Monday , October 23 2017
Home / شہر کی خبریں / چیف منسٹر تلنگانہ و سربراہ ٹی آر ایس ’’سیاسی دہشت گرد‘‘

چیف منسٹر تلنگانہ و سربراہ ٹی آر ایس ’’سیاسی دہشت گرد‘‘

جمہوریت کیلئے خطرہ، مجلس کے خلاف صف آرائی کا اعلان، ملو بٹی وکرامارک

حیدرآباد ۔ 9 جنوری (سیاست نیوز) ورکنگ پریسیڈنٹ تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی ملوبٹی وکرامارک نے سربراہ ٹی آر ایس و چیف منسٹر تلنگانہ مسٹر کے چندرشیکھر راؤ کو ’’سیاسی دہشت گرد‘‘ قرار دیتے ہوئے ٹی آر ایس کی سیاسی دہشت گردی کو جمہوریت کیلئے خطرہ قرار دیا۔ پرانے شہر کے کانگریس قائدین کو مجلس کے خلاف صف آرائی کیلئے تیار رہنے کا مشورہ دیا۔ آج گاندھی بھون میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ملو بٹی وکرامارک نے کہا کہ آبپاشی پراجکٹس کی تعمیرات میں بڑے پیمانے پر بدعنوانیاں کرتے ہوئے ٹی آر ایس دوسری جماعتوں سے منتخب نمائندوں کو لالچ دیتے ہوئے ٹی آر ایس میں شامل کرتے ہوئے سیاسی دہشت گردی کو فروغ دے رہی ہے اور اس دہشت گردی کے چیف منسٹر تلنگانہ کے سی آر کمانڈر کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے ہیں۔ سرکاری مشنری، دولت کے علاوہ اقتدار کا بیجا استعمال کرتے ہوئے حکمران ٹی آر ایس سیاسی ماحول پر غالب ہونے کی کوشش کررہی ہے، جس کی وجہ سے سیاسی جماعتوں کو گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن کا انتخاب آزادانہ و منصفانہ انداز میں منعقد ہونے کا امکان نہیں ہے۔ کانگریس پارٹی انتخاب کیلئے پوری طرح تیار ہے اور ساتھ ہی ہم خیال جماعتوں سے سیاسی اتحاد کرنے کیلئے کانگریس کے دروازے کھلے ہیں۔ اگر کوئی جماعت کانگریس سے اتحاد کرنے کیلئے تیار ہے تو کانگریس بھی اس کی پیشکش پر غور کرنے کیلئے تیار ہے۔ پرانے شہر میں کانگریس کے مقابلے کیلئے پارٹی قائدین میں پائی جانے والی الجھن انتخابات کے بعد پارٹی قیادت سے تعاون نہ ملنے کی شکایتوں کے بارے میں پوچھے گئے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ کانگریس پارٹی کا مجلس سے کوئی تعلق نہیں ہے اور نہ ہی مستقبل میں کوئی اتحاد ہوگا۔ کانگریس پارٹی گریٹر حیدرآباد میں تنہا مقابلہ کررہی ہے۔ پرانے شہر میں کانگریس کے قائدین کو خوفزدہ یا الجھن کا شکار رہنے کی ضرورت نہیں ہے۔ کانگریس پارٹی پرانے شہر سے اپنے امیدوار کھڑا کرنے کے علاوہ ان کی کامیابی کیلئے انتخابی مہم چلائے گی اور پارٹی کے اہم سینئر قائدین پرانے شہر کی انتخابی مہم میں حصہ بھی لیں گے۔ انہوں نے بلدی حلقوں کی ازسرنو حدبندی اور ریزرویشن کے عمل کو یکطرفہ فیصلہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کا اعلان کرنے سے قبل انتخابی قواعد پر عمل نہیں کیا گیا جملہ رائے دہندوں کی تعداد کے علاوہ اس میں ایس سی، ایس ٹی، بی سی اور خواتین رائے دہندوں کی کتنی تعداد ہے اس کا اعلان نہیں کیا گیا۔ ریزرویشن کا اعلان کرنے کے صرف ایک گھنٹہ بعد انتخابی شیڈول جاری کردیا گیا۔ اس عمل پر اعتراضات کرنے کا کوئی موقع بھی نہیں دیا گیا۔ کانگریس پارٹی ریزرویشن عمل کا جائزہ لے رہی ہے۔ ضرورت پڑنے پر ناانصافی کے خلاف عدلیہ سے رجوع ہونے پر بھی غور کررہی ہے۔ کانگریس کے انتخابی منشور کا 2 تا 4 دن میں اعلان کردیا جائے گا۔ سیٹلرس کے ووٹ حاصل کرنے کیلئے ٹی آر ایس گرگٹ کی طرح رنگ بدل رہی ہے۔ تاہم شہر کے عوام بے قاعدگیوں، بدعنوانیوں میں ملوث رہنے والی حکمران ٹی آر ایس کو سبق سکھائیں گے۔

TOPPOPULARRECENT