Sunday , September 24 2017
Home / شہر کی خبریں / چیف منسٹر ، محکمہ اقلیتی بہبود کی کارکردگی سے غیر مطمئن

چیف منسٹر ، محکمہ اقلیتی بہبود کی کارکردگی سے غیر مطمئن

سکریٹری محکمہ کی وضاحت سے دفتر چیف منسٹر بھی ناخوش ، سکریٹری کا متولی کے خلاف ایف آئی آر واپس لینے کا اعتراف
حیدرآباد۔ 2۔ مئی  ( سیاست نیوز) محکمہ اقلیتی بہبود کی ابتر صورتحال اور وہاں جاری بے قاعدگیوں کا حکومت نے سختی سے نوٹ لیا ہے اور اس سلسلہ میں تفصیلات اکھٹا کر رہی ہے۔ باوثوق ذرائع  نے بتایا کہ چیف منسٹر کے دفتر میں اس کام کیلئے بعض عہدیداروں کو مامور کیا ہے جو اقلیتی بہبود کے تمام اداروں کے بارے میں چیف منسٹر کو رپورٹ پیش کریں گے۔ ذرائع نے اگرچہ تحقیقات کرنے والے عہدیداروں کے ناموں کے انکشاف سے گریز کیا۔ تاہم اس بات کا اشارہ دیا ہے کہ چیف منسٹر محکمہ کی کارکردگی سے خوش نہیں ہیں اور حالیہ عرصہ میں کرپشن اور بے قاعدگیوں میں اضافہ کی شکایات کے بعد رپورٹ طلب کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ گزشتہ دنوں پارٹی کے رکن قانون ساز کونسل ایم ایس پربھاکر راؤ نے اقلیتی بہبود میں جاری کرپشن اور بے قاعدگیوں کو ثابت کرنے کا چیلنج کیا تھا۔ ان کے برسر عام انکشافات کے بعد محکمہ اقلیتی بہبود میں ہلچل پیدا ہوگئی اور چیف منسٹر کے دفتر نے سکریٹری اقلیتی بہبود سے وضاحت طلب کی تھی۔ بتایا جاتا ہے کہ سکریٹری اقلیتی بہبود نے چیف منسٹر کے دفتر سے وابستہ عہدیداروں سے رجوع ہوکر اپنے موقف کی وضاحت کی۔ تاہم چیف منسٹر آفس اس وضاحت سے مطمئن نظر نہیں آتا۔ بتایا جاتا ہے کہ سکریٹری اقلیتی بہبود نے چیف سکریٹری ڈاکٹر راجیو شرما سے ملاقات کرتے ہوئے اس بات کی خواہش کی کہ انہیں اقلیتی بہبود سے کسی اور محکمہ میں منتقل کردیا جائے۔ تاہم حکومت کے فیصلہ کا انحصار عہدیداروں کی جانب سے پیش کی جانے والی رپورٹ پر ہوگا۔ بتایا جاتا ہے کہ چیف منسٹر اس بات پر ناراض ہیں کہ عہدیداروں کے درمیان آپسی اختلافات کے سبب اسکیمات پر عمل آوری متاثر ہوئی ہیں۔ مختلف گوشوں کی جانب سے چیف منسٹر کو اقلیتی بہبود کی موجودہ صورتحال سے واقف کرایا گیا ہے۔ ٹی آر ایس سے تعلق رکھنے والے عوامی نمائندوں اور قائدین نے بھی چیف منسٹر کو اقلیتی بہبود میں جاری بے قاعدگیوں کی تفصیلات بیان کیں۔ سکریٹری اقلیتی بہبود ان دنوں مختلف ٹی وی چیانلس اور واٹس اپ چیانل پر اپنے موقف کی وضاحت میں مصروف ہیں اور یہ تاثر دینے کی کوشش کر رہے ہیں کہ بے قاعدگیوں سے ان کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ عمر جلیل نے  اس بات کا اعتراف کیا کہ انہوں نے ایک متولی کے خلاف وقف بورڈ کی جانب سے دائر کردہ ایف آئی آر واپس لے لیا ہے۔ واضح رہے کہ شیخ محمد اقبال نے ایک متولی کے خلاف اوقافی اراضی پر تعمیرات اور حسابات پیش کرنے میں ناکامی پر ایف آئی آر درج کیا تھا۔ چونکہ مذکورہ متولی سکریٹری اقلیتی بہبود سے قربت رکھتا ہے ، لہذا عمر جلیل نے عہدیدار مجاز وقف بورڈ کی حیثیت سے ایف آئی آر کو واپس لے لیا لیکن اب یہ کہہ رہے ہیںکہ ایف آئی آر سے دستبرداری کے باوجود مقدمہ برقرار ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب شکایت ہی واپس لے لی گئی تو پھر مقدمہ کس طرح برقرار رہے گا۔ شیخ محمد اقبال اور جلال الدین اکبر کی جانب سے جن متولیوں کے خلاف مقدمات درج کئے گئے تھے، ان میں سے صرف ایک متولی پر عمر جلیل مہربان کیوں؟ دراصل اپنے قریبی شخص کے دباؤ اور اسے خوش کرنے کیلئے یہ قدم اٹھایا گیا جس سے دیگر متولیوں میں تشویش پائی جاتی ہے۔ وقف بورڈ کے ملازمین کا کہنا ہے کہ سکریٹری کے قریبی شخص کی مداخلت اوقافی امور میں کافی حد تک بڑھ چکی ہے اور وہ عہدیداروں کو مختلف امور میں ہدایات دے رہے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ وقف بورڈ کے عہدیداروں کو شہر کی ایک مشہور درگاہ کے متولی کے حق میں کارروائی کیلئے دباؤ بنایا جارہا ہے اور مذکورہ شخص اس درگاہ کے امور کی شخصی طور پر نگرانی کر رہا ہے کیونکہ سکریٹری کی تائید سے اپنے ایک رشتہ دار کو اس درگاہ کے متولی کی حیثیت سے فائز کرنے میں کامیابی حاصل ہوئی۔ سکریٹری اقلیتی بہبود اور مینجنگ ڈائرکٹر اقلیتی فینانس کارپوریشن کی سرپرستی اور تائید حاصل کرتے ہوئے ریٹائرڈ عہدیدار نے کچھ اس طرح سرگرمیاں کیں کہ اقلیتی بہبود کے عہدیداروں میں اختلافات اور دوریاں پیدا ہوچکی ہیں۔ عہدیداروں کا ایک دوسرے پر سے اعتماد گھٹتا دکھائی دے رہا ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ مذکورہ ریٹائرڈ شخص نے بعض عہدیداروں کی مبینہ طور پر جاسوسی کی اور ان کے فون کال ریکارڈ حاصل کرنے کی کوشش کی تاکہ اپنے سرپرستوں تک پہنچاتے ہوئے خوشنودی حاصل کی جا سکے۔ کسی بھی عہدیدار کی جاسوسی اور فون ریکارڈ حاصل کرنے کی کوشش غیر قانونی ہے لیکن اعلیٰ عہدیداروں کی سرپرستی میں یہ سب کچھ کیا گیا۔ بتایا جاتا ہے کہ اپنے پسندیدہ شخص کے بہکاوے میں آکر اعلیٰ عہدیداروں نے کئی ایسے فیصلے کئے جو دیگر عہدیداروں کیلئے نقصان کا باعث ہے۔ محکمہ کے ہر شخص کی مخالفت اور ناپسندیدہ سرگرمیوں کے باوجود ریٹائرڈ عہدیدار کو دو اعلیٰ عہدیداروں کی جانب سے سرپرستی برقرار رکھنا عوام اور ملازمین میں بحث کا موضوع بن چکا ہے۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT