Sunday , October 22 2017
Home / ہندوستان / چیف منسٹر ارونا چل پردیش سے بغاوت کی تردید

چیف منسٹر ارونا چل پردیش سے بغاوت کی تردید

ایٹانگر ۔ 16 ۔ جون : ( سیاست ڈاٹ کام ) : اروناچل پردیش میں کالیکھو پال حکومت کو عدم استحکام سے دوچار کیے جانے کی قیاس آرائیوں کی نفی کرتے ہوئے ڈپٹی چیف منسٹر چھورنامین اور دیگر 3 سینئیر ارکان اسمبلی نے آج ان اطلاعات کو مسترد کردیا کہ چیف منسٹر کے ساتھ ان کی رسہ کشی چل رہی ہے اور سماجی میڈیا پر اس طرح کی رپورٹ کی تشہیر سے سیاسی حلقوں میں ہلچل پیدا ہوگئی ہے ۔ انہوں نے ایک صحافتی بیان میں کہا کہ ایک شکایت درج کرواتے ہوئے حکومت سے درخواست کی گئی ہے کہ اس معاملہ کی سائبر کرائم برانچ کے ذریعہ تحقیقات کروائی جائے تاکہ جھوٹی افواہیں پھیلانے والوں کی نشاندہی اور اس رپورٹ کی ماخذ کا پتہ چلایا جاسکے ۔ چھوانا مین اور ارکان اسمبلی پیما کھنڈو ، مارکیوتادلو اور پاسنگ ڈی سونا جنہیں بغاوت کا اصل محرک قرار دیا گیا ۔ یہ ادعا کیا ہے کہ موجودہ حکومت کے کسی بھی گوشہ میں کوئی سیاسی بحران نہیں ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ جاریہ سال فروری میں برسر اقتدار آنے کے بعد وزراء ، پارلیمانی سکریٹریز اور ارکان اسمبلی نے حکومت کے وعدوں کی تکمیل کا عہد کیا ہے ۔ جب کہ حکومت اور پیپلز پارٹی آف ارونا چل پردیش کو عوام کا خط اعتماد حاصل ہے لیکن بعض مفادات حاصلہ خلیج پیدا کرنے کی ناکام کوشش کررہے ہیں ۔ انہوں نے بتایا کہ گذشتہ چند دنوں سے سماجی میڈیا سے یہ افواہ چلائی جارہی ہے کہ بہت جلد چیف منسٹر کو تبدیل کیا جاسکتا ہے ۔ لیکن اشرار کو مایوسی کے سواء کچھ بھی حاصل نہیں ہوگا کیوں کہ حکومت مستحکم اور چیف منسٹر کی قیادت مضبوط ہے ۔۔

TOPPOPULARRECENT