Monday , May 29 2017
Home / شہر کی خبریں / چیف منسٹر تلنگانہ کے سی آر سیکولر اور اقلیت دوست قائد

چیف منسٹر تلنگانہ کے سی آر سیکولر اور اقلیت دوست قائد

اقامتی اسکولس عظیم کارنامہ ، اقلیتوں میں جوش و خروش ، ارشد علی خاں کا بیان
حیدرآباد۔13 فبروری (سیاست نیوز) تلنگانہ کے اقلیتی اقامتی اسکولس میں داخلوں کے لیے اقلیتی خاندانوں میں غیر معمولی جوش و خروش دیکھا جارہا ہے اور اس اسکیم کا مقصد اقلیتی طلبہ کو زیور تعلیم سے آراستہ کرتے ہوئے پسماندگی کا خاتمہ کرنا ہے۔ ٹی آر ایس کے سینئر قائد ارشد علی خان نے اقامتی اسکولس کے قیام پر چیف منسٹر کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ تعلیم کے ذریعہ ہی کسی بھی قوم کی معاشی ترقی ممکن ہے۔ یہی وجہ ہے کہ چیف منسٹر نے ریاست میں 201 اقلیتی اقامتی اسکولس کے قیام کا فیصلہ کیا ہے جو ان کی اقلیت دوستی کا ثبوت ہے۔ انہوں نے کہا کہ دو سال میں 201 اقامتی اسکولس کا قیام کسی کارنامہ سے کم نہیں۔ ہندوستان کی کسی بھی ریاست میں اقلیتوں کے لیے اس قدر بڑی تعداد میں اقامتی اسکولس قائم نہیں کئے گئے۔ ارشد علی خان نے کہا کہ گزشتہ سال 71 اقامتی اسکولس قائم کئے گئے جن میں تقریباً 15 ہزار طلبہ و طالبات کارپوریٹ طرز کی تعلیم حاصل کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے تمام تر سہولتیں مفت فراہم کرنے کے علاوہ ہر ایک طالب علم پر حکومت 80 ہزار روپئے خرچ کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کے جی تا پی جی مفت تعلیم کے وعدے کے مطابق اقامتی اسکولس قائم کئے جارہے ہیں تاکہ انگلش میڈیم میں اقلیتی طلبہ و طالبات بہتر تعلیم حاصل کرسکیں جس سے ان کا مستقبل روشن ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ اقلیتوں کو اس سہولت سے بھرپور استفادہ کرتے ہوئے داخلوں کے سلسلہ میں پیشرفت کرنی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ اقلیتوں کی تعلیمی پسماندگی کا اعتراف سدھیر کمیشن نے بھی کیا ہے اور کمیشن نے اقامتی اسکولس کے قیام کا خیرمقدم کیا۔ انہوں نے کہا کہ جون سے 130 نئے اقامتی اسکولس میں تعلیم کا آغاز ہوگا۔ حکومت نے ماہر اور قابل اساتذہ کی فراہمی کے لیے پبلک سرویس کمیشن کے ذریعہ تقررات کا عمل شروع کیا ہے۔ ارشد علی خان نے کہا کہ شہر اور اضلاع سے تعلق رکھنے والے اقلیتی خاندانوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے بچوں کو ان مدارس میں شریک کرتے ہوئے اپنی ذمہ داری نبھائیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے عصری اور کارپوریٹ طرز کی تعلیم کی فراہمی اقلیتوں کے لیے کسی تحفے سے کم نہیں۔ چیف منسٹر نے انتہائی دوراندیشی کے ساتھ اقامتی اسکولس کے قیام کا فیصلہ کیا ہے جس سے آئندہ چند برسوں میں نہ صرف تعلیمی بلکہ معاشی ترقی ممکن ہوپائے گی۔ ارشد علی خان نے ٹی آر ایس سے تعلق رکھنے والے قائدین سے بھی اپیل کی کہ وہ اسکیم کی کامیابی کے لیے اہم رول ادا کریں اور اقلیتوں میں اقامتی اسکولس کے بارے میں شعور بیدار کریں۔ انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر کے چندر شیکھر رائو حقیقی معنوں میں سکیولر اور اقلیت دوست قائد ہیں جنہوں نے انتخابی وعدوں کی نہ صرف تکمیل کی بلکہ کئی نئی اسکیمات کا آغاز کیا۔ انہوں نے کہا کہ شادی مبارک، اوورسیز اسکالرشپ اسکیم، ائمہ اور موذنین کے لیے ماہانہ اعزازیہ اور اقامتی اسکولس کے قیام کے ذریعہ چیف منسٹر نے یہ ثابت کردیا کہ حکومت اقلیتوں کی ترقی کے سلسلہ میں سنجیدہ ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ اقامتی اسکولس کی اسکیم نہ صرف کامیاب ہوگی بلکہ اس سے ہر سال 50 ہزار سے زائد اقلیتی طلبہ کو فائدہ ہوگا۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT