Wednesday , October 18 2017
Home / شہر کی خبریں / چیف منسٹر تلنگانہ کا دورۂ چین: ’’روم جل رہا تھا، نیرو بانسری بجا رہا تھا‘‘ کے مترادف

چیف منسٹر تلنگانہ کا دورۂ چین: ’’روم جل رہا تھا، نیرو بانسری بجا رہا تھا‘‘ کے مترادف

علحدہ ریاست کا قیام کانگریس کا کارنامہ، ٹی آر ایس کی کار کردگی سے عوام مایوس: پونم پربھاکر
حیدرآباد /9 ستمبر (سیاست نیوز) عوامی مسائل کو نظرانداز کرکے چیف منسٹر تلنگانہ کا دورۂ چین ’’روم جل رہا تھا اور نیرو بانسری بجا رہا تھا‘‘ کے مترادف ہے۔ آج گاندھی بھون پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کانگریس کے سابق رکن پارلیمنٹ پونم پربھاکر نے ان خیالات کا اظہار کیا۔ اس موقع پر سابق ریاستی وزیر ڈی سریدھر بابو اور دیگر کانگریس قائدین بھی موجود تھے۔ انھوں نے کہا کہ متحدہ آندھرا پردیش میں تلنگانہ کے مسائل حل نہ ہونے کی شکایت اور اس کے خلاف شروع کردہ تحریک کا احترام کرتے ہوئے صدر کانگریس سونیا گاندھی نے علحدہ ریاست تشکیل دی، تاہم نئی ریاست میں پہلی حکومت تشکیل دینے والے ٹی آر ایس سربراہ کے چندر شیکھر راؤ کے پاس ریاست کی ترقی اور غریب عوام کی فلاح و بہبود کا کوئی منصوبہ اور حکمت عملی نہیں ہے۔ انھوں نے کہا کہ تلنگانہ کے عوام مشکلات سے دوچار ہیں، کسانوں کے قرضہ جات معاف کرنے کا ٹی آر ایس حکومت نے وعدہ کیا تھا، تاہم قسطوں کی اساس پر بینکوں کو قرض ادا کرنے کی وجہ سے اس کو قرض کی ادائیگی کی بجائے سود اور فصلوں کا انشورنس شمار کر رہی ہے، جس کی وجہ سے کسانوں کو نئے قرضہ جات حاصل نہیں ہو رہے ہیں اور مایوس کسان بڑے پیمانے پر خودکشی کر رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ اشیائے ضروریہ قیمتیں آسمان چھو رہی ہیں، غریب عوام کی آمدنی میں کوئی اضافہ نہیں ہو رہا ہے، مگر اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ کے سبب اخراجات بڑھ رہے ہیں۔ انھوں نے قیمتوں پر کنٹرول نہ کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ عوام کی امیدوں پر پانی پھیر کر ٹی آر ایس حکومت کے سی آر کے ارکان خاندان کے ارد گرد گھوم رہی ہے، جب کہ چیف منسٹر عوامی مفاد کو نظرانداز کرکے خاندانی مفاد کو ترجیح دے رہے ہیں، جس کی کانگریس پارٹی سخت مذم

TOPPOPULARRECENT