Saturday , June 24 2017
Home / شہر کی خبریں / چیف منسٹر اور محمد علی شبیر میں لفظی نوک جھونک

چیف منسٹر اور محمد علی شبیر میں لفظی نوک جھونک

کے سی آر کی رگوں میں کانگریس کا ڈی این اے دوڑنے کا دعویٰ ، قائد اپوزیشن کا بیان

حیدرآباد۔/15مارچ، ( سیاست نیوز) تلنگانہ قانون ساز کونسل میں آج چیف منسٹرکے سی آر اور قائد اپوزیشن محمد علی شبیر میں لفظی نوک جھونک ہوگئی۔ محمد علی شبیر نے کے سی آر کی رگوں میں کانگریس کا ڈی این اے دوڑنے کا دعویٰ کیا۔ چیف منسٹر نے کانگریس کو تنقید برائے تنقید کے بجائے حکومت تعمیری تجاویز پیش کرنے کا مشورہ دیا۔ چیف منسٹر نے کانگریس پر مسلمانوں کو ووٹ بینک کی طرح  استعمال کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے ٹی آر ایس کی جانب سے اقلیتوں کی ترقی و بہبود کیلئے کئے جانے والے اقدامات بالخصوص ریزیڈنشیل اسکولس کے قیام کا حوالہ دیا۔ محمد علی شبیر نے چیف منسٹر کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ کانگریس کے دور حکومت میں کاماریڈی میں 11.5 کروڑ روپئے کے مصارف سے 5 ایکر اراضی پر میناریٹی ریزیڈنشیل اسکول کے قیام کیلئے عالیشان عمارت تعمیر کرنے کا دعویٰ کیا اور اس عمارت کو ٹی آر ایس حکومت کی جانب سے کلکٹریٹ کیلئے استعمال کرنے کا الزام عائد کیا۔ چیف منسٹر کے سی آر نے کانگریس کی جانب سے عمارت تعمیر کرنے کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ کانگریس نے ظہیرآباد میں عمارت تعمیر کی ہے۔ محمد علی شبیر نے کاما ریڈی میں تعمیر کی گئی عمارت کی تصاویر اور دوسرے دستاویزات پیش کئے۔ جس پر چیف منسٹر نے نام کیلئے عمارت تعمیر کرنے کا ریمارک کیا۔ محمد علی شبیر نے پیٹلہ برج زچگی خانہ کے بستروں کی تعداد میں اضافہ کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ جب ہاسپٹل منتقل کیا گیا تھا تب پولیس کی تین ایک اراضی دینے سے بھی اتفاق کیا گیا تھا، وہ اراضی حاصل کرتے ہوئے نیا بلاک تعمیر کرنے پر زور دیا۔ چیف منسٹر نے کہا کہ شہر میں نمس کے طرز پر تین ہاسپٹلس تعمیر کرنے کیلئے اراضیات کی نشاندہی کرلی گئی ہے اور بہت جلد تعمیری کاموں کا آغاز ہوجائے گا۔ چیف منسٹر نے کانگریس کے بشمول دوسری اپوزیشن جماعتوں پر حکومت سے انتقامی اور تنقید برائے تنقید کی پالیسی ترک کرتے ہوئے تعمیری تجاویز پیش کرنے کا مشورہ دیا اور کہا کہ انتخابات کیلئے مزید 27 ماہ درکار ہیں تب تک اپوزیشن جماعتیں صبر و تحمل کا مظاہرہ کریں۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT