Friday , September 22 2017
Home / شہر کی خبریں / چیف منسٹر تلنگانہ کے سی آر پر تحفظات مسئلہ پر دھوکہ دینے کا الزام

چیف منسٹر تلنگانہ کے سی آر پر تحفظات مسئلہ پر دھوکہ دینے کا الزام

4 فیصد تحفظات پر ٹی آر ایس کی دعویداری مسترد ، محمد علی شبیر قائد تلنگانہ کونسل کا ردعمل
حیدرآباد۔18 نومبر (سیاست نیوز) تلنگانہ قانون ساز کونسل میں قائد اپوزیشن محمد علی شبیر نے چیف منسٹر کے چندر شیکھررائو پر تحفظات کے مسئلہ میں مسلمانوں سے دھوکہ دہی کا الزام عائد کیا۔ انہوں نے کانگریس حکومت کی جانب سے فراہم کردہ 4 فیصد تحفظات پر ٹی آر ایس کی دعوے داری کو مسترد کرتے ہوئے اس سلسلہ میں چیف منسٹر کو کھلے مباحث کا چیلنج کیا۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ چیف منسٹر نے انتخابی مہم کے دوران اقتدار کے چار ماہ میں 12 فیصد تحفظات فراہم کرنے کا ایک سے زائد مقامات پر وعدہ کیا تھا۔ لیکن اقتدار ملتے ہی وہ اس وعدے کو بھول گئے۔ حکومت نے تحفظات پر عمل آوری کے لئے بی سی کمیشن کی تشکیل کے بجائے سدھیر کمیشن قائم کیا جس نے مسلمانوں کی تعلیمی اور معاشی صورتحال پر رپورٹ پیش کی۔ سدھیر کمیشن نے 9 تا 12 فیصد تحفظات کی سفارش کی ہے۔ اس رپورٹ کو ابھی تک اسمبلی میں پیش نہیں کیا گیا اور نہ ہی نوتشکیل شدہ بی سی کمیشن کے حوالے کیا گیا۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ اگر چیف منسٹر مسلمانوں کو تحفظات کی فراہمی کے معاملہ میں سنجیدہ ہوتے تو بی سی کمیشن سے مسلمانوں کے تحفظات کے بارے میں رائے حاصل کی جاتی۔ حکومت نے ابھی تک بی سی کمیشن کو مسلم تحفظات کا مسئلہ رجوع نہیں کیا ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ چندر شیکھر رائو کسی طرح اس مسئلہ کو 2019ء کے انتخابات تک ٹالنا چاہتے ہیں۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ چندر شیکھر رائو مسلمانوں سے زبانی ہمدردی پر یقین رکھتے ہیں اور عملی طور پر حکومت کے اقدامات کے سی آر کے دعوئوں کے برخلاف ہیں۔ اقلیتوں کے لئے مختلف ا سکیمات کا اعلان کیا گیا لیکن بجٹ کی عدم اجرائی کے سبب اسکیمات ٹھپ ہوچکی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جاریہ مالیاتی سال اقلیتی بہبود کے لئے 1200 کروڑ مختص کئے گئے تھے لیکن ابھی تک صرف 270 کروڑ روپئے ہی خرچ کئے گئے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ حکومت اقلیتوں کے ساتھ صرف زبانی جمع خرچ سے کام لے رہی ہے۔ گزشتہ دنوں اردو اساتذہ اور طلبہ کو ایوارڈس کی پیشکشی کی تقریب میں ڈپٹی چیف منسٹر محمود علی کی جانب سے کانگریس کے 4 فیصد تحفظات کو ٹی آر ایس کی مرہون منت قرار دینے پر تبصرہ کرتے ہوئے محمد علی شبیر نے کہا کہ ڈپٹی چیف منسٹر کا یہ دعوی مضحکہ خیز اور حقائق سے بعید ہے۔ اگر چیف منسٹر اس طرح کا دعوی کرتے تو وہ انہیں کھلے مباحث کا چیلنج کرتے۔ جہاں تک ڈپٹی چیف منسٹر کا تعلق ہے وہ حقائق سے لاعلم اور چیف منسٹر کی تعریف و توصیف کے لئے مجبور ہیں۔ لہٰذا وہ ان کی بات کو اہمیت دینا نہیں چاہتے۔ انہوں نے کہا کہ اگر کوئی حکومت کا ذمہ دار شخص اس طرح کا دعوی کرے تو کانگریس اس کا جواب دے گی۔ جس شخص کو خود اپنے محکمہ کی معلومات نہیں وہ کانگریس اور ٹی آر ایس کے معاہدے کے وقت کی تفصیلات کس طرح ظاہر کرسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 2004ء میں جس وقت غلام نبی آزاد ٹی آر ایس سے انتخابی مفاہمت سے بات چیت کے لئے کے سی آر سے ملاقات کررہے تھے اس وقت محمود علی وہاں وجود نہیں تھے۔ محمد علی شبیر اس گفتگو میں شریک تھے اور کسی بھی موقع پر کے سی آر نے تحفظات کا مطالبہ نہیں کیا۔ محمد علی شبیر نے بتایا کہ 2004ء میں کانگریس نے ٹی آر ایس کے لئے 56 اسمبلی نشستیں الاٹ کی تھیں اور اسے 26 نشستوں پر کامیابی حاصل ہوئی تھی۔ 2009ء میں ٹی آر ایس نے تلگودیشم سے انتخابی مفاہمت کی اور 56 نشستوں پر مقابلہ کیا لیکن صرف 10 نشستوں پر کامیابی حاصل ہوئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ آج بھی برسر اقتدار پارٹی کی مقبولیت تیزی سے گھٹ رہی ہے۔ 2019ء میں کانگریس پارٹی کے دوبارہ برسر اقتدار آنے کے امکانات روشن ہیں۔

TOPPOPULARRECENT