Thursday , August 17 2017
Home / شہر کی خبریں / چچا طغیانی 107 سال کی عمر میں بھی چاق و چوبند

چچا طغیانی 107 سال کی عمر میں بھی چاق و چوبند

دینی کتب کی فروخت کیلئے یومیہ سیکل پر 50 کلو میٹر کا سفر،تین بیٹیوں کی شادیوں کی فکر سے لگتا ہے کہ اب میں بوڑھا ہورہا ہوں : محمد علی
حیدرآباد ۔ 16 ۔ ستمبر : ( محمد ریاض احمد ) : موجودہ دور میں اگر کوئی مرد و خاتون 100 سال کی عمر کو پہنچ جاتے ہیں تو اسے ایک کرشمہ ہی کہا جاتا ہے ۔ آج کے اس مصروف ترین مشینی دور میں اگر کسی سے یہ کہا جائے کہ ایک صاحب اپنی عمر کی 107 بہاریں دیکھ چکے ہیں ۔ عمر کے اس حصہ میں وہ بالکل چاق و چوبند ہیں ۔ یومیہ کم از کم 50 کلومیٹر کا فاصلہ سیکل چلاتے ہوئے طئے کرتے ہیں ۔ انہیں کسی قسم کی کوئی بیماری نہیں ۔ شوگر بی پی وغیرہ سے بھی وہ ہنوز محفوظ ہیں ۔ کھانے کے لیے جو بھی ملتا ہے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہوئے شکم سیر ہو کر کھاتے ہیں ۔ ہمیشہ یقین ہے کہ ایک شخص کی اتنی خوبیوں کے بارے میں جان کر کسی کو یقین ہی نہیں آئے گا ۔ اسی لیے کہ موجودہ دور میں انسان مشینوں کا غلام ہوگیا ہے ۔ اس کی آرام پسندی نے اسے مختلف بیماریوں کا شکار بنایا ہے ۔ کم عمری سے ہی لوگ شوگر اور دیگر خطرناک بیماریوں میں مبتلا ہورہے ہیں لیکن قارئین ہم آج آپ کی ملاقات ایک ایسے ضعیف العمر شخصیت سے کروا رہے ہیں جو حقیقت میں اپنی عمر کی 107 بہاریں دیکھ چکے ہیں ۔ انہوں نے حیدرآباد دکن میں حضور نظام نواب میر عثمان علی خاں بہادر کی حکمرانی بھی دیکھی اور متحدہ آندھرا پردیش و تلنگانہ میں جمہوری حکومتوں و چیف منسٹروں اور سیاستدانوں کا عروج و زوال بھی دیکھا ۔ ہم بات کررہے ہیں ۔ چشتی چمن منگل ہاٹ کے رہنے والے جناب محمد علی ولد محمد عبدالغفور کی جس وقت 28 ستمبر 1908 کو موسیٰ ندی کی طغیانی کا ہولناک واقعہ پیش آیا تھا ۔ اس وقت ضلع نظام آباد کے ایک چھوٹے سے گاؤں میں محمد علی کی پیدائش ہوئی ان کے والد ایک مسجد کے پیش امام تھے ۔ 6 بھائیوں اور 5 بہنوں کے اس بھائی کا کہنا ہے کہ ہیضہ اور پلیگ کے باعث ان کے تمام بھائی بہن فوت ہوگئے ۔ موسیٰ ندی میں آئی طغیانی کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ اس وقت ان کی پیدائش ہوئی جس کے باعث گاؤں والے اکثر انہیں ’’ طغیانی ‘‘ کے نام سے بلایا کرتے تھے ۔ محمد علی بتاتے ہیں ’’ میں نے طغیانی کے بارے میں اپنے والدین سے سنا ہے اس وقت محبوب علی پاشاہ دکن کے بادشاہ تھے ۔ مجھے یاد ہے کہ اس وقت بعض بزرگوں نے بتایا تھا کہ 28 ستمبر کی درمیانی شب 2 بجے طغیانی کا آغاز ہوا ۔ جس میں ہزاروں لوگ اپنی زندگیوں سے محروم ہوگئے ۔ محبوب علی پاشاہ نے تمام شاہی محلات کے دروازے متاثرین کے لیے کھولدئیے اور لاکھوں لوگوں کو کئی دنوں تک کھانا کھلایا گیا ‘‘ ۔

