Sunday , August 20 2017
Home / شہر کی خبریں / چندرا بابو کا تلنگانہ سے مکمل خیرباد، تلنگانہ کی ترقی میں شاگردوں کی رکاوٹ ، کے ٹی آر کا ریمارک

چندرا بابو کا تلنگانہ سے مکمل خیرباد، تلنگانہ کی ترقی میں شاگردوں کی رکاوٹ ، کے ٹی آر کا ریمارک

حیدرآباد ۔ 14۔  نومبر  (سیاست نیوز) وزیر انفارمیشن ٹکنالوجی کے ٹی راما راؤ نے کہا کہ آندھراپردیش کے چیف منسٹر چندرا بابونائیڈو حیدرآباد سے اپنا بوریا بستر سمٹ کر وجئے واڑہ منتقل ہوچکے ہیں۔ انہوں نے تلنگانہ میں اپنے ووٹ کے حق کو بھی منسوخ کرتے ہوئے اسے آندھراپردیش منتقل کرلیا ۔ انہوںنے کہا کہ چندرا بابو نائیڈو اگرچہ تلنگانہ سے منتقل ہوچکے ہیں لیکن ان کے شاگرد ابھی بھی یہاں موجود ہیں۔ کے ٹی راما راؤ نے کوتہ گوڑہ میں مختلف ترقیاتی اسکیمات کا افتتاح کیا۔ ریاستی وزیر عمارات و شوارع ٹی ناگیشور راؤ کے ہمراہ انہوں نے مختلف تقاریب میں شرکت کی ۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے کے ٹی آر نے کوتہ گوڑم کے 7 منڈلوں کے آندھراپردیش میں شامل کئے جانے پر افسوس کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ ریاست کی تقسیم کے موقع پر ان منڈلوں کو تلنگانہ سے نکال کر آندھراپردیش کا حصہ بنادیا گیا ہے ۔ ٹی آر ایس حکومت کو ان منڈلوں کے عوام سے ہمدردی ہے اور علاقہ کی علحدگی کے باوجود تلنگانہ حکومت نے 7 منڈلوں کے مسائل کے حل کے اقدامات کئے ہیں۔ تاہم تلگو دیشم پارٹی تلنگانہ کے ترقیاتی اور فلاحی اقدامات میں رکاوٹ پیدا کرنے کی کوشش کر رہی ہے ۔ کے ٹی آر نے ریمارک کیا کہ چندرا بابو نائیڈو اگرچہ تلنگانہ سے اپنا سامان سمٹ کر آندھراپردیش کوچ کرچکے ہیں لیکن ان کے شاگرد ابھی بھی برقرار ہیں جو تلنگانہ حکومت کے اقدامات کی مخالفت جاری رکھے ہوئے ہیں۔ کے ٹی آر نے کہا کہ نو تشکیل شدہ ضلع بھدرادری کوتہ گوڑم میں نیا ایرپورٹ تعمیر کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ضلع کی ہمہ جہتی ترقی کیلئے حکومت اپنے عہد پر قائم ہے۔ نئے اضلاع کی تشکیل کا مقصد ہر ضلع کو ترقی کا یکساں موقع فراہم کرنا ہے اور فلاحی اسکیمات پر موثر عمل آوری چھوٹے اضلاع میں ممکن ہے۔ ٹی آر ایس حکومت موافق غریب حکومت ہے۔ ضلع میں محدود وسائل کا موثر استعمال کرتے ہوئے ہر ممکن ترقی کو یقینی بنایا جائے گا ۔ انہوں نے تیقن دیا کہ ضلع کے مائیننگ کالج کو مائیننگ یونیورسٹی میں تبدیل کرنے کیلئے وہ چیف منسٹر سے نمائندگی کریں گے۔ انہوں نے تیقن دیا کہ ضلع میں ڈرینج کے مسئلہ کو مستقل طور پر حل کیا جائے گا ۔ کے ٹی آر نے بتایا کہ خواتین کے سیلف ہیلپ گروپ کو بینکوں کے ذریعہ قرض فراہم کئے جارہے ہیں  تاکہ خواتین خود مکتفی بن سکیں۔  انہوں نے گزشتہ ڈھائی برسوں کے دوران ٹی آر ایس حکومت کی جانب سے شروع کردہ مختلف فلاحی اسکیمات کا احاطہ کیا اور کہا کہ اپوزیشن جماعتیں تعمیری تجاویز کے بجائے تنقید کا راستہ اختیار کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ کے عوام حکومت کی کارکردگی سے مطمئن ہے لیکن اپوزیشن کو اس کا اندازہ نہیں۔ کے ٹی آر نے کہا کہ زرعی شعبے اور کسانوں کیلئے اپوزیشن مگرمچھ کے آنسو بہا رہا ہے جبکہ حکومت نے کسانوں کے تمام اہم مسائل کی یکسوئی کردی ہے۔

TOPPOPULARRECENT