Tuesday , October 24 2017
Home / بچوں کا صفحہ / چور نو دو گیارہ ہوگیا …!

چور نو دو گیارہ ہوگیا …!

شیخ صاحب گھر میں اکیلے تھے۔ آسمان پر ہلکے ہلکے بادل چھائے ہوئے تھے۔ شیخ چلی رات کا کھانا کھا کے صحن میں چار پائی پر سو گئے۔ تھوڑی دیر بعد اچانک ان کی آنکھ کھل گئی۔ کیا دیکھتے ہیں کہ اچانک ایک دبلا پتلا سا آدمی شیشم کے پیڑ کے سہارے آہستہ آہستہ اتر رہا ہے۔ وہ دبے پاؤں شیخ چلی کی چار پائی کی طرف بڑھا اور ان کے سرہانے آ کے کھڑا ہوگیا۔
شیخ صاحب پہلے تو خاموش رہے جب یہ اطمینان ہوگیا کہ اس کے پاس کوئی ہتھیار نہیں ہے تو ہاتھ بڑھا کے اس کی کلائی پکڑ لی۔ چور نے ہاتھ چھڑانے کیلئے بڑے جتن کئے پر شیخ کے پنجے میں کلائی تھی۔ جب وہ ہاتھ پاؤں مار کے تھک گیا تو شیخ چلی اٹھے اور کہنے لگے تو اس بستی کا رہنے والا تو معلوم نہیں ہوتا۔ کہیں باہر سے آیا ہے۔چور نے ان کی بات کا کوئی جواب نہ دیا اور سر جھکائے چپ چاپ کھڑا رہا۔ شیخ جی بولے، جی تو چاہتا ہے کہ جوتے مار کے تجھے فرش کردوں لیکن تجھ جیسے کمزور آدمی پر ہاتھ اٹھاتے شرم آتی ہے۔ اس لئے بہتر یہی ہیکہ تجھے کوتوال کے حوالے کردیا جائے یہ کہہ کر اسے کھینچتے ہوئے شہر کی طرف لے چلے۔ گھر سے کوئی آدھ میل گئے ہوں گے کہ خیال آیا۔ پگڑی تو گھر میں ہی رہ گئی ہے۔ کوتوال سے ننگے سر ملے تو وہ کیا کہے گا۔ یہ سوچ کے چور سے کہنے لگے تو یہیں ٹھہر میں گھر سے پگڑی لے آؤں گا۔ چور کو ایسا موقع کیا مل سکتا تھا ؟ شیخ چلی نے گھر کا رخ کیا اور وہ نو دو گیارہ ہوگیا۔ شیخ چلی نے واپس آکر جب دیکھا تو اپنا سامنہ لیکر رہ گئے ۔

TOPPOPULARRECENT