Wednesday , September 20 2017
Home / ہندوستان / چھتیس گڑھ کے ہاسپٹل میں تین نومولود فوت ،آکسیجن کی سربراہی میں خلل

چھتیس گڑھ کے ہاسپٹل میں تین نومولود فوت ،آکسیجن کی سربراہی میں خلل

رائے پور 21 اگسٹ ۔ ( سیاست ڈاٹ کام )رائے پور کے ایک سرکاری ہاسپٹل میں نومولود بچوں کی خصوصی نگہداشت کے یونٹ میں تین نوزائیدہ بچے فوت ہوگئے ، جس پر اُن کے رشتہ داروں نے آکسیجن سربراہی میں خلل کا الزام عائد کیا ۔ لیکن چھتیس گڑھ کے عہدیداران صحت نے اس کی تردید کی ہے ۔ ریاستی چیف منسٹر رمن سنگھ نے نومولود بچوں کی اموات کی تحقیقات کا حکم دیا ہے ۔ ان بچوں کو صحت کی مختلف پیچیدگیوں کے سبب مصنوعی آلۂ تنفس پر رکھا گیا تھا ۔ ڈاکٹر بی آر امبیڈکر میموریل ہاسپٹل میں گزشتہ روز تین نومولود بچوں کی موت واقع ہوئی ، جس پر برہم رشتہ داروں نے دعویٰ کیا کہ آکسیجن کی سربراہی میں بے ضابطگی کے سبب یہ واقعہ پیش آیا ۔ تاہم عہدیداران صحت نے اس الزام کی تردید کی اور دعویٰ کیا کہ مختلف وجوہات کی بناء پر یہ بچے فوت ہوئے ہیں۔ اس دوران دواخانہ میں آکسیجن سربراہ کرنے والے پلانٹ پر تعینات عملہ کے ایک ملازم کو فرائض کی انجام دہی میں غفلت پر گرفتار کرلیا گیاجو مبینہ طورپر حالت نشہ میں تھا۔ چھتیس گڑھ کے معتمد صحت سبرت ساہو نے اخباری نمائندوں سے کہاکہ ’’تین بچوں کو نومولود اطفال کے خصوصی نگہداشت یونٹ میں مصنوعی تنفس پر رکھا گیا تھا جو مختلف وجوہات کی بناء پر گزشتہ روز فوت ہوگئے ۔ ان اموات کا آکسیجن کی سربراہی میں نام نہاد خلل کا کوئی تعلق نہیں ہے ‘‘۔ انھوں نے مزید کہاکہ ’’تین کے منجملہ ایک بچہ گزشتہ روز 12:30 بجے دن پیدائشی طورپر کم وزن ہونے اور دیگر پیچیدگیوں کے سبب فوت ہوا جبکہ دوسرا بچہ تقریباً 1:30 بجے دوپہر نظام تنفس کی ناکامی اور قلب اور امراض قلب کے سبب فوت ہوا ۔ تیسرا بچہ 10 بجے شب سانس لینے میں دشواری اور دیگر عارضوں کے سبب فوت ہوا‘‘۔ معتمد صحت ساہو نے تاہم کہا کہ ہاسپٹل کا ایک ملازم روی چندرا جو گزشتہ روز دوپہر 2 بجے تا 8 بجے شب آکسیجن کی سربراہی کی ڈیوٹی پر تھا گرفتار کرلیاگیا ہے ۔ انھوں نے مزید کہاکہ ’’5 بجے شام شعبۂ اطفال میں ایک ڈاکٹر نے محسوس کیا تھا کہ اصل آکسیجن ٹائینک میں آکسیجن کی سطح کم ہوچکی ہے ۔ تاہم آکسیجن کی سربراہی میں کوئی خلل نہیں ہوا ۔ ڈاکٹروں نے فوری طورپر ڈیوٹی اسٹاف کے رکن روی چندرا کو طلب کیا لیکن اُس سے رابطہ نہ ہوسکا‘‘۔ بعد ازاں روی چندرا حالت نشہ میں پایا گیا ، اُس کے خلاف پولیس میں شکایت درج کروائی گئی اور وہ گرفتار کیا جاچکا ہے ۔ ساہو نے ادعا کیاکہ آکسیجن کی سربراہی میں کبھی کوئی خلل نہیں ہوا اور آکسیجن ذخیرے کی سطح اندرون 15 منٹ معمول کے مطابق بحال کرلی گئی ۔ انھوں نے کہاکہ کسی بھی بچہ کا تاحال پوسٹ مارٹم نہیں کیاگیا ہے ۔ چیف منسٹر نے سینئر عہدیداران صحت کو اس واقعہ کی تحقیقات کی ہدایت دی ہے۔ رمن سنگھ نے اپنے بیان میں کہاکہ ’’اس المناک واقعہ میں کسی بھی ذمہ دار کو نہیں بخشا جائیگا ‘‘ ۔ اپوزیشن جماعت کانگریس اور بچوں کے رشتہ داروں نے اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے دواخانہ کے حکام پر غفلت و لاپرواہی کا الزام عائد کیا ۔ کانگریس کے ترجمان گیانیش شرما نے الزام عائد کیا کہ حکومت آکسیجن کی سربراہی میں خلل کے سبب ہونے والی بچوں کی اموات کی پردہ پوشی کررہی ہے ۔

TOPPOPULARRECENT