Friday , August 18 2017
Home / شہر کی خبریں / چندرا بابو نائیڈو کے بیان سے پولیس عہدیدار ہکا بکا

چندرا بابو نائیڈو کے بیان سے پولیس عہدیدار ہکا بکا

آندھرا میں آئی ایس آئی ایس کی سرگرمیاں
دہشت گرد گروپ کی سرگرمیوں کی کوئی اطلاع نہیں ۔ اڈیشنل ڈی جی پی کا بیان

امراوتی 10 جنوری ( پی ٹی آئی ) چیف منسٹر آندھرا پردیش این چندرا بابو نائیڈو نے ریاست میں آئی ایس آئی ایس کی جانب سے سرگرمیوں کو وسعت دئے جانے سے متعلق جو بیان دیا ہے اس نے ریاست میں پولیس عہدیداروں کو ہکا بکا کردیا ہے ۔ اعلی پولیس عہدیداروں نے آج چیف منسٹر کے اس بیان پر الجھن ظاہر کی اور وہ اس خیال کو مسترد بھی کرتے ہیں ۔ ان کا کہنا ہے کہ آندھرا پردیش میں اب تک بھی آئی ایس آئی ایس کی سرگرمیوں کی کوئی اطلاع نہیں ہے ۔ این آئی اے کے ذرائع نے بھی واضح کیا ہے کہ انہوں نے آندھرا پردیش میں اس گروپ کے کسی رکن کی موجودگی یا کسی سرگرمی کے تعلق سے نہیںسنا ہے ۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ حیدرآباد میں جو آندھرا اور تلنگانہ کا مشترکہ دارالحکومت ہے اس گروپ کے ایک دو ہمدرد ہوسکتے ہیں لیکن آندھرا پردیش میں ان کا کوئی وجود نہیںہے ۔ چندرا بابو نائیڈو نے کل این ڈی آر ایف کی دسویں بٹالین کے ہیڈ کوارٹرس کا سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب میںمرکزی وزیرداخلہ راج ناتھ سنگھ سے کہا تھا کہ آندھرا پردیش میں آئی ایس آئی ایس کی سرگرمیوں کو دھیرے دھیرے وسعت دی جا رہی ہے ۔ اگر مرکزی حکومت کی جانب سے ریاپڈ ایکشن فورس کے دستے ریاست کو الاٹ ئے جاتے ہیں تو اس سے آئی ایس آئی ایس پر قابو پانے میں بہت مدد مل سکتی ہے ۔ آندھرا پردیش کے ایک اڈیشنل ڈائرکٹر جنرل پولیس رینک کے عہدیدار نے واضح کیا کہ آندھرا پردیش میں اب تک آئی ایس آئی ایس کی سرگرمیوں کی کوئی اطلاع نہیں ہے ۔ جو کچھ چیف منسٹر نے کہا ہے وہ ہوسکتا ہے کہ ان کا محض اندیشہ ہو ۔ اڈیشنل ڈی جی پی نے کہا کہ چیف منسٹر نے کسی کلرک کا تیار کردہ نوٹ پڑھا تھا ۔ اسی لئے انہوں نے آئی ایس آئی ایس اور اس کے خلاف ریاپڈ ایکشن فورس کے استعمال کی بات کہی تھی ۔ یہ کلرک کی غلطی ہوسکتی ہے ۔ آر اے ایف در اصل سی آر پی ایف کی انسداد فساد یونٹ ہے لیکن چیف منسٹر چاہتے ہیں کہ اسے ریاست میں آئی ایس آئی ایس گروپ کے خلاف کارروائی کیلئے الاٹ کیا جائے ۔ یہ گروپ در اصل عراق اور شام میں مصروف ہے اور اسے ان ممالک میں کچھ وقت کیلئے وسیع علاقوں پر کنٹرول حاصل ہوگیا تھا ۔ ایک اہم عہدہ پر فائز اس اڈیشنل ڈی جی نے کہا کہ ریاپڈ ایکشن فورس کوئی انسداد دہشت گردی گروپ نہیںہے ۔ اس کا حوالہ دینا چیف منسٹر کی غلطی ہے ۔ ہم چاہتے ہیں کہ ایک آر اے ایف بٹالین ریاست کو الاٹ کی جائے لیکن اس کا مقصد الگ ہے ۔ پولیس عہدیداروں کا کہنا تھا کہ چیف منسٹر کو شائد سیمی اور آئی ایس آئی ایس کے مابین کوئی مغالطہ ہوگیا ہے ۔ حال ہی میںسیمی کے کچھ کارکنوںکو پونے میں گرفتار کیا گیا تھا جنہوں نے مبینہ طور پر پولیس سے کہا تھا کہ وہ اکثر وشاکھاپٹنم کے ایک بیچ پر ملاقاتیں کیا کرتے تھے ۔اڈیشنل ڈی جی پی نے کہا کہ چیف منسٹر کے بیان سے ایسا لگتا ہے کہ ریاستی پولیس کو الجھن ہوئی ہے ۔ دوسروں کیلئے ہوسکتا ہے کہ یہ زبانی لغزش مان لی جائے تاہم ریاستی پولیس کی حیثیت سے ہمیں اس کی بہت زیادہ وضاحت کرنی پڑتی ہے ۔

TOPPOPULARRECENT