Wednesday , August 23 2017
Home / شہر کی خبریں / چکن کی قیمتوں میں بے تحاشہ اضافہ اور تاجرین کی من مانی

چکن کی قیمتوں میں بے تحاشہ اضافہ اور تاجرین کی من مانی

تقاریب میں چکن ڈشیس لازمی سمجھنا بھی ایک وجہ ، قیمت پر کنٹرول کے لیے اتھاریٹی ضروری
حیدرآباد۔10جولائی (سیاست نیوز) عیدالفطر کے فوری بعد مسلم شادیوں کے موسم کے ساتھ ہی مرغ کی قیمتو ںمیں بے تحاشہ اضافہ وبال جان بن چکا ہے کیونکہ تمام تر تقاریب میں مرغ کو لازمی جز کے طور پر پیش کئے جانے کی روایت ہے مرغ کے ٹھوک تاجرین جو ان روایات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے قیمتوں میں اضافہ کر رہے ہیں ۔ موسم کی تبدیلی کے دوران ماہرین طب کا کہنا ہے کہ مرغ وغیرہ کا استعمال نہیں کیا جانا چاہئے لیکن اس کے باوجود مرغ کی قیمتوں میں کئے جانے والے اضافہ کی بنیادی وجوہات کے متعلق کہا جار ہا ہے کہ مرغ اور گوشت کی قیمتوں پر کنٹرول کیلئے کوئی اتھاریٹی نہ ہونے کے سبب یہ تاجرین من مانی کر رہے ہیں اور انہیں اس بات سے روکنے والا کوئی نہیں ہے۔ مرغ کی قیمت میں رمضان کے آخری ایام میں کمی آئی تھی لیکن اس کے فوری بعد قیمت میں فی کیلو 10روپئے تک کا اضافہ کردیا گیا ہے جبکہ بازار میں نہ ہی مرغ کی قلت ہے اور نہ ہی طلب میں شدید اضافہ ہوا ہے لیکن قیمت میں ہونے والے بھاری اضافہ کی وجہ کے متعلق شعبہ سے وابستہ افراد کا کہنا ہے کہ مرغ کو تقاریب کا لازمی جز تصور کئے جانے کے سبب ٹھوک تاجرین اور پیداوار کرنے والوں کی جانب سے قیمت میں اضافہ کیا جا رہا ہے جو کہ عوام کیلئے ناقابل قبول ہے لیکن تقاریب میں ہزاروں کیلو مرغ استعمال کئے جانے کے سبب عوام کی عدم خریداری سے کمپنیوںکو کوئی فرق نہیں پڑتا ۔ریاست کیرالا میں حکومت نے مرغ کی قیمت کے تعین کا فیصلہ کیا لیکن اس کے ساتھ ہی تجارت سے وابستہ افراد نے احتجاج شروع کردیا اور کہنے لگے کہ حکومت کی جانب سے طئے کی جانے والی قیمت پر مرغ یا مرغ کا گوشت فروخت کیا جانا ممکن نہیں ہے لیکن حکومت کیرالا کے اس اقدام سے دستبرداری اختیار کرنے کے موقف میں نہیں اور یہ کہا جا رہا ہے کہ تاجرین کی من مانی کا نقصان عوام کو بھگتنا پڑ رہا ہے ۔حکومت تلنگانہ کی جانب سے بھی اگر مرغ اور گوشت کی قیمتوں کے تعین کا فیصلہ کیا جاتا ہے تو اس کے مثبت اثرات برآمد ہوں گے کیونکہ اس طرح مرغ فروخت کرنے والی خانگی کمپنیوں کی من مانی کا خاتمہ کیا جا سکے گا۔مرغی کی تجارت سے وابستہ افراد کا کہنا ہے کہ ٹھوک تاجرین بھی مجبور ہیں ان کمپنیوں کے آگے جو پولٹری صنعت پر بالواسطہ طور پر قبضہ کئے ہوئے ہیں اور مرغ کی سربراہی کے معاملہ میں تمام کا انحصار ان پر ہی ہو چکا ہے۔دونوں شہرو ںمیں موجود پولٹری تاجرین کا کہنا ہے کہ جب اضافی قیمت میں خریدنا پڑ رہا ہے تو انہیں اسی قیمت میں فروخت بھی کرنا پڑے گا اسی لئے قیمتوں کے تعین کے لئے اگر اتھاریٹی تشکیل دی جاتی ہے تو اس کے مثبت نتائج برآمد ہو سکتے ہیں لیکن اس طرح کی توقع نہیں کی جا سکتی ۔چونکہ ان کمپنیوں کی جانب سے مسلم تہواروں اور مسلم شادیوں کی تقاریب کے دوران مرغ کی قیمتوں میں من مانی اضافی کرتے ہوئے عوام کو لوٹ رہے ہیں ۔شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر تقاریب کے پکوان کی فہرست سے چکن کو برخواست کیا جاتا ہے تو ایسی صورت میں مرغ کی قیمتیں معمول پر آجائیں گی کیونکہ وہ زیادہ دن برائلر مرغ کی پرورش نہیں کر سکتے اور اس کی عمر بھی کافی کم ہوتی ہے اسی لئے مصلحت پسندی اختیار کرتے ہوئے تقاریب کی فہرست سے چکن سے تیار کئے جانے والے اشیاء کو خارج کیا جاتاہے تو ایسی صورت میں مرغ کی قیمتیں بھی کنٹرول میں آجائیں گی اور موسم کی تبدیلی کے دوران ڈاکٹرس کی جانب سے دیئے جانے والے مشورہ پر بھی عمل آوری ہوسکے گی۔

TOPPOPULARRECENT