا گیا لیکن ہماری دونوں ریاستوں میں اس طرح کی صورتحال نہ رہنے کا چندر شیکھر راؤ کی جانب اظہار کئے جانے پر فوری مسٹر نائیڈو نے انہیں یاد دلایا کہ سابق دور حکومت میں روبہ عمل لائے گئے برقی اصلاحات کا ہی نتیجہ ہے۔ اس کا فائدہ آج دونوں تلگو ریاستوں کو حاصل ہورہا ہے۔ بعدازاں دونوں کے مابین کچھ دیر سنگاپور، جاپان، دوبئی جیسے ممالک کی ترقی پر بھی بات چیت ہوئی۔ مسٹر نائیڈو نے ان ممالک کی ترقی کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ ان ممالک میں احتجاج، دھرنے، راستہ روکو جیسے پروگرام وغیرہ منظم نہیں کئے جاتے اور ان کے پاس موجود وسائل کا بہتر انداز میں استفادہ کیا جاتا ہے جس کے باعث مذکورہ ممالک تیزی کے ساتھ ترقی کررہے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT