Monday , August 21 2017
Home / شہر کی خبریں / چھتیس گڑھ و تلنگانہ کے درمیان برقی معاہدہ کو منسوخ کرنے کا مطالبہ

چھتیس گڑھ و تلنگانہ کے درمیان برقی معاہدہ کو منسوخ کرنے کا مطالبہ

سال 2018 تک تلنگانہ فاضل برقی والی ریاست بن جائے گا : محمد علی شبیر
حیدرآباد ۔ 11 ۔ فروری : ( سیاست نیوز) : قائد اپوزیشن تلنگانہ قانون ساز کونسل مسٹر محمد علی شبیر نے چھتیس گڑھ سے 1000 میگاواٹ برقی خریدنے کے فیصلے کی مخالفت کرتے ہوئے تلنگانہ اور چھتیس گڑھ دونوں ریاستوں کے درمیان کئے گئے معاہدے کو فوری منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا ہے ۔ مسٹر محمد علی شبیر نے تلنگانہ اسٹیٹ الیکٹرسٹی ریگولیٹری کمیشن سے نمائندگی کرتے ہوئے کہا کہ ٹی آر ایس حکومت 2018 تک تلنگانہ فاضل برقی رکھنے والی اسٹیٹ میں تبدیل ہوجانے کا دعوی کررہی ہے ۔ ایسی صورت میں پڑوسی ریاست چھتیس گڑھ سے 1000 میگاواٹ برقی خریدنے کا معاہدہ بے فیض ہے کیوں کہ اس معاہدے پر 3 سال بعد عمل آوری ہوگی اور 12 سال تک اس کی اہلیت رہے گی ۔ تلنگانہ ریاست کے لیے یہ جہاں گھاٹے کا فیصلہ ہوگا وہیں برقی صارفین پر زائد مالی بوجھ عائد ہوگا ۔ مسٹر محمد علی شبیر نے کہا کہ جاریہ سال اپریل تھرمل پاور اسٹیشن میں 4085 میگاواٹ برقی پیداوار کی گنجائش فراہم ہوگی جس میں 600 میگاواٹ بھوپال پلی اور 1200 میگاواٹ جئے پور تھرمل پاور اسٹیشن بھی شامل ہیں ۔ ہیڈل پاور بڑھ کر جاریہ سال 6,166 میگاواٹ تک پہونچ جائے گا حکومت جاریہ سال کے اواخر تک 2000 میگاواٹ سولار پاور تیار کرنے کا دعویٰ کررہی ہے ۔ تلنگانہ ریاست کے لیے 8000 میگاواٹ برقی کی طلب ہے جب کہ حکومت 9166 میگاواٹ برقی پیدا کرنے کا دعویٰ کررہی ہے ۔ ٹی آر ایس حکومت تلنگانہ میں 2018 تک برقی پیداوار کو 4320 کروڑ سے بڑھا کر 23675 میگاواٹ تک پہونچانے کا دعوی کررہی ہے ۔ جب برقی پیداوار میں تلنگانہ ریاست کا موقف طاقتور ہے تو چھتیس گڑھ سے 1000 میگاواٹ برقی خریدنا بے فیض ہے ۔ ریاست کے سرکاری خزانے کے ساتھ ساتھ برقی صارفین پر زائد مالی بوجھ ہے لہذا چھتیس گڑھ سے برقی خریدنے کے فیصلے سے حکومت دستبردار ہوجائے ۔ تلنگانہ حکومت کو آئندہ تین سال میں 20 ہزار میگاواٹ برقی پیدا کرنے کا یقین ہے تو پبلک پرائیوٹ پارٹنر شپ فضول ہے اور وقت ضائع کرنے کے برابر ہے ۔ چھتیس گڑھ سے 12 سال کا جو معاہدہ کیا جارہا ہے اس پر آئندہ تین سال بعد عمل آوری ہوگی ۔ وردھا مہیشورم و انگور پلاسہ کے درمیان ٹرانسمیشن لائنس بچھانے کے بارے میں ابھی تک موقف واضح نہیں ہے ۔ 2018 سے قبل گرڈ کی تکمیل ناممکن ہے ۔ ساتھ ہی ایک فاضل برقی رکھنے والی ریاست کے لیے بھی یہ موزوں نہیں ہے ۔۔

TOPPOPULARRECENT