حیدرآباد کے انڈین یونین میں انضمام کے لیے کیے گئے پولیس ایکشن کے بارے میں محمد علی نے جن کی یادداشت پر رشک ہوتا ہے بتایا کہ اس وقت ان کی عمر 38 سال تھی ۔ شہر حیدرآباد میں تو کچھ نہیں ہوا لیکن مرہٹواڑہ اور ریاست کے دیگر اضلاع میں مسلمانوں کا زبردست جانی و مالی نقصان ہوا ۔ بے شمار امیر ، غریب ہوگئے کل تک جن کے محل نما مکانات پر ضرورت مندوں کا اژدھام ہوا کرتا تھا ۔ پولیس ایکشن کے باعث وہی امداد حاصل کرنے والوں کی قطاروں میں نظر آئے ۔ پولیس ایکشن مسلمانان دکن کے لیے ایک خونی باب کی حیثیت رکھتا ہے ۔ شہر حیدرآباد کے بارے میں محمد علی کا کہنا ہے کہ جب وہ نظام آباد سے حیدرآباد آئے تھے اس وقت دور دور تک اس شہر میں جھاڑیاں ہی جھاڑیاں نظر آتی تھیں لیکن اب ہر طرف بلند و بالا عمارتیں ہی عمارتیں ہیں آبادی بڑھ گئی ہے ۔ حیدرآباد میں بہت تبدیلیاں آئی ہیں لیکن آج بھی یہاں کے لوگوں میں ہمدردی محبت و مروت اور انسانیت کا جذبہ پایا جاتا ہے ۔ حیدرآبادی ہر ضرورت مند کی مدد کرنے میں آج بھی سب سے آگے ہیں ۔ ایک سوال کے جواب میں محمد علی نے بتایا کہ نظام آباد سے حیدرآباد آنے کے بعد انہوں نے مسجد یسین سید علی چبوترہ ، مسجد کلیمہ نور خاں بازار اور مسجد ملیہ ملک پیٹ میں موذنی کے فرائض انجام دئیے اور 65 سال کی عمر میں شادی کی وہ 8 بچوں کے باپ ہیں جن میں چار لڑکے اور چار لڑکیاں شامل ہیں ۔ ایک لڑکی کی شادی ہوچکی ہے ۔

تین لڑکیوں کی شادیوں کو لے کر کافی فکر مند ہیں ۔ بیوی کے انتقال کے بعد انہوں نے ایک بیوہ خاتون سے شادی کی ۔ محمد علی کی زندگی آزمائشوں سے پر رہی ۔ 1990 کے دہے میں انہیں بنگلہ دیشی قرار دے کر گرفتار کرلیا گیا ۔ 7 برسوں تک وہ اپنے ناکردہ گناہ کی سزا پاتے رہے جب کہ بیوی کے انتقال کے باعث بچوں کو یتیم خانہ انیس الغرباء میں شریک کرایا گیا ۔ محمد علی 70 برسوں سے سیکل چلاتے ہیں ان کی خاص بات یہ ہے کہ وہ سیکل پر شہر کے مختلف محلہ جات میں پھر پھر کر دینی کتب فروخت کرتے ہیں ۔ اپنی صحت کے راز کے بارے میں انہوں نے بتایا کہ وہ شام جلد سوتے ہیں اور صبح جلد بیدار ہوتے ہیں ۔ نمازوں کی پابندی کرتے ہیں ۔ اس سوال پر کہ وہ کہاں کہاں جاتے ہیں ۔ محمد علی نے بنا کسی رکاوٹ کے 30 تا 40 محلہ جات کے نام ایسے گنوائے جیسے یہ تمام نام ان کے دماغ میں ریکارڈ ہوں ۔ دینی کتابوں کے بارے میں بھی انہوں نے ایک ہی سانس میں بتایا اور کہا ’’ میں نورنامہ ، عہد نامہ ، یسرنا القرآن ، نورانی راتیں ، راہ جنت ، ضرور المسلمین ، پنچ پارے ، پنچ سورے ، شادی میں رکاوٹ ، جادو کا توڑ ، نظر کا توڑ ، طلب اولاد کی ، مرنے کے بعد کیا ہوتا ہے ، قبر کی پہلی رات ، عذاب قبر کا آنکھوں دیکھا حال جیسی کتابیں فروخت کرتا ہوں ‘‘ ۔ ایک سوال کے جواب میں محمد علی کا کہنا تھا کہ وہ ان کتابوں کی فروخت سے یومیہ 200 روپئے کما لیتے ہیں ۔ ایک کرایہ کے کمرے میں رہتے ہیں ۔ انہیں غربت کی کوئی فکر نہیں ہاں تین بیٹیوں کی شادیوں کی فکر لگی رہتی ہے ۔ امید ہے کہ اللہ کے نیک بندے ان کی مدد کے لیے ضرور آگے آئیں گے ۔ ان کے خیال میں بیٹیوں کی شادیوں کی فکر کے باعث ایسا لگ رہا ہے کہ وہ حقیقت میں بوڑھے ہونے لگے ہیں ۔۔

TOPPOPULARRECENT